آخری سیلفی… خوابوں کی راکھ میں بدلتی زندگی
تحریر: محمد زاہد مجید انور
زندگی بعض اوقات ایک ایسی ان کہی کہانی میں بدل جاتی ہے جہاں خواب، خوشیاں اور مسکراہٹیں ایک لمحے میں راکھ ہو جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک کہانی راجستھان کے انجینئر پرتیک جوشی، ان کی اہلیہ ڈاکٹر کونی ویاس اور ان کے ننھے بچوں کی ہے، جنہوں نے انگلینڈ میں ایک نئے اور بہتر مستقبل کے خواب لیے اپنی زندگی کی آخری سیلفی جہاز میں لی — ایک خوبصورت لمحہ، جو چند منٹ بعد ہمیشہ کے لیے بکھر گیا۔خواب جو کبھی پورے نہ ہو سکےپرتیک جوشی کو انگلینڈ میں ایک نامور کمپنی میں نوکری ملی تھی، اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر کونی ویاس نے بھی وہاں کلینیکل ریسرچ کے شعبے میں شمولیت اختیار کرنا تھی۔ دونوں نے سالوں کی محنت کے بعد اپنے بچوں کیلئے ایک روشن، محفوظ اور ترقی یافتہ زندگی کا خواب دیکھا تھا۔ انہوں نے راجستھان کو الوداع کہا، امیدوں، جذبات اور مسرتوں کے ساتھ جہاز میں سوار ہوئے، اور فلائٹ کے دوران اپنے بچوں کے ساتھ ایک خوبصورت سیلفی لی — ایک ایسا منظر جس میں مستقبل کے تمام رنگ بھرے ہوئے تھے۔مگر کس کو معلوم تھا کہ وہ لمحہ، جس میں وہ دنیا کے سب سے خوش نصیب انسان دکھائی دے رہے تھے، وہی ان کی زندگی کا آخری لمحہ بن جائے گا۔حادثہ، جو صرف جسم نہیں بلکہ خوابوں کو بھی جلا دیتا ہےکریش ہونے والا طیارہ صرف چند سیکنڈ میں کئی خاندانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا گیا۔ پرتیک اور کونی کے بچے، جنہوں نے ابھی دنیا کو صحیح سے سمجھنا بھی شروع نہیں کیا تھا، ان کی مسکراہٹیں فضا میں بکھر گئیں۔ وہ خواب جن میں انگلینڈ کے اسکول، پارک، خوشیاں، محفوظ زندگی اور کامیابیاں تھیں، سب کچھ ایک لمحے میں ختم ہو گیا۔یہ محض ایک خاندان کا نقصان نہیں، یہ انسانیت کے لیے لمحہ فکریہ ہے — کہ کس قدر ناپائیدار ہے یہ زندگی، کتنی غیر یقینی ہے کل کی امید، اور کیسے ایک پل میں سب کچھ بدل سکتا ہے۔یہ زندگی ہے یا ایک فریب؟ہم سب آنے والے کل کے لیے منصوبے بناتے ہیں، سامان سمیٹتے ہیں، بچوں کے تعلیمی اخراجات، نئی ملازمتیں، مکان، گاڑیاں، خوشحال زندگی — یہ سب کچھ ایک مستقل دوڑ کا حصہ بن چکا ہے۔ مگر اس حادثے نے ایک بار پھر ہمیں جھنجھوڑ کر یاد دلایا کہ:آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں سامان سو برس کا ہے، پل کی خبر نہیں یہ اشعار حادثے کا خلاصہ ہیں۔ کل کس نے دیکھا ہے؟ اور زندگی کس وقت، کس مقام پر ختم ہو جائے، اس کا علم صرف خالق کو ہے۔ ہم سب اس فانی دنیا کے مسافر ہیں، اور کب، کہاں، اور کیسے ہمارا سفر ختم ہو جائے گا، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔میڈیا کی بے حسی، سسٹم کی ناکامی ایسے حادثات کے بعد میڈیا صرف بریکنگ نیوز تک محدود رہتا ہے۔ دو دن بعد، نہ پرتیک جوشی کا نام رہتا ہے، نہ ان کے بچوں کی مسکراہٹ۔ حکومتیں تحقیقات کے وعدے کرتی ہیں مگر وقت کے ساتھ سب کچھ دھندلا جاتا ہے۔ کوئی سسٹم ان معصوم جانوں کا حساب نہیں دیتا۔نتیجہ: ایک اجتماعی سوچ کی ضرورت یہ المیہ صرف ایک خاندان کا نہیں، یہ ہر اس انسان کی کہانی ہے جو اپنی محنت، دیانت اور خوابوں کو لیکر کسی بہتر کل کے پیچھے بھاگتا ہے۔ ہمیں بطور انسان، بطور معاشرہ، اور بطور ریاست اس بے یقینی، اس خطرے، اور اس سسٹم پر سوال اٹھانے کی ضرورت ہے جو آج بھی مکمل محفوظ سفر فراہم نہیں کر سکا۔یہ کالم صرف پرتیک جوشی اور ان کے خاندان کی یاد میں نہیں، بلکہ ہم سب کیلئے ایک آئینہ ہے — کہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے:”کل کا کچھ پتہ نہیں… بس آج کو بہتر بناؤ، ایک دوسرے سے محبت کرو، وقت کی قدر کرو، اور اللہ کا شکر ادا کرو۔”










