جھنگ کے رنگ
تحریر:
عبدالستار



آپ نے اکثر جھنگ کی ونگ کے متعلق سن رکھا ہو گا مگر آج ذکر ہے جھنگ کے ان رنگوں کا جنہوں نے جھنگ کی ونگ کو اپنی آواز اور انداز سے امر کر دیا۔ذکر ہے ضلع جھنگ کی اُس بولی کا جسے آپ چاہیں تو سرائیکی کہیں،چاہے پنجابی،چاہے جھنگوی/جھنگوچی یا پھر جانگلی۔
یہ اعزاز کم ہی اضلاع کو حاصل ہے کہ وہ اپنے محددود لسانی اور ثقافتی جغرافیے میں لوک موسیقی کے کئ رنگوں کو سمو سکیں۔جھنگ مگر مستثنیٰ ہے اس سے۔جھنگ صرف “جھنگویوں” کا جھنگ نہیں بلکہ ونگوں والا جھنگ،جھنگ ہے منصور ملنگی کا،طالب حسین درد کا اور اللہ دتہ لونڑے والے کا۔
کون ظالم ہے جو کہہ سکے کہ اس نے منصور ملنگی کے گاۓ گیت “اک پھل موتیے دا،بلوچا ظالما یا کیویں ساکوں یاد نہ راہسی “ نہیں سن رکھے یا وہ ان گانوں سے کوئ جذباتی وابستگی نہیں رکھتا۔کوئ بد ذوق ہی ہو گا جو کہے کہ طالب حسین درد کے “جوگ” اس نے نہیں سنے یا وہ انہیں سننے کی تمنا نہیں رکھتا اور کوئ زندگی سے نا بلد ہی ہو گا جو کہے کہ اللہ ڈتہ لونڑے والے کی گائ “رمزاں” اس نے نہیں سنی۔
یہ جھنگ ہی ہے کہ اپنے محدود جغرافیے میں اس نے تین ایسے نادر و نایاب استاد فنکار پیدا کیے کہ انکا بدل شاید صدیوں میں دوبارہ میسر نہ ہو۔
جھنگ،طالب حسین درد کا جھنگ،جھنگ منصور ملنگی کا جھنگ اور جھنگ اللہ ڈتہ لونڑے والا کا جھنگ۔جہاں ہمارے کئ اور زوال ہیں وہیں یہ زوال کیا کم ہے کہ ہم جھنگ کو “جھنگویوں” کی وجہ سے جانتے ہیں۔مورخ یہ سوال ضرور اٹھاے گا کہ یہاں ایسی قوم بھی موجود تھی جو جھنگ کو جانتی تھی تو فرقہ واریت کی وجہ سے،وہ جھنگ کو جانتی تھی تو “جھنگویوں “ کی وجہ سے مگر وہ جھنگ کو ڈاکٹر سلام کی وجہ سے جاننے سے ہمیشہ کترائ۔
مورخ نے تو جب چاہا وہ لکھ ڈالے گا مگر ہمارا حال ہی ہمارے مستقبل کا پیش خیمہ ہے۔آئیے ایک نئ تاریخ رقم کریں اور جھنگ کو نۓ سرے سے جانیں۔ہندی میں کہتے ہیں کہ میاں اپنے آکڑے سیدھے کرو۔آئیے اپنے آکڑے سیدھے کریں اور اپنے ہیروز کو پہچانیں اور انہیں خراج تحسین پیش کریں۔
کھبی رات کی تنہائ میں اور مکمل سکون میں طالب حسین درد کا جوگ سنیں،طالب حسین درد کو جوگ میں ڈوبا ہوا دیکھیں اور سامعین کے مر جانے والے سکوت پر غور کریں تو مجھے یقین ہے کہ ہمارے آکڑے سیدھے ہو جائیں گے۔ہمیں باقاعدہ محسوس ہو گا کہ ہم جوگ میں ڈوب کر ٹلہ جوگیاں پر رسمِ رانجھا نھباتے ہوۓ












