تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب!
تحریر: محمد زاہد مجید انور
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں، افراد اور نظریات مشکلات، رکاوٹوں اور طوفانوں سے گھبرا گئیں، وہ فنا کے گھاٹ اتر گئیں۔ اور جو ان طوفانوں کا مقابلہ کر کے ان سے کچھ سیکھ کر آگے بڑھیں، وہی تاریخ میں روشن چراغ بن کر چمکیں۔ علامہ اقبال کا شعر:
> “تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اُڑانے کے لیے”
ایک ایسے فکری اور روحانی سبق کی نمائندگی کرتا ہے جو ہر دور میں راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ محض ایک شعر نہیں بلکہ ایک مکمل فلسفہ ہے، جو ہمیں بتاتا ہے کہ مشکلات درحقیقت کامیابی کی سیڑھی ہیں اقبال نے نوجوان کو “شاہین” یا “عقاب” کہا، کیونکہ عقاب نہ صرف بلند پرواز کرتا ہے بلکہ طوفانوں سے لڑنا جانتا ہے۔ وہ طوفان کا سامنا کرتا ہے، اس کے تھپیڑوں کو چیر کر اونچائیوں کی طرف سفر جاری رکھتا ہے۔ یہی طرزعمل ہر فرد کو اپنانا چاہیے۔ اگر زندگی میں کوئی مشکل آتی ہے، تو یہ مایوسی کی علامت نہیں بلکہ ترقی کا اشارہ ہو سکتی ہے۔ہر بڑے انسان کی زندگی کا مطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ ان کے راستے میں مشکلات ضرور آئیں، لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی۔ نیوٹن، تھامس ایڈیسن، قائداعظم، علامہ اقبال، بل گیٹس یا ابرار الحق – سب نے مشکلات کا سامنا کیا، تنقید سنی، کئی بار ناکامیوں کا ذائقہ چکھا، لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری۔آج کے نوجوانوں کو چاہیے کہ جب انہیں ناکامی، تنقید یا رکاوٹ کا سامنا ہو، تو وہ گھبرائیں نہیں۔ بلکہ یہ سمجھیں کہ شاید قسمت انہیں ایک نئے مقام پر لے جانے کے لیے آزمائش میں ڈال رہی ہے۔ اگر ہوا مخالف ہے، تو شاید آپ کی سمت درست ہےہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں اکثر افراد ذرا سی مخالفت یا تنقید سے دل چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی سوچ کو بدلیں۔ دشمنی، مخالفت، تنقید اور ناکامی، دراصل زندگی کے وہ عوامل ہیں جو ہمیں نکھارتے ہیں، ہمیں مضبوط بناتے ہیں۔آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ اگر ہمت ہے تو طوفانوں سے لڑ،ورنہ کنارے پر بیٹھ کر تماشہ نہ کر!تو اے نوجوان! اے قوم کے معمار! مشکلات سے مت گھبرا، کیونکہ یہ ہی مشکلات تجھے اوپر لے جانے کے لیے آتی ہیں۔ اپنے اندر عقاب جیسا حوصلہ پیدا کر اور بلند پرواز کا سفر جاری رکھ، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔










