صحافت کی طاقت، فرض شناس انتظامیہ اور عوامی ریلیف
تحریر: محمد زاہد مجید انور

ٹوبہ ٹیک سنگھ میں حالیہ دنوں ایک بار پھر یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ اگر صحافت دیانتداری سے عوامی مسائل کو اجاگر کرے، اور انتظامیہ خلوصِ نیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھائے، تو وہ مسائل جنہیں عوام برسوں جھیلتے ہیں، لمحوں میں حل ہو سکتے ہیں۔چک نمبر 290 گ ب رجانہ کے باسی طویل عرصے سے گندگی، صفائی کے ناقص انتظامات اور بدترین ماحولیاتی صورتحال کا شکار تھے۔ بارہا شکایات کے باوجود ان کی آواز کہیں سنائی نہیں دے رہی تھی۔ تاہم جب اس اہم مسئلے کو اس خاکسار نے صحافتی فریضہ سمجھ کر خبر کی صورت میں اجاگر کیا تو ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ جناب محمد نعیم سندھو نے نہ صرف فوری نوٹس لیا، بلکہ عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا۔یہی ہے وہ صحافت جو عوام کی آواز بنے اور وہ انتظامیہ جو عوامی فلاح کو اپنا نصب العین سمجھے۔ڈی سی محمد نعیم سندھو نے ثابت کر دیا کہ وہ ایک متحرک، باہمت اور فرض شناس افسر ہیں جو کاغذی کارروائی سے زیادہ عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے حکم پر چک نمبر 290 گ ب میں صفائی ستھرائی کا عمل فوری طور پر شروع کر دیا گیا، اور وہ علاقے جو پہلے تعفن اور گندگی کا شکار تھے، اب قدرے بہتر اور صاف ماحول کی طرف گامزن ہیں۔عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر محمد نعیم سندھو کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ “پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ہماری آواز پر فوری عمل ہوا اور ہمیں ریلیف ملا۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسے نیک نیت افسران کو مزید ترقیاں، صحت اور استقامت عطا فرمائے، آمین ثم آمین۔”یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب قلم اور اقتدار مل کر کام کریں تو عوامی خدمت کے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے اضلاع میں جہاں شہری مسائل کی بھرمار ہے، وہاں ایسی مثبت مثالیں نہ صرف امید جگاتی ہیں بلکہ دیگر افسران و صحافیوں کے لیے ایک روشن نمونہ بھی بنتی ہیں۔آخر میں، اس کامیاب اقدام پر ہم جناب ڈپٹی کمشنر محمد نعیم سندھو کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اسی جذبے اور لگن سے عوامی مسائل کے حل کے لیے سرگرم عمل رہیں گے۔ صحافت بھی اسی عزم کے ساتھ عوام کی ترجمانی کرتی رہے گی۔