خودکشی: گناہ کبیرہ اور اللہ کی ناراضی کا سبب
تحریر:
محمد زاہد مجید انور
خودکشی ایک ایسا عمل ہے جسے اسلام میں نہ صرف سختی سے منع کیا گیا ہے بلکہ اسے گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ محض ایک ذاتی فیصلہ یا وقتی جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ایک ایسا فعل ہے جو انسانی جان کے تقدس، اللہ کی رضا، اور معاشرتی ذمہ داریوں کے خلاف بغاوت کے مترادف ہے۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر بہت مہربان ہے” (سورۃ النساء: 29)یہ آیت واضح انداز میں ہمیں اس عمل سے باز رہنے کی تلقین کرتی ہے۔ خودکشی کا مطلب ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قیمتی نعمتِ زندگی کو اپنی مرضی سے ختم کر دیتا ہے، جو کہ اللہ کی قدرت میں مداخلت کے مترادف ہے۔نبی کریم ﷺ کی تعلیمات احادیثِ مبارکہ میں بھی خودکشی کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جو شخص خود کو کسی چیز سے قتل کرے، قیامت کے دن وہی چیز اس کے عذاب کا سبب بنے گی(صحیح بخاری و صحیح مسلم)مثلاً اگر کسی نے خود کو زہر سے مارا تو وہ قیامت تک جہنم میں زہر پیتا رہے گا۔ اسی طرح اگر کسی نے اپنے آپ کو چاقو مارا یا کسی بلند مقام سے گر کر جان لی، تو وہی عمل اس کے لیے دائمی عذاب کا سبب بنے گا۔خودکشی کی وجوہات اور معاشرتی غفلت آج کے دور میں خودکشی کی بڑھتی ہوئی شرح افسوسناک حقیقت ہے۔ نوجوان، طلباء، بے روزگار افراد، گھریلو تشدد یا ذہنی دباؤ کا شکار افراد خودکشی جیسے اقدام کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات میں ایمان کی کمزوری، نفسیاتی مسائل، خاندانی جھگڑے، غربت، احساس کمتری، سماجی تنہائی اور مایوسی شامل ہیں۔ہمیں بحیثیتِ قوم اور مسلمان فرد، ایسے افراد کے قریب جانا چاہیے، ان کی بات سننی چاہیے، ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور ان کی مدد کرنی چاہیے۔خودکشی کا علاج: ایمان، صبر اور سماجی تعاون اسلام ہمیں ہر آزمائش میں صبر، استقامت اور اللہ سے رجوع کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو چھوٹی عمر سے یہ سکھائیں کہ زندگی کی مشکلات وقتی ہیں، اور اللہ ہر مشکل کے بعد آسانی دیتا ہے، تو ہم انہیں خودکشی جیسے مہلک فیصلے سے بچا سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:”بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے” (سورۃ الشرح: 6) معاشرے کی ذمہ داری خودکشی کو روکنے کے لیے محض مذہبی تعلیمات کافی نہیں، بلکہ ایک مربوط سماجی نظام کی بھی ضرورت ہے جہاں:ہر فرد کو ذہنی صحت کے ماہرین تک رسائی ہواسکول اور کالجوں میں طلباء کی رہنمائی کے لیے کونسلنگ کا انتظام ہووالدین بچوں کو سنیں، دباؤ نہ ڈالیں حکومت معاشی اور سماجی دباؤ کم کرنے کے لیے موثر پالیسیاں بنائےمساجد اور علماء عوام میں اس موضوع پر آگاہی پھیلائیں نتیجہ خودکشی نہ صرف اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب ہے بلکہ خاندان، معاشرے اور ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک بہت بڑا نقصان بھی ہے۔ ہمیں بحیثیتِ مسلمان یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ زندگی اللہ کی عطا ہے، اور اس کا خاتمہ ہمارے اختیار میں نہیں ہونا چاہیے۔ آئیں! ہم عہد کریں کہ خود بھی صبر، امید اور دعا کے ساتھ زندگی گزاریں گے اور دوسروں کو بھی جینے کا حوصلہ دیں گے۔










