غیر ذمہ درانہ صحافت ذمہ دار کون ؟؟ادارہ یا صحافی

{اذان سحر }
کالم نگار متین قیصر ندیم احمد پور سیال

جن کی دستار کو میں چوم لیا کرتا تھا
وقت بدلا تو وہ دشمن میرے سر کے نکلے** صحافت کے میدان میں صحافیوں کی بہتات نے اس شعبے کا معیار ،مقام گرا دیا عزت توقیر کم کردی ذمہ دار کون ؟؟اداروں نے مستند ،پرعزم اور صحافت کی تعریف ،مقصد ،رجحان کے برعکس معیار مقدار ،تعلیم کو پس پشت ڈال کر سپلیمنٹ کی مد میں روپوں کا بیوپار بنا لیا ۔ذہنی مریض ،ان پڑھ ،کاروباری اور معاشرے کے دھتکارے افراد انتقاما فصلی صحافی بن گئے انھوں نے نہ کسی کالج کا منہ دیکھا نہ کسی انسٹیوٹ کا نہ ڈگری لی نہ تربیت لی صرف اور صرف کارڈ لیا اور میدان صحافت میں آگئے بہت سے ایسے صحافی بھی ہیں جو کسی خبر کے ری ایکشن میں صحافی بن گئے کہ اب کچھ بھی کروں پولیس ،انتظامیہ اور پریس کچھ نہی کہے گی یہ سارے فصلی اور پیرا سائٹ صحافی خبر سے نابلد،اصول و قواعد سے نابلد معاشرے میں بجائے سدھار لانے کے بگاڑ کے موجب بن گئے ۔اپنی غیر متوازن شخصیت ،نسلی و نسبی تفریق کے باعث ،خاندانی اتار چڑھاؤ کی سزا بطور صحافی معاشرے سے ،افراد سے ،سیاسی ،سماجی ،علمی ، طبی اور انتظامی شخصیات کو ٹارچر کر کے ،ٹارگٹ کرکے دیتے ہیں ۔یہ سائیکو کیسز ،مائنڈ سیٹ قلم کی حرمت کو کیا جانیں یہ پیشہ ور کی طرح مضبوط خول ،مسکراتی شخصیت اور الفاظ کی بھول بھلیوں سے مقاصد کو بھول کر نمائشی واہ واہ ،لفافوں اور کینڈل ڈنر کو منزل بنا لیتے ہیں خوشامد ،چاپلوسی ،خدمت کو وطیرہ بناکر ظالموں کے ظلم کو ،غاصبوں کے غصب کو ،ڈاکوؤں کی لوٹ کو ،سیاست دانوں کے جھوٹ کو ،راشیوں کی رشوت کو ،پولیس کی قانون شکنیوں کو ،تاجروں کی ذخیرہ اندوزیوں کو،ڈاکٹرز کی لا پرواہیوں کو ،انتظامیہ کی بد عنوانیوں کو منظر عام پرنہی لا سکتے کیونکہ جن کے خرچے ان کے چرچے بدقسمتی سے ناخواندہ پریس رپورٹر گزیٹڈ افسر سے کارڈ کے بل بوتے پر سوال کرے کتنا عجب ہوگا ۔فیس بک آئی ڈی بناکر احتساب ،انصاف اور کرپشن ،سزاجزا کی بات کرے ۔لفافہ لیکر ،منتھلی لیکر عزت وذلت وکالت کرے دلالت کرے افسوس صد افسوس کالی بھیڑوں کا کچہ چٹھہ کھولنا ہوگا ۔خاندانی نا ہمواریوں ،حسب نسب کی کمی کوتاہیوں ،رویوں ،ذاتی پسند نا پسند سے باہر نکلنا ہو گا میچور ہونا ہوگا ٹیسٹ ٹیوب صحافت سے چھٹکارا پانا ہوگا مجھ سمیت سب کا شخصی ،حسبی نسبی رجحانی شجرہ بنانا ہوگا ۔۔۔۔پیرا سائٹ فصلی عناصر پورا کنبہ ہی اجاڑ دیں گے تحصیل پریس کلب میرا مان میرا سمان ہے اس کو سامری جادوگروں ،بنگالی بابوں اور انسان نما مخلوق کے حوالے نہی کیا جا سکتا ۔۔ہم کو اپنا احتساب کرنا ہو گا ،کالی بھیڑوں کو کٹہرے میں لانا ہو گا حق سچ کو ماننا ہو گا چاہے کڑوا ہو اور جھوٹے کو برا بھلا کہنا ہو گا چاہے اپنا ہو۔۔۔۔۔تبدیلی لانا ہوگی اندر سے پھر بدل جائے گا سب کچھ باہر سے