اردوادب کی فکری پرواز۔
۔،ارم ناز ،۔۔۔۔
۔تحریر۔۔۔گل بخشالوی۔۔۔۔۔
فن اور شخصیت مطلب خا کہ نگاری ایک ایسی صنف ہے جس میں کسی شخص کے حقیقی خدوخال قارئین کے سامنے رکھے جاتے ہیں۔ خاکہ نگاری میں ایک جیتی جاگتی حقیقی شخصیت کی دلکش اور دلچسپ پیرائے میں تصویر کشی ہوتی ہے۔ کسی شخصیت کے علمی اور قلمی کردار پر قلم اٹھانے والا خاکہ نگار واقعات ومشاہدات کے ساتھ ساتھ اپنے تاثرات و قیاسات کو بھی شامل کرتا ہے۔ کسی ایسی شخصیت کے حسن ِ کمال ، حسنِ جمال ، حسن کردار ، حسن اخلاق اور حسن ِگفتار پر قلم اٹھانا مشکل ہو تا ہے ، جس سے با لمشافہ ملاقات نہ ہو۔ معاشرتی زندگی میں جس کے ساتھ زندگی کے کچھ لمحا ت نہ گزارے ہوں ، جس کے ساتھ کھبی مل کر ایک کپ چائے پینے کا لطف نہ اٹھایا ہو ، جسے دیکھا اور پرکھا نہ ہو ، لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی آواز میں اپنی خوش گفتاری سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں قلم دوستوں کے حسن عمل کو اس کی تحریر اور حسن ذوق کو اس کی سخنوری میں سوچا جاتا ہے کہ وہ اپنے فکر وخیال میں کس مقام پر ہے
قلم قافلہ کھاریاں ایک عالمی ادبی تنظیم ہے گزشتہ چالس سال سے میرا رابطہ جہاں بھر کے اردو دوستوں سے ہے ، میں انہیں ان کے کلام میں پڑھتا بھی ہوں ، اور ان کے مزاج سخن سے مستفید بھی ہوتا ہوں ، ادب دوستی کے حوالے سے ہم ایک دوسرے کے لئے قابل ِ احترام ہیں ، ان قلم دوستوں میں ایک ارم ناز بھی ہیں ۔ وہ کہتی بھی ہیں لکھتی بھی ہیں ، اور جب بولتی ہیں تو اس کی آواز میں مجھے میری بیٹی لگنے لگتی ہیں ،، ارم ناز کی خواہش تھی کہ میں ان کی غزلوں، نظموں، منتخب اشعار، اور نثر پاروں پر مشتمل مجموعہ ،، تیرے تصور میں گم ہوئے ایسے ،،، کے لئے کچھ لکھوں ، تو مجھے خوشی ہوئی اس لئے کہ بیٹیوں کے حقوق کو میں جانتا ہوں ، میری ایک بیٹی ہے نورین جو میری بیٹی کم اور دوست زیادہ ہیں ، اس لئے میں ارم ناز کی کتاب کے لئے کچھ لکھنے سے انکار نہیں کر سکا ، اور جو جی میں آیا لکھ دیا ،
جھنگ کی ممتاز ادیبہ شاعرہ ، آرٹسٹ اورکالم نگار ”ارم ناز“ کابل کندھار کے بابی خیل پختون قبیلے اور علمی گھرانے کی تعلیم یافتہ خاتون ہیں آپ کے نانا جان احمد نوازفارسی کے ممتازشاعر اور کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے آپ نے اپنے دست ِ مبارک سے بقلم خود قرآن مجیدلکھا جو کہ اس خاندان کے لئے بڑا اعزاز ہے ۔ جھنگ کے بلال زبیری نے اس خاندان کے بزرگ عین الحق کی کتاب ان کی وفات کے بعد شائع کی اور بلال زبیری کی تخلیق ، تذکرہ اولیا ¾ء”سروش ِ حیرت “ میں ارم ناز کے بزرگوں کا تذکرہ بھی ہے
، ارم ناز ،واصف علی واصف کی تحریرو ں کی شیدائی ہیں نثر میں انہیں اپنا استاد مانتی ہیں اور نثر میں وہ بہت خوب لکھتی ہیں، شاعری چونکہ ان کے خاندانی خون میں شامل ہے اس لئے مختلف شعراءکا کلام پڑھتے پڑھتے ارم کو بھی شاعری کا شوق ہوا اور شا عری میں اپنے تخلص ناز سے ” ارم ناز “ہوگئیں ، کہتی ہیں سید قمر عباس ہمدانی ، انصر رشید انصر اور نعیم جاوید کی حوصلہ افزائی نے میری شاعری ذوق میں رنگ بھر دیئے
