سندھ کے لوگون کا سوال۔۔۔ہم کو انصاف کب ملے گا؟
تحریر۔ ایم دانش
سندھ کے اس وقت جو حالات (خاص طور پے زرداری لیگ کی مسلسل غیر آئیی اور غیر فطری اقتدار کے دوران جنم لے چکی ہین) ہین وہ کبھی اتنے بدتر اور بے حس نہین تھے۔اس وقت بدقسمتی یہ ہے کہ سندھ کے ہر ایک گاٶن ہرایک محلےاور ہر ایک بستی مین کسی نہ کسی کی آنکھون مین یہ سوال ہے جوکہ اس دھرتی کی تاریخ کے سب سے پیچیدہ سوالات مین سے ایک ہے۔:
”ہم کو انصاف کب ملی گا؟“۔
یہ سوال کوئی نئی بات نہین بلکہ صدیون سے مظلوم سندھی عوام کی زبان پر ویسی ہی موجود ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ اب وقت بدل گیا ہے لیکن ظلم کا چھرہ وہی ہے۔بس نۓ نام نئی شکلین اور نۓ طریقے آگۓ ہی۔
وڈیری شاہی کا کالا باب:
سندھ کی تارخ مین وڈیرہ کسی دور مین گاٶن کا رہنما سرپرست اور لوگون کے بھروسے والے فرد کی حیثیت سے جانا جاتا تھا،مگر اب اکثر وڈیرون کی تعریف طاقت، زمینون پر قبضے اور غریبون کو اپنا غلام رکھنے والی سیاست سے جڑا یوا ہے ۔آج بھی گاٶن مین غریب کسان اپنے فصل کا زیادہ تر حصہ وڈیرے کو دیتے ہین،لیکن ان کے بچون کے لیے سکول خالی پڑے ہین۔ان کے گھرون مین بجلی ناپید ہے اور ان کی عورتین علاج کی خاطر گھنٹون کا سفر کرنے پے مجبور ہین۔وڈیرون کے لیے لوگ اب بھی”نوکر“ اور”غلام “ہین۔
وڈیرہ شاہی محض اقتصادی ظلم نین کرتی بلکہ سیاسی اور سماجی غلامی کو بھی جنم دے رہی ہے۔غریب لوگ ان کے پاس اگر اپنے مسائل لے کر جاتے ہین تو انہین یا تو محض جھوٹی تسلیان دی جاتی ہین یا پھر دھمکیان۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کا نظام محض وڈیرون کی طاقت کو بڑھاوا دینے کے لیے بنا ہوا ہے۔عوام کی بہبود کے لیے نہین۔
پولیس گردی۔۔۔۔تحفظ کا ادارہ یا ظلم کا آلہ؟پولیس کا کام ہے عوام کی حفاظت، لیکن سدھ کے ہزارون مقدمے بتاتے ہین کہ یہان پولیس طاقتور کی حفاظت اور کمزور پر ظلم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔گاٶن مین کسی غریب کا کسی وڈیرے سے جھگڑا ہوجاۓ تو پولیس کا پلڑا وڈیرے کی جانب ہوتا ہے۔
بہت سے ایسے واقعات ہین ،جہان بے گناہ لوگون پر جھوٹے مقدمات درج کروا کے انہین جیل بھیجا جاتا ہے یا پولیس کے ہاتھون مارپیٹ دھمکیان اور بلاجواز گرفتاریان کرائی جاتی ہین۔پولیس اور وڈیرہ ایک ایسا لوہا پنجرا ہے جس مین بے گناہ لوگون کو قید و بند کیا جاتا ہے۔ جس سے غریب آدمی نکل ہی نہین سکتا۔
انصاف کے بند دروازے۔
سندھ کی عدالتون مین انصاف والے عمل کو دیکھین تو ایسا لگتا ہے گویا یہ محض امیرون اور طاقتورون کے لیے بنی ہین۔غریب لوگ برسون تک عدالتون کے گرد گھومتے ہین، لیکن پھر بھی نہ کوئی اس کا آواز سننے والا ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی وکیل بغیر پئسون کے ان کی مدد کرنے کو تيار ہوتا ہے۔
جب نظام انصاف کی رفتار ایسی ہو تو عوام کا انصاف سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ہیی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنے مسائل عدالت مین لے جانے کے بجاۓ وڈیرے کے ”فیصلے“ پر بھروسہ کرتے ہین۔لیکن ایسے فیصلے اکثر اوقات طاقتور کے حق مین جاتے ہین۔
ظلم کا خاتمہ۔سوال اور امید۔
سوال یہی ہے کہ وڈیراشاہی اور پولیس گردی کے گٹھ جوڑ کا خاتمہ کب ہوگا؟تاریخ بتاتی ہے کہ کوئی بھی ظالم نظام ہمیشہ نہین چلتا، لیکن ظالم کا خاتمہ بھی نہین اپنا آپ نہین ہوتا۔بلکہ اس کے لیے عوام کو شعور۔حوصلے اوراجتماعی جدوجہد کی ضرورت پڑتی ہے۔
1.تعلیمِ – غلامی سے نجات کا پہلا قدم ہے۔جب تک سندھ کا غریب طبقہ پڑھا لکھا نہین بنے گا، تب تک وڈیرہ شاہی اور پولیس گردی کا خاتمہ ممکن نہین ہے۔کیونکہ تعلیم لوگون کو اپنے حقوق کی آگاہی دیتی ہے اور شعور ہی ظلم کے خلاف سب سے بڑا آلہ ہے.
