اصلاح کیجئیے مگرحکمت کے ساتھ ایک عہد ساز شخصیت مولاناطارق جمیل صاحب اور یہ دجالی میڈیا
تحریر ملک غلام مصطفی بھٹہ احمد پور سیال
ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ اگر کوئی ہماری اصلاح کی فکر کرتا ہے تو وہ دراصل اللہ سبحانہ وتعالی کے حکم کی تعمیل کرتا ہے۔
ہم انسان ہیں اور انسان سے ہی غلطیاں سرزد ہو تی ہیں، اسی وجہ سے اللہ تبارک وتعالی نے اصلاح ، توبہ اور معافی کا دروازہ کھول رکھا ہے۔جب ہم کسی غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں تو اس کا ادراک یا تو ہمیں خود اپنے حاصل کردہ علم سے یا صاحبِ علم کی جانب سے تنبیہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ہماری عقلمندی اسی میں ہے کہ ہم علم کے استحضار سے متنبہ ہوجانے کے بعد فورا دل سے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے توبہ کرلیں اور راہِ راست کو اپنا لیں۔
اِ س تمہید کے پس منظر میں جب موجودہ وقت میں ہم اپنی حالت دیکھتے ہیں تو ایک عجیب منظر ہمارے سامنے آجا تا ہے اور وہ یہ کہ جب کوئی ہمیں متنبہ کرتا ہے تو ہم اپنی غلطی کا جائزہ لینے کے بجائے متنبہ کرنے والے شخص پر چڑھ بیٹھتے ہیں اور اکثر اپنے پہلے رد عمل کا اظہار اِس جملے سے کرتے ہیں کہ تم غلط اور صحیح کا فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہو؟یا یہ کہ صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے والی ذات اللہ تعالی کی ہے ۔دراصل ایسا اِس وجہ سے ہوتا ہے کہ جب ہمیں کوئی آئینہ دکھاتا ہے تو ہم اس کو اپنی توہین سمجھتے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ ہم سامنے والے کے اندر نقص نکال کر جوابی حملہ کردیتے ہیں۔ ہمارے رد عمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہم سے گناہ یا غلطی ہو ہی نہیں سکتی بلکل اسی طرح گزشتہ دنوں ٹی وی شومیں معروف اینکر نے مولانا کو لائیو لیکر کچھ ایسا رویہ اختیار کیا کیونکہ کچھ دنوں پہلے مولانا نے کہا تھا کہ اکثر یعنی سارا میڈیا جھوٹ بولتا ہے یا میڈیا پہ اکثر جھوٹ بولا جاتا ہے اور اس بات کو لیکر معروف پڑھے لکھے جاہل اینکر نے مولانا کو لائیو لیا اور مقصود یہ تھا کہ مولانا کو نیچا دکھایا جا سکے لیکن یہاں پہ بھی مولانا اسی بات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے معزرت کر لی جسکا مقصد یہ تھا کہ اصلاح کیجئیے مگر حکمت کے ساتھ۔۔۔۔۔۔اب کچھ سوالات اس پڑھے لکھے جاہل اینکر سے کریں تو پوچھنا چاہیے کیا آپکا میڈیا سالوں تک لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے والوں، 2 سال میں 10 بار کامیڈین امان اللہ کی موت کی جھوٹی خبر دینے والوں،. کرپشن کا دفاع اور لفافے پکڑ کرPaid پروگرام کرنے والوں،. ہم سب امید سے ہیں، خبرناک اور اس جیسے کئی پروگرامز میں علماء دین سیاستدان، فنکاروں ہر طبقہ کی جعلی کردار بنا کر انکی تضحیک کرنے والوں، ملک ریاض سے پیسے لے کر پروگرام و کالم لکھنے والے صحافیوں، قندیل بلوچ کی نجی زندگی پر پروگرام کرکے اسکو قتل تک پہنچانے والوں، حریم شاہ جیسی خواتین کو ٹی وی پر بلا کر سیاستدانوں کی پگڑیاں اچھالنے والوں، لوگوں کی نجی زندگیوں بیڈ روم کہانیوں اور بہتان جھوٹ الزام تراشی کرنے والوں نے اج تک قوم سے کبھی اپنے کئے کی معافی کیوں نہیں مانگی. پاکستان کے بیشمار لوگوں کی طرح میں بھی آج دکھی اور شرمندہ ہوں کہ اج ہم نے معافی کا یہ تمغہ سجایا بھی کس کے سر کہ ملک کے ایک بڑے عالم دین کو ٹی وی پر بیٹھا کر معافی منگوائی گئی جس کے اس میڈیا کے بارے میں کہے گئے الفاظ سے اکثریت پاکستانی 100% فیصد متفق ہے …..کیا میڈیا سارا سچ بولتا ہے بتایا تو جائے اگر سچ بولتا ہے تو ایسا کیوں ہیں جیو نیوز کو لیگی چینل سمجھا جاتا ہے اور اے آر وائی نیوز کو پی ٹی آئی کا چینل سمجھا جاتا ہے اگر ایسا نہی ہے تو پھر گزشتہ حکومت میں جیونیوز پہ لیگی نشریات اور اے آر وائی پہ اسلام آباد میں ہونے والے لمبے عرصے کا دھرنہ کیوں دکھایا جاتا رہا ۔۔۔اب ٹی وی چینل پہ بیٹھ کے اسلام کے نام پہ ایکٹر اور اداکار اسلام سکھاتے نظر آتے ہیں کیا اجکل کے دور میں یہ سب سے بڑا جھوٹ نہی کہ اسلام صرف ایک عالم دین ہی سکھا سکتا ہے یا
