کشمیر، قربانی اور عزم کی داستان
تحریر : محمد زاہد مجید انور
*اسسٹنٹ کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ منور حسین کملانہ سیال نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر 1947ء تاریخِ کشمیر کا سیاہ ترین دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب بھارت نے تمام بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا۔ اس دن کی یاد ہمیں اس ظلم و جبر کی یاد دلاتی ہے جو گزشتہ سات دہائیوں سے کشمیری عوام پر ڈھایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج بھی کشمیری عوام اپنی آزادی، شناخت اور حقِ خودارادیت کے لیے لازوال قربانیاں دے رہے ہیں۔ ہزاروں ماں بیٹے، بہن بھائی اور نوجوان آزادی کے اس سفر میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں، مگر ان کے حوصلے آج بھی بلند ہیں۔ کشمیر کی وادیاں آج بھی شہداء کے لہو سے سرخ ہیں اور ہر پتہ آزادی کا نعرہ بلند کرتا ہے۔اسسٹنٹ کمشنر منور حسین کملانہ سیال نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور حکومت ہر سال 27 اکتوبر کو “یومِ سیاہ” کے طور پر مناتے ہیں تاکہ دنیا کو یاد دلایا جا سکے کہ بھارت نے نہ صرف تقسیمِ ہند کے اصولوں کی خلاف ورزی کی بلکہ کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق کو بھی پامال کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کی قیادت میں صوبائی حکومت کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کے وژن کے مطابق پنجاب کے عوام کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔منور حسین کملانہ سیال نے مزید کہا کہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد دراصل انصاف، حق اور وقارِ انسانیت کی جنگ ہے۔ آج ہمیں بحیثیت پاکستانی اس عہد کی تجدید کرنی ہے کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اور جب تک وادیٔ کشمیر آزاد نہیں ہوتی، برصغیر میں امن ممکن نہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے آواز بلند کرے اور بھارت کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کا پابند بنائے۔کشمیر کی آزادی کا سورج ان شاءاللہ ضرور طلوع ہوگا کیونکہ ظلم زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا، اور قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔*