2. مضبوط مقامی حکومتین۔
اگر ضلعہ تحصیل اور یونین کاٶنسل کی سطح پر مقامی حکومتین قائم ہون اور ان کے منتخب شدہ نمائندے بلواسطہ عوام کے آگے جوابدہ ہون تو وڈیرون کی مداخلت کم ہوسکتی ہے.
3. آزاد اور غيرجانبدارنہ پوليس۔
پولیس کو سیاسی اثرو رسوخ سے آزاد کراۓ بغیر تبدیلی ناممکن ہے۔پولیس کی بھرتی۔تبادلہ اور پروموشن مکمل طور پر میرٹ پے ہونی چاہیۓ اور پولیس اہلکارون کے لیے سخت احتساب کا نظام ہو۔
4. قانونی امداد کا مفت نظام۔
غریب لوگون کو قانونی وکیل اور عدالتون تک رسائی کے لیے حکومت کو مفت امداد کا نظام مستحکم کرنا پڑیگا۔اس سے غریب لوگ ظالم وڈیرون کے رحم وکرم پے نہین رہین گے۔
5. سماجی تحريک اور ميڈيا کا کردار۔
سچائی اور خلوص کے ساتھ کام کرنے والے صحافی قلمکار اور سماجی ورکرز ظلم کے خلاف جدوجہد مین اہم کردار ادا کرتے ہین۔اگر میڈیا وڈیرون، پیرون میرون،بھوتارون اور جاگیردارون و سردارون کے برعکس غریبون کے مسائل کو اجاگر کرے تو سو فیصد سماج مین تبدیلی کے مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہین۔
جذباتی تصوير – سندھ مین آنسون بھانے والےچہرون کو دیکھو ایک غریب کسان اپنے بیٹے کو بیماری مین تڑپ تڑپ کر مرتے دیکھتا ہے کیونکہ ہسپتالون مین ادویات نہین ہوتین۔تصور کرین ایک بیوہ عورت کا بیٹا جھوٹے مقدمے مین جیل مین ہو کیونکہ وہ وڈیرے کی چمچاگیری نہین کرتا۔تصور کرین ایک گاٶن کے سکول کے دروازے بند ہون کیونکہ استاد وڈیری کی چاپلوسی کرتا ہے۔
یہ کہانیان ہر دن سندھ کے ہر ضلعہ مین لکھی جارہی ہین لیکن ان کا انجام اکثر وہی ہوتا ہے۔۔۔خاموشی۔بے حسی اور آنکھون مین رہ جانے والے آنسون۔
تبديلی کا راستہ۔
ظلم کا خاتمہ کسی ایک فرد یا ادرارے سے نہین ہوسکتا بلکہ اجتماعی قومی شعور اور سیاسی بیداری سے ہوگا۔جب غریب آدمی اپنا ووٹ ہئسون برادری یا خوف کی بدولت شعور سے ڈالے گا جب لوگ طاقتور کے ظلم کے خلاف اکٹھے کھڑے ہونگے تب ہی تبدیلی ممکن ہوگی۔
سندھ کی دھرتی کو صدیون سے مزاحمتی شاعر و ادیب اور بھادر لوگ ملے ہین۔لہذا ایسی دھرتی آج بھی اپنے لوگون مین ہمت و جرآت پیدا کرسکتی ہے۔لیکن شرط یہ ہے کہ ہم خوف کے زنجیرون کو توڑ کر خود پے بھروسہ کرین.
آخری سوال۔
شاید سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہمین انصاف کون دیگا؟ حکومت؟عدالت؟پولیس؟یا ہم خود اپنی جدوجہد سے؟
شاید جواب یہی ہے کہ ظلم کا خاتمہ تب ہوگا،جب ہر گاٶن ہر گھر اور ہر دل سے یہ نعرہ بلند ہوگا:
”ہمارے حقوق ہمین دو ! ہمارے حقوق ہمین دو!“
M Danish ( 03009193117)










