سیلاب متاثرین کی بحالی: عزم، خدمت اور امید کی داستان
تحریر وترتیب محمد زاہد مجید انور
*قدرتی آفات جب آتی ہیں تو اپنے پیچھے زخموں اور دکھوں کی ایک لمبی داستان چھوڑ جاتی ہیں۔ لیکن ان مشکل گھڑیوں میں اگر عوام کو یہ احساس ہو کہ وہ تنہا نہیں، ان کے ساتھ حکومت اور انتظامیہ کھڑی ہے، تو یہ زخم مرہم پا جاتے ہیں۔ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں حالیہ سیلاب کے متاثرین کی بحالی کے لیے جاری سرگرمیاں اس حقیقت کی جیتی جاگتی مثال ہیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر ڈپٹی کمشنر محمد نعیم سندھو اور ان کی ٹیم نے متاثرہ خاندانوں کی دہلیز تک پہنچ کر امدادی سامان فراہم کیا۔ یہ صرف راشن بیگز یا مچردانیاں تقسیم کرنے کا عمل نہیں تھا بلکہ ان خاندانوں کے لیے حوصلے اور یقین دہانی کا پیغام تھا کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ مشکل وقت میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔گزشتہ دنوں تحصیل پیر محل اور کمالیہ میں مزید ایک ہزار راشن بیگز تقسیم کیے گئے۔ اس سے پہلے 8500 بیگز پہلے ہی متاثرہ فیملیز تک پہنچائے جا چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار محض ایک گنتی نہیں بلکہ ان سینکڑوں گھروں کی امید ہیں جن کے چولہے بجھ گئے تھے اور جنہیں اس امداد کے ذریعے نیا سہارا ملا۔اہم بات یہ ہے کہ انتظامیہ نے صرف کھانے پینے کی اشیاء پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مچردانیاں بھی تقسیم کی گئیں تاکہ متاثرین کو بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ چھوٹی مگر مؤثر سہولت اس بات کی عکاس ہے کہ ریلیف صرف وقتی ریلیف نہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کی حقیقی بحالی کا ایک جامع منصوبہ ہے۔ڈپٹی کمشنر محمد نعیم سندھو نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرگرمیاں تب تک جاری رہیں گی جب تک ہر متاثرہ خاندان کو مکمل ریلیف نہیں مل جاتا۔ ان کے اس عزم نے متاثرین کو اعتماد دیا کہ ان کے مسائل کو وقتی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جا رہا ہے۔متاثرہ خاندانوں نے جب گھر کی دہلیز پر امداد وصول کی تو ان کے چہروں پر اطمینان اور شکرگزاری کے جذبات نمایاں تھے۔ یہ اعتماد دراصل اس طرزِ حکمرانی کا پھل ہے جو عوام کو سہولت فراہم کرنے اور ان کے مسائل کا حقیقی حل ڈھونڈنے پر مبنی ہے۔یہ کالم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر حکمران اور ضلعی انتظامیہ نیک نیتی اور خدمت کے جذبے کے ساتھ کام کریں تو عوام کے دکھ کم ہو سکتے ہیں اور وہ اپنے مستقبل کو روشن دیکھنے لگتے ہیں۔ سیلاب متاثرین کے لیے جاری یہ بحالی مہم صرف ایک ریلیف آپریشن نہیں بلکہ ایک سماجی عزم اور انسانی خدمت کی عظیم مثال ہے۔*









