یومِ آزادی اور صحافت کا عہد
تحریر: ✍️ زبیر احمد صدیقی

14 اگست… یہ تاریخ ہمارے قومی وجود کی پہچان ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی کوئی تحفہ نہیں بلکہ قربانیوں کا صلہ ہے۔ یہ دن محض جھنڈا لہرانے یا کیک کاٹنے کا موقع نہیں، بلکہ اپنی ذمہ داریوں کو یاد رکھنے اور نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کا دن ہے۔
اسی جذبے کے تحت پریس کلب چونڈہ کے زیرِ اہتمام رضوان میرج ہال میں جشنِ آزادی کے موقع پر ایک شاندار اور پُروقار تقریبِ حلف برداری کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض کالم نویس اور سابق چیئرمین پریس کلب چونڈہ زبیر احمد صدیقی نے انجام دیے۔ محفل کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور اس کے ترجمے سے ہوا، جو شہنشاہِ نقابت حافظ رانا سرفراز احمد نے نہایت عقیدت کے ساتھ پیش کیا۔ نعتِ رسول ﷺ صحافی عابد حسین نے اپنی دلنشین آواز میں پڑھی۔
تقریب میں بابائے صحافت، ایڈیٹر رسالہ صدائے عام چوہدری رفیق احمد باجوہ نے مختصر مگر پُراثر خطاب کیا، اس کے بعد نیشنل یوتھ الائنس کے صدرِ پاکستان اور قائدِ طلباء شہزادہ بٹ نے نوجوان نسل کو حوصلہ اور امید کا پیغام دیا۔پریس کلب چونڈہ کے بانیان میں خرم شہزاد اور زبیر احمد صدیقی کی خصوصی کوشوں کا سراہا۔۔۔ممتاز قانون دان، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ نے بھی پریس کلب چونڈہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
مہمانِ خصوصی معروف کالم نویس، ممبر اسلامی نظریاتی کونسل، نائب ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان اور مصنفِ کتبِ کثیرہ رانا شفیق خاں پسروری تھے، جبکہ سابق ممبر پنجاب بار کونسل چوہدری شمشاد احمد ایڈووکیٹ نے بھی خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر چونڈہ کی سیاسی، سماجی اور کاروباری شخصیات وکلا برادری ،صحافی برادری کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
غازی اسلام، محترم جناب رانا محمد شفیق خاں پسروری نے پریس کلب چونڈہ کے چیئرمین زوالفقار احمد باجوہ اور تمام اراکین سے حلف لیا۔ اراکین میں خرم شہزاد، زکاء اللہ باجوہ، زبیر احمد صدیقی، شیخ وثیق الرحمن، امتیاز باجوہ، کاشف علی، مجاہد مرزا، مرزا نوید حسین، اویس خالد، عابد حسین، سید ال حیدر، منیر احمد، مدثر راں، رانا طاہر، امین بٹ، محمد سلیم، شہباز سدھو، رضوان شاکر
ایڈووکیٹ حافظ فرحان اویسی سمیت دیگر شامل تھے۔
اپنے خطاب میں رانا شفیق خاں پسروری نے کہا:
“صحافت معاشرے کی آنکھ اور ضمیر کی آواز ہے، اس کا تقدس اور سچائی برقرار رکھنا ہر صحافی کی ذمہ داری ہے۔”
تقریب کے اختتام پر یومِ آزادی کا کیک کاٹا گیا اور ملی نغموں کی دھن میں ہال پاکستان زندہ باد، افواجِ پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔
یہ تقریب صرف ایک رسمی اجلاس نہیں تھا ، بلکہ ایک عہد تھا .. سچائی کے ساتھ جینے کا، حق کی آواز بلند کرنے کا، اور وطن سے محبت کو اپنے کردار میں ڈھالنے کا۔ 14 اگست ہمیں ہر سال یاد دلاتا ہے کہ آزادی برقرار رکھنے کے لیے ہمیں بیدار، باخبر اور متحد رہنا ہوگا، اور صحافت اس سفر میں سب سے آگے کھڑی ہے۔ آخر میں چئیرمین پریس کلب چونڈہ زوالفقار باجوہ اور انکے برادر چوہدری شیراز احمد باجوہ ( بنک مینجر) نے مہانان گرامی شرکاء کا ضیافت کا ہتمام کیا اور تمام شرکاء اور افضل قادری ساونڈ سسٹم والوں کا سپیشلی شکر ادا کیا ۔۔۔۔
پاکستان پائندہ باد 🇵🇰










