پنجاب فوڈ اتھارٹی کا ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ملاوٹ مافیا کے خلاف فیصلہ کن وار،ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی سید موسیٰ رضا کی خصوصی ہدایات پر ایڈیشنل ڈائریکٹر (آپریشنز) امتیاز حسین کا ٹوبہ ٹیک سنگھ کا دورہ، گوجرہ میں جعلی جوس تیار کرنے والا یونٹ بے نقاب، ملزم گرفتار، یونٹ سیل، مقدمہ درج، ہزاروں جعلی لیبلز، سینکڑوں لیٹر مضر صحت مشروبات اور ہزاروں خالی بوتلیں ضبط

*ٹوبہ ٹیک سنگھ (محمد زاہد مجید انور): وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق صوبہ بھر میں عوام کو محفوظ، معیاری اور ملاوٹ سے پاک خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں بلا تعطل جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی سید موسیٰ رضا کی خصوصی ہدایات پر ایڈیشنل ڈائریکٹر (آپریشنز) فیصل آباد ڈویژن امتیاز حسین نے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کا خصوصی دورہ کیا، جہاں انہوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر (آپریشنز) عدنان حیدر، فوڈ سیفٹی ٹیم، سپیشل برانچ اور پولیس کے ہمراہ گوجرہ میں قائم جعلی، ناقص اور غیر معیاری جوس تیار کرنے والے یونٹ پر اچانک چھاپہ مار کر ایک منظم جعلسازی کے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔کارروائی کے دوران فوڈ سیفٹی ٹیم نے ملزم کو مختلف معروف برانڈز کی جعلی پیکنگ اور لیبلز استعمال کرتے ہوئے ناقص، غیر معیاری اور مضر صحت فلیورڈ ڈرنکس اور جوس تیار کرکے بوتلوں میں پیک کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق تیار شدہ مصنوعات کو معروف کمپنیوں کے نام پر مارکیٹ میں فروخت کر کے صارفین کو دھوکہ دیا جا رہا تھا، جس سے نہ صرف قومی برانڈز کی ساکھ متاثر ہو رہی تھی بلکہ عوام کی صحت بھی شدید خطرات سے دوچار تھی۔چھاپے کے دوران فوڈ سیفٹی ٹیم نے 758 بوتلوں پر مشتمل سینکڑوں لیٹر جعلی اور ناقص جوس نما محلول، 2 ہزار 440 خالی بوتلیں، ہزاروں جعلی لیبلز، ڈھکن، پیکنگ میٹریل، غیر معیاری فلیورز، کیمیکل اور دیگر نان ٹریسبل خام مال برآمد کر لیا۔ حیران کن طور پر برآمد ہونے والے جعلی لیبلز اور بوتلوں پر فیصل آباد اور لاہور کے پتے درج تھے تاکہ جعلی مصنوعات کو اصل برانڈ ظاہر کر کے مارکیٹ میں فروخت کیا جا سکے۔پنجاب فوڈ اتھارٹی نے کارروائی کے دوران موقع پر موجود تمام جعلی، ناقص اور مضر صحت فلیورڈ ڈرنکس، جوس نما محلول اور غیر معیاری خام مال کو تلف کر دیا، جبکہ جعلی مشروبات تیار کرنے والے یونٹ کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا۔ گرفتار ملزم کے خلاف تھانہ سٹی گوجرہ میں مقدمہ درج کروا دیا گیا ہے، جبکہ اس غیر قانونی کاروبار سے وابستہ دیگر افراد، سپلائرز اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کی نشاندہی کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔دورے کے موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر (آپریشنز) امتیاز حسین نے گوجرہ اور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مختلف علاقوں میں قائم ریسٹورنٹس، بیکریز، سویٹس اینڈ بیکرز، فوڈ پوائنٹس، کولڈ ڈرنک یونٹس اور دیگر فوڈ پروڈکشن مراکز کا بھی تفصیلی معائنہ کیا۔ چیکنگ کے دوران صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات، حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی، غیر معیاری اجزاء کے استعمال، فوڈ سیفٹی قوانین پر عملدرآمد نہ کرنے اور لائسنسنگ کی مختلف خلاف ورزیوں پر متعدد فوڈ بزنس آپریٹرز کو بھاری جرمانے عائد کیے گئے، جبکہ انہیں فوری اصلاحی اقدامات کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر (آپریشنز) فیصل آباد ڈویژن امتیاز حسین نے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی عوام کو محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی کے لیے دن رات متحرک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاوٹ، جعلسازی، غیر معیاری خوراک اور جعلی برانڈنگ کے ذریعے عوام کی زندگیوں سے کھیلنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت قانونی کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ انسانی صحت کا ہر ممکن تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ فوڈ سیفٹی ٹیمیں پورے فیصل آباد ڈویژن میں مسلسل فیلڈ میں موجود ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر فوڈ بزنسز کی نگرانی، معائنہ اور قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنا رہی ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی جدید سائنسی طریقوں، مسلسل مانیٹرنگ اور مؤثر قانونی کارروائیوں کے ذریعے ملاوٹ مافیا کے خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ صرف مستند اور رجسٹرڈ برانڈز کی خوراک اور مشروبات خریدیں، خریداری سے قبل پیکنگ، لیبل، تیاری اور مدتِ استعمال کا بغور جائزہ لیں، جبکہ کسی بھی مشتبہ خوراک، جعلی مصنوعات یا ملاوٹ کی اطلاع فوری طور پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کو دیں تاکہ بروقت کارروائی کے ذریعے عوامی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ڈائریکٹر جنرل سید موسیٰ رضا کی قیادت میں صوبہ بھر میں ملاوٹ مافیا، جعلی خوراک تیار کرنے والے عناصر اور غیر معیاری اشیائے خورونوش فروخت کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں مستقبل میں بھی پوری قوت اور تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی، کیونکہ محفوظ خوراک ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اس حق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔*