آئی جی پنجاب کے نام کھلا خط
تحریر یاسر وقار شاہ خانیوال
کبیروالا میں امن وامان کی بگڑتی صورتحال. قتل و عدم قتل اغواء چوری ڈکیتی بھتہ خوری لوٹ مار اور فائرنگ کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہورہا آپکے تھانوں سیاسی پشت پناہی پروان چڑی رہی ہے جسکی بناء پر رٹ قائم نہ ہونیکے برابر ہے
قتل کو اقدام قتل،ڈکیتی کو چوری اور چوری کو معمولی دفعات لگانا لڑائی جھگڑے کےلئے ایم ایل سی کےلئے تجربہ کار ٹیم موجود ہے
کبیروالا دھیمے دھیمے بربادی کی طرف چل پڑا ہے اور سب کو نظر آرہا ہے لیکن نظر نہیں آرہا تو اپکے
تھانوں موجود ایس ایچ اوز کو
گزشتہ روز تھانہ نواں شہر کے علاقہ چراغ بیلہ میں سردار پور کی رہائشی 18 سالہ رابعہ بتول اور سردار پور کے رہائشی 25 سالہ مبشر ارشاد باہمی رضامندی سے پسند کی شادی کرنا چاہتے تھے جس پر دونوں خاندانوں کے درمیاں کچھ عرصہ قبل رشتہ طے ہوا۔ شادی سے قبل دلہن والوں کی جانب سے شرط شرائط طے کرنے کے لیے لڑکی کے والد ربنواز نے مبشر ارشاد کو بذریعہ فون کال اپنے گھر بلوایا،ذرائع کے مطابق مبشر ارشاد اپنے قریبی عزیزوں کے ہمراہ رابعہ بتول کے گھر پہنچ گیا کھانا کھانے کے بعد رابعہ کے والد ربنواز اور رابعہ کے چچا ریاض سے شرط شرائط طے ہونے کے دوران مبشر ارشاد کی تلخ کلامی ہوئی،جس پر رابعہ کے والد اور چچا ریاض جو کہ جرائم پیشہ شخص درجنوں مقدمات ملوث ہے مبشر سے دست و گربان ہوگئے۔ اسی اثناء میں ربنواز نے مبشر ارشاد کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ مبشر کے قتل کے فوری بعد ریاض نے اپنی 18 سالہ بھتیجی رابعہ کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ساتھ جانے والے جائے وقوع اپنی جان بچا کر نکل آئے ۔۔اطلاع ملتے ہی پولیس تھانہ نواں شہر موقع پر پہنچ کر دونوں نعشوں کو تحویل میں لے کر الٹا مقتول کے خلاف مقدمہ نمبر 160/24 بجرم 302 کے تحت درج کیا اس میں موقف اختیار کیا گیا کہ مقتول اپنی منگیتر کو فائرنگ کرکے خود کو گولی مار لی۔
حالانکہ پولیس کے پاس کوئی ایسا ثبوت نہیں تھا جسکی بناء مقدمہ درجہ کیا گیا قتل کا مقدمہ بہت بڑا حساس ہوتا پوسٹمارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے بعد درج کیا جاتا ہے نجانے پولیس کو اتنی کیا جلدی تھی انہوں نے گھنٹوں میں مقدمہ درج کرلیا دوسری جانب پوسٹ مارٹم رپورٹ ہوئی تو اسمیں پولیس تھانہ نواں شہر کی دیانتداری پول کھول دیا پوسٹمارٹم رپورٹ باقاعدہ عقب سے فائرنگ کی گئی جس سے مقتول موت واقع ہوئی، مقتول کے جسم پر جگہ جگہ پر تشدد کے نشانہ تھے اسکے باوجود پولیس مقدمہ درج کرنے سے انکاری ہے
پولیس کی موجودگی میں جسطرح مقتول نعش کے ساتھ بے حرمتی کی گئی قلم لکھنے سے عاری ہے ہاتھ کانپ رہے الفاظ ساتھ نہیں دے رہے۔نجانے پولیس جانبداری کا مظاہر کیوں کیا ۔۔۔جناب عالی آپکی
معاشرے میں پولیس مقام کھو چکی ہے روزانہ نواں شہر سمیت ضلع بھر کئی مبشر کے قتل چھپایا جاتا ہے اسمیں سیاست سمیت زر کا کمال ہوتا ہے
اس وقت سوشل میڈیا سمیت صحافی سماجی مذہبی حلقوں میں پولیس کاکردگی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے؟
مظلوم خاندان آپ سے دادرسی کی اپیل کر رہا ہے اس کی باقاعدہ میرٹ پر تفتیش کرکے مظلوم خاندان کو انصاف کیا جائے۔
انویسٹی گیشن رپورٹ۔سینئر صحافی .یاسر وقار شاہ










