تھانہ احمد پورسیال میں ڈکیتی کی واردات، ڈی پی او محمد راشد ہدایت موقع پر پہنچ گئے ڈاکوؤں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے گا ڈی پی او جھنگ

احمدپورسیال ( ملک سیف اللہ صدیقی کھوکھر ) علاقہ تھانہ احمد پورسیال میں ڈکیتی کی واردات، ڈی پی او محمد راشد ہدایت موقع پر پہنچ گئے۔تفصیلات کے مطابق علاقہ تھانہ احمد پورسیال میں ڈکیتی کی واردات ہوئی جس میں چھ کس نامعلوم مسلح افراد نے مہر غلام قاسم سرگانہ شہری سے کار اور نقدی چھین کر فرار ہوئے۔ڈی پی او محمد راشد ہدایت جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے ڈی ایس پی احمدپورسیال کی زیر نگرانی ٹیمیں تشکیل دیتے ہوئے ڈی پی او کا کہنا تھا کہ ڈاکوؤں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور منطقی انجام تک پہنچایا جائے ، لمحہ بہ لمحہ اس کیس کی پیش رفت بارے آگاہ رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے ڈی پی او کا کہنا تھا کہ اس کیس کو خود مانیٹر کروں گا۔۔ڈی پی او کا مزید کہنا تھا کہ وقوعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ فرانزک ٹیمیں ٹھوس شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہیں، سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کو بھی واچ کیا جارہا ہے۔۔اسکے علاوہ سرکاری کھوجی پاؤں کے نشانات سے ملزمان کی سراغ رسانی پر عمل پیرا ہیں۔متاثرہ خاندان کو انصاف کی یقین دہانی کراتے ہوئے ڈی پی او کا کہنا تھا کہ انشاء اللہ بہت جلد ملزمان پولیس کی گرفت میں ہوں گے۔اور عبرت ناک سزا سے بچ نہیں پائیں گے۔

رپورٹ سیف اللہ صدیقی

علی امین گنڈاپور کو شہباز شریف کے ساتھ تصاویر نہیں بنوانی چاہیے تھی مجھے خدشہ ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کا فنڈ جاری نہیں کرے گی۔ عمران خان

سابق وزیراعظم ، وائس چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی سید یوسف رضا گیلانی کے سیاسی سفر نامہ پر نظر۔۔۔!!

سید یوسف رضا گیلانی سیاست کے میدان میں آتے ہی 1983 میں ضلع کونسل چیئرمین ملتان منتخب ہوئے ،

1986 میں وزارت ریلوے کا قلمدان سنبھالا

1988 میں وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس بنے

1993 میں قومی اسمبلی کے آئینی عمدہ اسپیکر قومی اسمبلی کی ذمہ داری سنبھالی

2008 میں تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان منتخب ہوئے

2021 میں اپوزیشن لیڈر سینیٹ آف پاکستان کی ذمہ داری قبول کی

سید یوسف رضا گیلانی 1985, 1987, 1990, 1993, 2008 اور 2024 میں ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوتے رہے اور 2021 میں سینیٹ کی اہم نشست اسلام آباد سے کامیابی حاصل کی اور اب 2024 میں ایک مرتبہ پھر اسلام آباد سینیٹ کی اہم نشست سے بھاری اکثریت کیساتھ کامیاب ہوئے۔

بہترین تحریر

کوا وہ واحد پرندہ ہے
جو عقاب کو چھیڑنے کی جسارت کرتا ہے۔
یہ عقاب کی پیٹھ پر بیٹھ جاتا ہے
اور اس کی گردن کاٹتا ہے۔
تاہم عقاب کوے کو جواب نہیں دیتا
نہ اس سے لڑتا ہے۔
یہ کوے کے ساتھ وقت اور توانائی صرف نہیں کرتا۔
عقاب صرف اپنے پروں کو کھولتا ہے اور آسمان میں اونچی اڑان شروع کرتا ہے۔
‏بہت اونچی پرواز سے
کوے کو سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے
اور آخر کار آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کوا گر پڑتا ہے۔
آپ کو تمام لڑائیوں کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
آپ کو تمام دلائل، الزاما!ت یا نقادوں کے جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
بس اپنا معیار اٹھائیں، وہ گر جائیں گے!
‏’کوؤں’ کے ساتھ وقت ضائع کرنا بند کریں۔ بس انہیں اونچائی پر لے جائیں اور وہ ختم ہوجائیں گے۔
مضبوط لوگ
شکایتیں نہیں فیصلے کرتے ہیں !!