ارم ناز کہتی ہیں میٹرک تک میرے وا لدین میرے راہنما تھے لیکن ان کی وفات کے بعد جو کچھ بھی حاصل کیا ، اللہ پاک کی رحمت سے حاصل کیا میری زندگی کا مثبت پہلو جس نے بہت سی مشکلات کے باوجود بھی مجھے جوڑے رکھا مجھے ٹوٹنے نہیں دیا وہ میری جہد ِ مسلسل اور اللہ پر توکل اور میری خود اعتمادی ہے آج اگر میں زندگی کا حسن جی رہی ہوں تو یہ مجھے میرے رب کی عطا ہے اور میری زندگی کی سب سے خوبصورت عطا رمضان المبارک میں عمرہ کی سعادت ہے
ارم ناز کی شاعری گو کہ ابھی بچپن میں کھیل رہی ہے لیکن فکرو خیال میں جوانی کی دہلیز پر ہے ، البتہ کالم نویسی ، معاشرتی زندگی کے طواف میں خوب ہے ، ار م ناز کے دو کالموں سے اقتباس میں قاری ارم ناز کے فکری پرواز کو پرکھ سکتا ہے ، کہ وہ کیا سوچتی ہیں اور سوچ کر جو لکھتی ہیں کیسا لکھتی ہیں
حکمت اللہ کی عطا ہے۔۔وہ علم جو ذہن کا content ہے۔۔وہ حکمت نہیں ہے۔۔وہ علم جو پورے وجود میں تحلیل کر جائے حکمت ہے۔۔حکمت غورو فکر اور تدبر سے ممکن ہوتا ہے۔ علم پر جب ہم غورو فکر کریں تو ایسا کہ وہ ہمارے پورے وجود ، ہماری کیفیت ہمارے قلب تک پہنچ جائے۔ حکمت کا تعلق دنیاوی علم سے نہیں شعوری علم سے ہے ،ڈگری میں حکمت نہیں ہوتی۔ بابا بلے شاہ ، وارث شاہ شیکسپیئر رومی راضی البیرونی کے پاس کوئی ڈگری نہیں تھی۔ ۔اقبال کا اصل فلسفہ بھی کچھ اور ہے۔۔حکمت ایک ایسی چیز ہے۔ جو پہچان دیتی ہے۔ در اصل کسی چیز کے اصل تک پہنچنے کا نام حکمت ہے۔
۔۔۔۔۔۔ آج ہر گھر میں ایک ہی موضوع زیرِ بحث ہے کہ بچہ بگڑ گیا ہے ضدی ہو گیا ہے کہنا نہیں مانتا جب کہ ہمارے بچپن میں تو ہم والد کے قدموں کی آہٹ سے ہی ڈر جاتے تھے۔ باادب تھے۔ حالانکہ ہمارے والدین اتنے پڑھے لکھے بھی نہیں تھے۔ دور حاضر میں بچوں کی نافرمانی کے ذمہ دار آجکل کے والدین ہیں۔۔۔جو اس طرح ذمہ داری نہیں نبھا رہے جس طرح پرانے دور کے ماں اور باپ نبھاتے تھے آجکل کی ماں۔۔ مما اور باپ ، پاپا یا ڈیڈی یا موم ڈیڈ بن گئے ۔ بچوں کی تربیت کا وقت سات سال کی عمر تک ختم ہو جاتا ہے ۔سات سال تک بچہ والدین کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔ اور صحیح اور غلط کے لئے اس کا فلٹر اس کا والدین ہوتا ہے۔ والدین نے اپنے بچوں کو صرف گھر تک نہیں۔ پوری کائنات کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے۔ غیر متوقع حالات کے لئے تیار کرنے کے لئے علم کی بنیاد ہونا ضروری ہے۔تاکہ وہ آنے والے حالات سے نمٹ سکے۔۔جب بچہ تھوڑا سا بڑا ہو جائے اس کے سامنے زندگی کے ہر موضوع کو زیرِ بحث لائیں۔ اسے زندگی اور موت کی حقیقت کے بارے میں بھی بتائیں۔۔رشتوں کو کیسے نبھانا ہے۔۔۔حقوق العباد حقوق اللہ کا کیا مقصد ہے
دعا ہے کہ ہماری ممتاز شاعر ہ اور ادیبہ بیٹی ارم ناز دنیائے اردو ادب کی پہچان بن جائے










