“صحافت کی بے توقیری کھلے بندوں جاری ہے”
تحریر طاہر عباس
جنرل سیکرٹری تحصیل پریس کلب رجسٹرڈ کبیروالا*
03038558512
درد دل طرب و کرب کی حالت میں قلم طراز ہوں ہم نے بابائے قائد اور اقبال کے افکار و نظریات و فرمودات کی دھجیاں بکھیر دی ہیں اب بھی وقت ہے کہ اپنی اقدار و روایات کو اسلامی سانچے ڈھالیں اور میڈیا کا قبلہ درست کرلیں،
قلم کی طاقت کا فسانہ اب بھی سننے کو باقی ہے، لیکن قلم کے پیچھے سوچنے والے دماغ کو شدت پسندی، طاقتوروں کے خوف اور فکرِ معاش نے زنگ آلود کر دیا ہے۔ بلاشبہ اس وقت پاکستان میں انسانی حقوق اور سماجی شعور کیلئے تعمیری و تخلیقی صحافت جتنی اہم ہے، اُتنی ہی ریاست کی زندگی اور تداوم کیلئے بھی ضروری ہے۔ تاہم اسکی خاطر ہم میں سے کس کو کیا کرنا چاہیئے؟ شاید اس سوال پر ہم میں سے کسی نے ابھی تک غور ہی نہیں کیا، خدارا صحافیوں اور پریس کلبوں میں گروپ بندی بند کرو ورنہ ایک دن ایسا آئے گا کہ صحافی نہیں رہے گا بلکہ گروپ ہی رہیں گے اس کے بعد ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کوئی راہ نہیں ہوگی، لیکن پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا سارے کسی نہ کسی کے در پر کھڑے ہوکر بھیک مانگ رہے ہونگے، بلکہ مجھے معذرت کے ساتھ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اپنے سینئر اور بزرگ صحافیوں کی رہنمائی حاصل نہ کرنے کی وجہ سے کئی صحافی اور صحافتی گروپ مختلف سیاسی جماعتوں اور کئی اداروں کی جی حضوری میں لگے ہوئے ہیں، اگر سینئر صحافیوں نے آپسی رنجشوں اور ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صحافت کے معیار ، صحافیوں کی فلاح و بہبود اور اتحاد کے لئے اجتماعی طور پرعملی اقدامات نہ کئے تو یاد رکھیں کہ وہ وقت نہیں دور جب سرکاری و پرائیویٹ اداروں میں صحافیوں کا داخلہ پسند و ناپسند کی بنیاد پر ہو گا عوامی اور سرکاری سطح پر صحافت کی قدر و اہمیت کی بجائے ذاتی تعلق کی بنیاد پرتقسیم پیدا کر دی جائے گی فیصلہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے، اس میں قصور وار حکومت نہیں صحافی خود ہیں کیوں کہ جب آپ ایک کاروبار شروع کرتے ہیں تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں کتنے ملازم رکھنے ہیں، میری پیداواری صلاحیت کتنی ہے، میری کوئی حکمت عملی ہونی چاہیے تھی لیکن یہاں ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی پریس کلب کھلتے گئے نتیجہ آج سب کے سامنے ہے کہ سب سے زیادہ متاثر وہ صحافی ہوئے جو کام کرنا جانتے تھے، امید کرتا ہوں کہ تمام دوست اس بارے نظرثانی کریں اور اچھی تجاویز دیں۔










