شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری اور سابق آسٹریلوی وزیرِاعظم باب ہاک کی تاریخی اور فکری ملاقات
باب ہاک، آسٹریلیا کے وہ ممتاز سیاسی رہنما ہیں جو تین مرتبہ وزیرِاعظم کے منصب پر فائز رہے۔ آسٹریلوی عوام انہیں قومی سطح پر انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور ان کی قیادت کو جدید آسٹریلیا کی ترقی و خوشحالی کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔
سن 2011 میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے آسٹریلیا کا ایک اہم دعوتی و تنظیمی دورہ فرمایا۔ اس موقع پر آپ نے ریاست نیو ساؤتھ ویلز کا بھی وزٹ کیا اور وہاں کی پارلیمان میں ایک پُراثر خطاب کے ذریعے اسلام کا پیغامِ امن، اعتدال اور انسانیت پیش کیا۔
اسی دوران تحریکِ منہاج القرآن کے ایک کارکن سے آسٹریلیا کے سابق وزیرِاعظم باب ہاک نے بذاتِ خود رابطہ کیا۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ وہ شیخ الاسلام سے بالمشافہ ملاقات کے خواہاں ہیں۔ جب اطلاع دی گئی کہ شیخ الاسلام سڈنی سے میلبرن روانہ ہو چکے ہیں تو باب ہاک فوراً سڈنی ایئرپورٹ پہنچے، مگر اس وقت تک پرواز روانہ ہو چکی تھی۔
باب ہاک نے بلا تاخیر میلبرن کی پرواز لی اور میلبرن ایئرپورٹ کے VIP لاؤنج میں شیخ الاسلام سے تفصیلی ملاقات کی۔ یہ ملاقات تقریباً تین گھنٹے جاری رہی، جس میں انہوں نے اسلام سے متعلق اپنے ذاتی سوالات، فکری اشکالات اور تہذیبی تحفظات پیش کیے۔ شیخ الاسلام نے نہایت علم و حکمت کے ساتھ ان تمام پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو فرمائی، جس پر باب ہاک نے نہ صرف دلی اطمینان کا اظہار کیا بلکہ شیخ الاسلام کی علمی، فکری اور عالمی سطح پر امن و مکالمہ کے فروغ کے لیے کی جانے والی خدمات کو دل سے سراہا۔
اس ملاقات کے دوران باب ہاک نے یہ واقعہ بھی بیان کیا کہ وہ ایک بار پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے گئے تھے۔ مگر وہاں ایک اعلیٰ ریاستی شخصیت نے اُن سے پہلا سوال یہ کیا:
“ہمارے حصے میں کیا آئے گا؟”
اس منفی رویّے کے باعث وہ مایوس ہو کر بغیر کسی سرمایہ کاری کے واپس لوٹ آئے۔
ایسی شخصیات جنہیں دنیا کے ممتاز رہنما خود تلاش کرتے ہیں، جن سے رہنمائی کے خواہاں ہوتے ہیں، وہی حقیقی طور پر امتِ مسلمہ کے علمی ورثے کے امین اور عصرِ حاضر کے مجدد ہوتے ہیں۔
اس یادگار لمحے کو محفوظ کرتی ہوئی تصویر میں ہمارے قابلِ فخر تحریکی رفیق صابر بلوچ صاحب بھی شیخ الاسلام کے ہمراہ موجود ہیں












