گارڈن ٹاؤن کا سیوریج… ایک بے حسی کی داستان

تحریر محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ شہر کے قلب میں واقع محلہ گارڈن ٹاؤن بظاہر ایک پوش علاقہ کہلاتا ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہاں جامع مسجد عمر بن خطاب کے سامنے کا علاقہ پچھلے کئی دنوں سے ایک کھلے گندے نالے کا منظر پیش کر رہا ہے۔ جگہ جگہ گندا پانی جمع ہے، بدبو سے سانس لینا محال ہے، اور سب سے بڑھ کر مسجد میں حفظِ قرآن کرنے والے معصوم طلبہ کے لیے وہاں سے گزرنا ایک عذاب بن چکا ہے۔یہ المیہ صرف ایک گلی یا ایک محلے کا نہیں، بلکہ ضلع انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی ٹوبہ ٹیک سنگھ کی مجموعی بے حسی اور عدم توجہی کا مظہر ہے۔ شہریوں نے بارہا شکایات درج کروائیں، درخواستیں دیں، متعلقہ افسران کو آگاہ کیا، مگر نتیجہ وہی نکلا کوئی سننے والا نہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک جانب حکومتِ پنجاب کی ہدایات کے مطابق ڈینگی کنٹرول مہم بھرپور انداز میں جاری بتائی جا رہی ہے، لیکن دوسری جانب گلیوں میں کھڑے گندے پانی کے جوہڑ خود ڈینگی مچھر کے افزائش گاہ بن چکے ہیں۔ اگر کسی معصوم طالبعلم یا شہری کو خدانخواستہ کوئی وبائی مرض لاحق ہو جائے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟یہ سوال صرف گارڈن ٹاؤن کے مکینوں کا نہیں، بلکہ پورے ضلع کے شہریوں کا ہے جو روزانہ انتظامی غفلت کے ایسے مناظر دیکھنے پر مجبور ہیں۔ضلع انتظامیہ اگر واقعی عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہے تو اسے فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔ میونسپل کمیٹی کو موقع پر بلا کر سیوریج نظام کی ازسرِنو بحالی یقینی بنائی جائے تاکہ شہری سکھ کا سانس لے سکیں اور مسجد کے سامنے کا مقدس مقام گندگی کی آماجگاہ نہ بنے عوامی حلقوں کا یہی مطالبہ ہے کہ “ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ خود موقع کا دورہ کریں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں، تاکہ آئندہ کسی اور علاقے کو اس اذیت سے نہ گزرنا پڑے۔”یہ وقت ہے کہ ہم سب بحیثیت شہری اپنی ذمہ داری نبھائیں، شکایت کرنے کے ساتھ ساتھ صفائی کو اپنا شعار بنائیں — کیونکہ صاف ٹوبہ، صحت مند ٹوبہ ہی ہمارے بچوں کا محفوظ مستقبل ہے۔*