سانحہ بلوچستان
تحریر۔۔،مظہر حسین باٹی۔
گذشتہ روز بلوچستان سے واپس آتے ہوئے پنجاب کے مختلف اضلاع کے مزدوروں اور مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کرکے دہشت گردوں نے موقع ہی نو افراد کو جان سے مار دیا،میتیں ان کے آبائی علاقوں میں پہنچ گئی ہیں،اس واقعہ سے ہر مسلمان کو دلی تکلیف پہنچی ہے کیونکہ پنجاب اور بلوچستان دونوں پاکستان کے صوبے ہیں یہ نفرت پھیلانے والے عناصر بڑے عرصے سے سرگرم ہیں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی بلوچیوں نے پنجابیوں کا قتل عام متعدد بار کیا ہے حکومت نے اس بارے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات آج تک نہیں اٹھایا ،اب سوال یہ ہے کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں بلوچیوں کے کاروبار ہیں اور رہائش پذیر بھی ہیں آج تک کسی پنجابی نے بلوچی کو ناجائز تنگ نہیں کیا بلکہ انہیں اپنا بھائی سمجھا ہے لیکن بلوچستان کے لوگ پنجاب سے اتنی کیوں نفرت کرتے ہیں آج پنجاب کے لوگ بھی بلوچیوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھیں اور ان کو صوبہ بدر کر دیں تو ہزاروں کی تعداد میں بلوچی پنجاب سے بے روزگار ہوکر بلوچستان واپس چلے جائیں گے،آئے روز بلوچی پنجابیوں کا قتل عام کر رہے ہیں اگر ان واقعات کا کوئی اور ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے تو ہماری موجودہ حکومت کو چاہیے کہ ان دہشت گردوں کو نکیل ڈالیں اور ان کے خلاف سخت کاروائیاں کی جائیں،آج پنجاب بھر کے مختلف اضلاع میں جب میتتیں پہنچی ہیں تو کہرام مچ گیا علاقوں میں سوگ کا عالم تھا ہر آنکھ اشکبار تھی بلکہ پورے پاکستان میں اس واقعہ کی پر زور الفاظ میں مذمت کی گئی،وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف صاحب کو چاہیے کہ فوری واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں تاکہ صوبوں کے درمیان نفرت کم ہو سکے،بلوچستان واقعہ میں دو بھائی اپنے والد کا جنازہ پڑھنے اپنے آبائی علاقہ دنیا پور آ رہے تھے تو راستے میں خود ہی موت کی وادی میں چلے گئے اب تینوں باپ بیٹوں کا جنازہ ان کی والدہ سے گھر سے اٹھا کر دیا ہائے افسوس سد افسوس،دوسرا واقعہ میاں چنوں کا ہے جب باپ کو پتہ چلا کہ میرا بیٹا بلوچستان واقعہ میں قتل ہو گیا ہے تو بوڑھا بیمار باپ صدمہ برداشت نہ کر سکا وہ بھی چل بسا،ہائے افسوس،اللہ پاک بلوچستان واقعہ میں قتل ہونے والوں کو جنت الفردوس میں اعلی جگہ عطاء فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے آمین۔










