ویسٹ پنجاب صوبے کی تشکیل ریاض فتیانہ کا تاریخی قدم

تحریر وترتیب محمد زاہد مجید انور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ

*پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں آج ایک اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی، جب قومی اسمبلی کے سینئر رکن ریاض فتیانہ نے ایک آئینی ترمیمی بل پیش کیا، جس کا مقصد پنجاب کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کر کے ایک نیا صوبہ ویسٹ پنجاب تشکیل دینا ہے۔ اس مجوزہ صوبے میں فیصل آباد ڈویژن اور ساہیوال ڈویژن شامل ہوں گے۔ریاض فتیانہ نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ ویسٹ پنجاب کی آبادی تقریباً پونے چار کروڑ ہوگی۔ یہ علاقہ پاکستان کے سب سے زرخیز اور پیداواری خطوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں بہترین زرعی وسائل موجود ہیں۔ یہاں پنجاب کا دوسرا بڑا صنعتی حب ہے، جو ملکی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس صوبے میں میڈیکل اور زرعی شعبوں سمیت بارہ یونیور سٹیاں قائم ہیں، جن سے تعلیم اور تحقیق کے شعبے کو غیر معمولی فروغ مل رہا ہے۔ آبادی کی نمائندگی کے لیے اس صوبے کے پاس 27 ارکان قومی اسمبلی اور 46 ارکان صوبائی اسمبلی ہوں گے، جو عوامی مسائل کے بہتر حل میں معاون ثابت ہوں گے۔ریاض فتیانہ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ویسٹ پنجاب میں پنجاب کا دوسرا بڑا کمالیہ جنگل واقع ہے، جو ماحولیاتی توازن کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس کے علاوہ دو موٹر ویز، ایک انٹرنیشنل ایئرپورٹ، اور پاکستان کا سب سے بڑا ایئر بیس شورکوٹ بھی اس صوبے کا حصہ ہوں گے، جو اسے معاشی، دفاعی اور تجارتی لحاظ سے مزید اہم بنا دیتے ہیں۔سپیکر قومی اسمبلی نے ایوان کی رائے لینے کے بعد اس ترمیمی بل کو قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا ہے، جہاں اس پر مزید غور کیا جائے گا۔اگر یہ بل آئندہ مراحل طے کرتا ہے تو نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ملک میں انتظامی تقسیم کے حوالے سے ایک نئی تاریخ رقم ہوگی۔ ویسٹ پنجاب کا قیام وسائل کی منصفانہ تقسیم، مقامی انتظامیہ کی مضبوطی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔*