سموگ ، تعلیمی ادارے بند کرنا مسائل کا حل نہیں نااھلیت کا ثبوت ہے: فیصل جنجوعہ ( کووارڈینیٹر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن ضلع گجرات)
طلبا پہلے ہی مسلسل تعلیمی بندش کےمنفی نتائج بری پرفارمنس کی شکل میں بھگت رہے ہیں اب سموگ کے نام پر تعلیمی ادارے بند کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے.
دنیا بھر میں سموگ پر قابو پانے کے لئے دھواں چھوڑتی فیکٹریاں اور گاڑیاں بند کی جاتی ہیں اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے مناسب اقدامات کئے جاتے ہیں جبکہ یہاں تعلیمی ادارے بند کئے جاتے ہیں جو کہ ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا بازار، سینما، شاپنگ مال، روڈ پر بے جا ٹریفک سب کھلے رہیں گے جبکہ تعلیم پر پابندی.
حکمران طبقے نے تعلیم کا بیڑہ غرق کرنے کی کیوں ٹھانی ہے
پہلے ہی دو سال کرونا نے چھٹیاں دے دے کر طلبہ اور اساتذہ کے رویے قیامت تک کے لیے کام نہ کرنے کر دیئے اب یہ سموگ کے نام پر پھر سے بندش شروع۔ فیصل جنجوعہ نے کہا کہ ساری دنیا کے کاروبار چل رہے ہوتے ہیں سوائے تعلیمی اداروں کے اور گھروں میں رکھ کر بچوں نے کس “صاف” ہوا میں سانس لینا ہے۔ یہ گھروں میں کب بیٹھیں گے انشاء اللہ یہ سڑکوں پر کھیلتے یا پھرتے ہی ملیں گے
فیصل جنجوعہ نے مزید کہا کہ حکمران طبقہ خدارا فیصلے کرتے ہوئے عقل کا استعمال کیا کرے اور ایسے فیصلوں تک پہنچانے والے منصف بھی.













