ایک فلاحی منصوبہ پر تنقید

تحریر۔۔منور اقبال تبسم

جب سے 1122کوٹ اسلام کا منصوبہ شروع ہوا ہے تب سے بجائے اس کے کہ اس منصوبہ کو لانے پر سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر ہراج گروپ کا شکریہ ادا کیا جائے یا پھر خاموش رہا جائے مگر کچھ عناصر تواتر سے تنقید کے نشتر برساتے آرہے ہیں ،حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی معمول بن چکا ہے ،
کوٹ اسلام سپورٹس گراؤنڈ آپ کو یاد ہوگا کہ بڑے بڑے گڑھوں کے گرد چاردیواری کے سواء کچھ نہ تھا ،ہم نے کوشش شروع کی ،بھلا ہو اس وقت کے ڈپٹی کمشنر خانیوال جناب zaheer Abbas Sherazi صاحب کا کہ انہوں نے میری اپیل پر اس گراؤنڈ کیلئے خصوصی فنڈز مختص کئے اور اس گراؤنڈ کی لیولنگ کراکر دی ،بھلا ہو اس وقت کے ایم پی اے ڈاکٹر اور علی شاہ صاحب کا کہ انہوں نے میری اپیل پر یہاں ٹف ٹائل دی ،بھلا ہو انجینئر محمد رضا سرگانہ صاحب سابق چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل خانیوال کا کہ انہوں نے میری ریکویسٹ پر یہاں ایک کمرہ اور سٹیج بنوایا ۔اب تک یہ گراؤنڈ علاقہ کا سب سے شاندار گراؤنڈ ہوتا ،ہمیں یاد ہے کہ ہم نے مٹی گھٹا اور غیر ہموار اس گراؤنڈ میں پریس سپر لیگ کے میچ کروائے ،اگلا منصوبہ ہمارا اس گراؤنڈ میں سبزہ ،اس کے چاروں طرف پھل دار اور سایہ دار درخت لگنا تھا کہ ایک نا ہنجار نے گراؤنڈ میں پانی چھوڑتے ایک شخص کی ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر پھیلادی کہ اللہ نہ کرے کہ ہم اس گراؤنڈ پر قبضہ کررہے ہیں ،اس حوصلہ شکنی سے اس قدر دل برداشتہ ہوا کہ اس کے بعد اس گراؤنڈ کیلئے کچھ نہیں کیا
بات ہورہی تھی 1122کوٹ اسلام کے قیام کی ، میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ یہ منصوبہ بالکل سابق صوبائی وزیر سردار حامد یار ہراج لیکر آئے تھے ،اس وقت بھی زمین کے ایشوز اور لوگوں کا تنقیدی رویہ اور گھٹیا سوچ نے اس وقت کے دوستوں کو دل برداشتہ کیا ،عبدالحکیم۔اور مخدوم پور کی بلڈنگ مکمل ہوگئیں مگر کوٹ اسلام کا منصوبہ ختم ہوگیا ،بجٹ سے کچھ عرصہ پہلے مجھے انچارج 1122شورکوٹ سجاد شاہ نے بتایا کہ منور بھائی اگر آپ کوشش کرو اور مقامی ایم پی اے سردار اکبر حیات ہراج صاحب کو راضی کرلو اور 15دن میں اس منصوبہ کا ورک آرڈر مکمل کرلو تو یہ منصوبہ بحال ہوسکتا ہے ،ہم نے اسی وقت سردار اکبر حیات ہراج صاحب سے رابطہ کیا ،ریجنل آفیسر 1122ملتان اور ڈسٹرکٹ آفیسر 1122خانیوال سے ملاقاتیں کیں ،انہیں کوٹ اسلام بلایا اور تین مقامات وزٹ کروائے گئے جن میں سے ایک مقام راوی پل کے ساتھ جھنگ روڈ پر جگہ فائنل ہوگئی ،اسسٹنٹ کمشنر کبیروالا صاحب نے بھی موقع وزٹ کرلیا اور اس طرح اس منصوبہ کی مکمل فائل محکمہ مال اور 1122کبیروالا کیساتھ ملکر تیار کی گئی اور اپرووال کیلئے ڈپٹی کمشنر خانیوال کو بھیجی گئی جو 15،دن کے اندر چیف سیکرٹری اور متعلقہ حکام سے ہوتی ہوئی پنجاب اسمبلی بجٹ سیشن میں پہنچ گئی جہاں سے پاس ہونے کے بعد فنڈز پاس ہوگیا ،اس تمام کارروائی میں ایم۔پی اے جناب اکبر حیات ہراج صاحب مکمل طور پر ساتھ تھے اور انکی خصوصی محنت اور دلچسپی سے ہی یہ ممکن ہوا ،اب جب کہ منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھا جانا تھا اور پروونشل گورنمنٹ سے زمین 1122کو ٹرانسفر ہونا تھی کہ یہ بات سامنے آئی کہ 1122کی اس دو کنال زمین میں سے ایک کنال پر محکمہ فشریز رکارٹیں کھڑی کررہا ہے جس پر دوبارہ تحصیلدار کبیروالا اور اسسٹنٹ کمشنر کبیروالا نے وزٹ کیا ہے ،سو فیصد انشاء اللہ یہ دفتر اسی جگہ پر بنے گا ،اگر تبدیلی جگہ ہوئی بھی تو بھی 1122کوٹ اسلام ان شاء اللہ بنے گا
میری صرف اتنی گزارش ہے کہ اس منصوبہ سے درکھانہ سے لیکر کنڈ سرگانہ تک ،سرائے سدھو سے لیکر چوپڑہٹہ تک لوگ مستفید ہونگے اور بہت سی جانوں کو بچایا جاسکے گا ،اگر آپ تعریف نہیں کرسکتے نہ کریں مگر خدارا فضول تنقید بھی مت کریں ،یہ علاقہ کی فلاح کا بہت بڑا منصوبہ ہے ،اللہ تعالیٰ ہمیں کامیاب فرمائے ،آمین
منور اقبال تبسم