صاحبزادہ گروپ کا انداز سیاست رانا امتیاز احمد خان صاحبزادہ غالب سلطان اور مستقبل کا منظر نامہ

۔

تحریر علی امجد چوہدری

رانا امتیاز احمد خان امیدوار صوبائی اسمبلی رانا شہباز احمد خان کے بڑے بھائی تو ہیں ہی مگر یہ تحصیل ہیڈ کوارٹر احمد پور سیال کی مقبول ترین شخصیت بھی رہے ہیں یہ سمندوانہ اور احمد پور سیال کے ناظم رہ چکے ہیں جنرل مشرف کے دور حکومت میں احمد پور سیال اور سمندوانہ کی نظامت بیک وقت رانا صاحبان کے پاس رہی رانا امتیاز احمد خان شہر اور رانا جہانزیب علی خان سمندوانہ کے بیک وقت ناظم رہے ان کا خاندان بھی یہاں رہائش پذیر نہیں ہے یہ تین ووٹ ہی شاید یہاں رکھتے تھے دھیرے دھیرے ان کے گرد مصبوط ووٹ بنک تو مجتمع ہوا ہی تھا مگر اس کے ساتھ ان کے گرد ان سے محبت کرنے والے خدائی فوجداروں کی ایک بڑی تعداد اکٹھی ہوگئی تھی یہ خدائی فوجدار ان کے پہریدار بھی تھے اور ان کا ہراول دستہ یہ خدائی فوجدار چند منٹس کے نوٹس پر بھی ان کے گرد اکٹھے ہوجاتے تھے 2013 کے عام انتخابات میں رانا شہباز احمد خان پر نامدار سیال پولنگ اسٹیشن پر حملہ ہوا تو یہ چند منٹ میں رانا شہباز احمد کو ریسکیو کرنے پہنچ گئے اور حملہ آوروں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا یہ خدائی فوجدار گولیوں کی بوچھاڑ میں حملہ آوروں پر حملہ آور ہوگئے یہی وہ خدائی فوجدار تھے جو رانا شہباز احمد خان کے صاحبزادہ گروپ کے ساتھ اتحاد کا سبب بنے کیونکہ 2013 سے ایک دو سال قبل جب مرحوم نجف عباس خان سیال اور صاحبزادہ محبوب سلطان کے اختلافات شدت اختیار کر گئے تو مرحوم نجف عباس خان سیال کے احترام یا خوف کی وجہ سے صاحبزادگان کو رہسیو کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا تھا صاحبزادہ محبوب سلطان ان خدائی فوجداروں کو رانا عطاء اللہ خان کے ہمراہ 2002 اور 2008 کے عام انتخابات میں دیکھ چکے تھے وہ ان کی بہادری کے قائل تھے اس لیئے صاحبزادہ گروپ کا رحجان رانا شہباز کی طرف ہو گیا صاحبزادہ گروپ کو خدائی فوجدار مل گئے پولنگ ایجنٹس سے لے کر ووٹ کے پہرے کے فرائض انہوں نے ہی سرانجام دیئے اور صاحبزادہ گروپ کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے مرحوم نجف عباس خان کو ان کے زاتی پولنگ اسٹیشن پر بھی شکست دے دی 2018 میں یہ خدائی فوجدار ذیادہ تر صاحبزادہ امیر سلطان کی بجائے مولانا آصف معاویہ سیال اور رانا شہباز احمد کے پلڑے میں تھے اس دوران رانا امتیاز احمد خان نے اپنے تیئں پوری کوشش کی کہ یہ خدائی فوجدار صاحبزادہ امیر سلطان کے پلڑے میں رہیں مگر ایسا نہ ہوسکا 2018 کے انتخابات کے بعد یہ خدائی فوجدار رانا شہباز احمد خان کے ڈیرے پر پہنچے تو قدرے بے اعتنائی ان کی منتظر تھی اگلے پانچ سال بڑی کشکمش میں گزرے رانا امتیاز احمد خان صاحبزادہ امیر سلطان کی ہمدردی میں ان خدائی فوجداروں کو مسلسل نظر انداز کرتے رہے مگر صاحبزادہ گروپ میں پھر بھی مشکوک رہے
تحریر کی طوالت کی وجہ سے پارٹ 2 صبح انشاء اللہ
علی امجد چوہدری