آخری عید… آخری سفر… ایک خاندان کی داستانِ الم
تحریر: محمد زاہد مجید انور
عید… خوشی، ملن، اور اپنوں کے ساتھ وقت گزارنے کا نام ہے۔ دنیا بھر میں مسلمان اس دن کو عقیدت، محبت اور اجتماعی خوشیوں کے ساتھ مناتے ہیں۔ مگر جب عید ہی زندگی کا آخری تہوار بن جائے، جب واپسی کا سفر کبھی مکمل نہ ہو، اور جب پورا خاندان ایک حادثے میں لقمۂ اجل بن جائے… تو وہ عید خوشی نہیں، قیامت بن جاتی ہے۔ایسا ہی ایک لرزہ خیز سانحہ پیش آیا، جب سید عنایت علی اپنے خاندان کے 8 افراد کے ہمراہ عیدالاضحیٰ منانے کیلئے برطانیہ سے بھارت تشریف لائے۔ رشتہ داروں سے ملے، قربانی کی، بچوں نے نئے کپڑے پہنے، ہنسی گونجی، تصویریں کھنچیں، دعائیں کیں… اور پھر سب کچھ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ایک خوشیوں بھرا سفر… جو واپسی کا رخ نہ دیکھ سکا سید عنایت علی کا خاندان لندن میں ایک باوقار زندگی گزار رہا تھا۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی انہوں نے فیصلہ کیا کہ عید اپنے آبائی وطن بھارت میں منائیں گے۔ یہ ملاقاتیں برسوں یاد رہنی تھیں۔ خاندان کے بزرگ، بچے، بہن بھائی — سب اس موقع پر اکٹھے ہوئے۔ یہ عید خاص تھی۔ آخری ثابت ہونے کے بارے میں کسی کو کیا معلوم تھا؟عید گزر گئی، دعائیں ہو گئیں، تحفے بانٹ دیے گئے۔ واپسی کا سامان بندھ چکا تھا۔ آج ان کی فلائٹ لندن کے لیے روانہ ہونی تھی۔ مگر فلائٹ نے اپنی منزل پر پہنچنے کے بجائے، ایک دل دہلا دینے والے حادثے میں ان سب کی زندگیاں چھین لیں۔ایک خاندان… جو اب صرف یادوں میں ہےسید عنایت علی، ان کی اہلیہ، ان کے بیٹے، بہوئیں، پوتے پوتیاں — آٹھ افراد ایک ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ایک گھر، جو لندن کی کسی سڑک پر زندگی سے بھرپور تھا، اب ویرانی کی عبرتناک تصویر ہے۔ اس گھر کی دیواریں شاید اب ہمیشہ کے لیے خاموش رہیں گی، اور در و دیوار پر صرف یادوں کی گونج باقی رہے گی۔حادثہ یا نظام کی ناکامی؟جہاز کا کریش ہونا صرف ایک تکنیکی ناکامی نہیں، یہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ آج تک کتنے خاندان حادثات میں مٹ چکے؟ کتنے طیارے جانچ پڑتال کی غفلت کا شکار ہوئے؟ اور کتنی زندگیاں اس سفری تحفظ کے جھوٹے دعووں کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں؟کیا صرف دکھ بھری خبریں، چند دن کے ٹکرز اور “تحقیقات جاری ہیں” کے فقرے کافی ہیں؟ انسانی جان اتنی سستی کیوں ہو گئی ہے؟ کیا ان قیمتی جانوں کی کوئی قیمت نہیں؟آخری عید کا دکھ سوچنے والی بات یہ ہے کہ جس خوشی کے لیے یہ خاندان ہزاروں میل سفر کر کے وطن آیا، وہی خوشی ان کی زندگی کی آخری خوشی بن گئی۔ وہ آخری ملاقاتیں، وہ آخری قہقہے، وہ آخری دعائیں… اب صرف تصویروں میں قید ہیں۔یہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں، یہ ہر انسان کے دل کا زخم ہے۔سبق جو ہم سب کو سیکھنا ہےزندگی بے حد غیر یقینی ہے،آج جو ہم پلان کرتے ہیں، ضروری نہیں وہ کل مکمل ہو۔خوشیاں، سفر، عیدیں — سب لمحاتی ہیں۔
ہمیں ہر دن کو آخری سمجھ کر محبت، خلوص اور انسانیت کے ساتھ گزارنا ہوگا۔”کل کس نے دیکھا ہے؟آج کا ہاتھ مضبوطی سے تھامو، اور اپنوں کے ساتھ جی بھر کے جیو”نتیجہ سید عنایت علی اور ان کے خاندان کا یہ المیہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم سب ایک غیر یقینی دنیا میں سانس لے رہے ہیں۔ جہاں خوشیوں کا چہرہ لمحوں میں غم میں بدل سکتا ہے۔ ہمیں نہ صرف اپنی زندگی بلکہ اپنے سسٹمز، اپنے اداروں اور اپنے رویوں پر بھی غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔دعا ہے اللہ تعالیٰ سید عنایت علی اور ان کے خاندان کو جنت الفردوس میں جگہ دے، اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔










