رنگ پور میں سرکاری پٹوں کی الاٹمنٹ صبح کی کھلی کچہری اور عوام کی رائے

تحریر علی امجد چوہدری

اسسٹنٹ کمشنر مظفر گڑھ محمد عرفان ہنجراء ہیں تو اسسٹنٹ کمشنر مگر یہ ڈپٹی کمشنر جتنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی تحصیل پنجاب کے کئی اضلاع سے بڑی ہے ایسی تحصیل کو manage کرنا انتہائی مشکل ہے چند روز قبل میں ڈپٹی کمشنر آفس میں دوسروں کے ساتھ داخل ہو رہا تھا اور یہ فیلڈ کی کاروائی کے لیئے نکل رہے تھے اس وقت تقریبا تین بجے کا وقت تھا یہ وقت اعلی آفیسرز کے گھر جانے یا پھر تفریح کا ہوتا ہے مگر یہ ماتحت آفیسرز اور عملے کے ساتھ سرکاری ڈیوٹی پر جا رہے تھے یہ صبح کے اوقات میں کھلی کچہری سے لے کر تین جے تک سائلین کے ساتھ رہے یہ فیلڈ کی کاروائی کے لیئے دفتری سرگرمیوں کو نظر انداز کر سکتے تھے مگر انہوں نے نہیں کیا بلکہ field activities کے لیئے انہوں نے office time کے بعد کا انتخاب کیا
مگر یہ سب میرا آج۔کا موضوع نہیں ہے

اس کے علاوہ بھی تصویر کا ایک مختلف پہلو ہے اور وہ ہے ان کی administration پر مکمل گرفت یہ تھوڑی وکھری ٹائپ کے آفیسر ہیں یہ سرکاری زمینوں سے لے کر سرکاری خزانے کے بھی مکمل امین ہیں ان سے قبل قابل کاشت سرکاری زمینوں کے پٹے ماتحت عملے کی فیلڈ رپورٹس پر ہی الاٹ ہو جاتے تھے من پسند افراد کو ہی الاٹمنٹ کرکے بھاری بھرکم۔کمیشن حاصل کیا جاتا تھا چند ہی افراد کے گرد یہ پٹے گھومتے تھے عموی طور پر لوگ اس سارے process سے بے خبر رہتے تھے مگر اس بار اسسٹنٹ کمشنر محمد عرفان ہنجراء نے ماضی کی ایسی تمام روایات کو کرش کر دیا باقاعدہ طور پر منادی کرائی گئی خواہش مند تمام افراد کو مواقع فراہم کیئے گئے یہ سب کے لیئے ایک surprising event تھا پٹے جن کو بھی ملیں مگر حیران کن طور پر لوگ اسسٹنٹ کمشنر کی concentration اور process کی credibility کے معترف تھے اور اس عوام کی طرف سے کسی اعلیٰ آفیسر کے لیئے remarks کسی معجزے سے کم نہیں ہوتے کیونکہ پس پردہ عوام آفیسرز کا بھرپور احتساب کرتی ہے

علی امجد چوہدری