چوہدری شہباز صابر گل۔۔۔۔کسانوں کی آواز، خدمت کا نشان
تحریر: محمد زاہد مجید انور
ٹوبہ ٹیک سنگھ کی زرخیز زمینوں، صاف دِلوں اور باہمت لوگوں کی دھرتی نے ہمیشہ ایسے عظیم سپوت پیدا کیے ہیں جنہوں نے اپنے علاقے، اپنے لوگوں اور اپنے وطن کے لیے خلوص نیت سے خدمات انجام دیں۔ انہی باکردار، باوقار اور باہمت شخصیات میں ایک روشن نام چوہدری شہباز صابر گل کا ہے، جو نہ صرف ایک کامیاب زمیندار ہیں بلکہ ایک بااثر سیاسی و سماجی شخصیت کے طور پر بھی ابھرے ہیں۔چوہدری شہباز صابر گل 1982ء میں نواحی چک نمبر 344 گ ب میں ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے ان کی شخصیت میں سادگی، خودداری اور محنت نمایاں تھی۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کی اور پھر گورنمنٹ ہائی سکول ٹوبہ ٹیک سنگھ سے میٹرک کی تعلیم حاصل کی، جہاں انہوں نے نمایاں نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے شوق نے انہیں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج جھنگ روڈ کی راہ دکھائی جہاں سے انہوں نے ایف اے کی ڈگری حاصل کی۔چند برس قبل، چوہدری شہباز صابر گل نے متحدہ عرب امارات کا سفر کیا جہاں انہوں نے دنیا کے بدلتے ہوئے تقاضوں، کاشتکاری کے جدید رجحانات اور زمینی حقائق کا بغور مشاہدہ کیا۔ یہ تجربہ ان کی شخصیت کو مزید نکھارنے کا باعث بنا۔ واپسی پر انہوں نے اپنے آبائی گاؤں کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا اور زمینداری کو ایک مشن کی صورت اختیار کر لیا۔ ان کی محنت، دیانت داری اور جدت پسند سوچ نے جلد ہی انہیں علاقے کے کامیاب زمینداروں میں شامل کر دیا۔چوہدری شہباز صابر گل کا سب سے بڑا کارنامہ چٹیانہ زِیل کے کسانوں کے لیے نہری پانی کی فراہمی ممکن بنانا ہے۔ پانی کی شدید قلت کے شکار اس علاقے میں فصلیں تباہ ہو رہی تھیں، کسان مایوس تھے اور حکامِ بالا خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔ ایسے میں چوہدری شہباز صابر گل نے ایک بہادر، دلیر اور پُرعزم رہنما کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے نہ صرف ملاقاتیں کیں بلکہ ان کے سامنے اپنے علاقے کے کسانوں کا مقدمہ دلائل کے ساتھ رکھا۔ کئی بار انہیں مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن انہوں نے ہار نہ مانی۔ ان کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں علاقے کو نہری پانی کی فراہمی ممکن ہو سکی، جس سے ہزاروں کسانوں کو ریلیف ملا۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ چوہدری شہباز صابر گل آج بھی کسانوں کی آواز ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور جب تک کسان خوشحال نہیں ہوگا، ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ موجودہ وقت میں جب کہ پانی کی قلت ایک بار پھر چٹیانہ کے کسانوں کے لیے سنگین مسئلہ بن چکی ہے، وہ ایک بار پھر میدان میں ہیں۔ وہ حکام بالا کو اس سنگین صورتحال کی جانب متوجہ کر رہے ہیں تاکہ کسانوں کو بروقت پانی میسر آ سکے اور فصلوں کو تباہی سے بچایا جا سکے۔چوہدری شہباز صابر گل کی جدوجہد محض زمینداری تک محدود نہیں، بلکہ ان کی خدمات سماجی شعبے میں بھی نمایاں ہیں۔ وہ اپنے علاقے میں فلاحی کاموں میں پیش پیش رہتے ہیں، نوجوانوں کی رہنمائی کرتے ہیں اور اجتماعی بہتری کے لیے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔آخر میں بس اتنا کہنا کافی ہوگا کہ اگر ہر علاقے کو چوہدری شہباز صابر گل جیسے خلوص نیت سے خدمت کرنے والے لوگ میسر آ جائیں، تو کسانوں کے مسائل حل ہوں، زراعت ترقی کرے اور وطن عزیز خوشحال ہو۔