اللہ اور اسکے رسول اور قرآن مجید کے بتائے ہوئے راستے ہی اسلام سکھا سکتے ہیں اور آپ اس قوم کو اداکار اور ایکٹر کے پیچھے لگا رہے ہیں اس لیے تمام دوستوں سے درخواست ہے کہ
ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ اگر کوئی ہماری اصلاح کی فکر کرتا ہے تو وہ دراصل اللہ سبحانہ وتعالی کے حکم کی تعمیل کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے : `اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے۔ یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں۔ (آل عمران:) اگر سماج میں غلطیوں کی نشاندہی کرنے والے اور اس پر ٹوکنے والے افراد نہ ہوں تو اس کاخطرناک اثر یہ ہوگا کہ برائی متعدی ہوجائے گی؛ کیونکہ جسم کے اگر ایک حصہ میں انفیکشن ہو تو علاج نہ کرنے کی وجہ سے وہ پورے جسم میں پھیل سکتا ہے۔قرآن مجید کے مطالعے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں بنی اسرائیل کے تعلیم یافتہ لوگوں کی غلط بات پر خاموشی اجتماعی پریشانی کا سبب بنی ہے۔ ذیل کی حدیث زیرِ بحث نکتے پر ہماری آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے:حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا: `جب لوگ کوئی قابلِ اعتراض چیز دیکھتے ہیں اور اس کو نہیں بدلتے ہیں تو اللہ جلد ہی سب کو عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں۔(ترمذی) ایک اہم بات یہ ہے کہ کسی کی غلطی پر تنبیہ کا ہمارا معیار قرآن و حدیث ہونا چاہئے ؛یعنی کسی کی اصلاح کرنے سے پہلے ہمیں یہ یقین ہونا چاہئے کہ اس کے جس عمل کو ہم غلط سمجھ رہے ہیں وہ خلافِ شریعت بھی ہے؛کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ذاتی رنجش یا تعصب کی بنیاد پر کسی کے پیچھے پڑ جائیں اور اس کے ہر کام کو غلط ٹھہرانے لگیں۔اسی طرح جب ہم کسی کی غلطی پر تنبیہ کا ارادہ کریں تو سب سے پہلے اپنی نیت کو درست کرلیں؛ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ ہم اپنی علمی فوقیت اور خود کو متقی ثابت کرنے میں پورا زور صرف کردیں۔ مصلح کے ذہن میں یہ ہونا چاہئے کہ جس کو ہم بہتری کا مشورہ دے رہے ہیں وہ بھی ہمارے بھائیوں اور بہنوں کی طرح ہے۔ یاد رکھئے !کسی کی اصلاح کے لئے مثبت پہل اور حکمت کا استعمال ضروری ہے؛بصورتِ دیگر متاثرہ شخص کے مزید بگڑنے کا اندیشہ ہے۔
فورا کسی کے غلط ہونے کا فیصلہ مت کیجئے بلکہ حالات کا جائزہ لیجئے ،موقع کی نزاکت کو سمجھئے کیونکہ بہت ممکن ہے کہ جسے آپ نے اول نظر میں غلط سمجھا تھا وہ آپ کے زاویہ نظر کی غلطی تھی۔جب ہم کسی کو غلط کام پر متنبہ کرنے کا سوچیں تو ہمیں اس کے عزتِ نفس کا خیال ضرور رکھنا چاہئے ۔ اسی طرح ہمیں سخت زبان استعمال نہیں کر نی چاہئے اسی طرح جب مولانا سے یہ سوال کیا معروف اینکر نے کہ کیا مولانا میں بھی جھوٹ بولتا ہوں تو مولانا نے اس جاہل اینکر کی عزت نفس کا خیال کیا اور پھر جب سوال کیا اس جاہل اینکر نے کیا مولانا سارا میڈیا جھوٹ بولتا ہے تو اس سوالات کے پیچھے اس جاہل اینکر کی کوئی زاتی رنجش نظر ا رہی تھی میڈیا کے جاہل اینکروں آپ یہ بتاؤ سوائے اپنے ٹاک شوز میں آپ نے لوگوں کو لڑانے کے کسی کی زاتیات کو اچھالنے کے یا عریانی، فحاشی اور میرا جسم میری مرضی جیسے غلیظ سلوگن کو پھیلانے کے کبھی آپ نے کسی کی اصلاح بھی کی ہے اگر کسی کی اصلاح کی ہے آپ نے تو سامنے لاؤ اور اگر نہی کی تو شرم سے ڈوب مرو اور ان ردی کے کاغذوں کو جو آپ ڈگری کی صورت میں کےپھرتے ہو کہیں دور پھینک دو ۔۔اگر آپ کی کوئی اصلاح کرتا ہے تو اپنے اپکا احتساب کرو ۔۔۔۔خیر اپنی بات کو ختم کرتا ہوں اور خلاصہ یہ ہے کہ علم و حکمت کے ساتھ ہمیں غلطی پر تنبیہ اورگناہوں پر توبہ کے لئے لوگوں کو آمادہ کرتے رہنا چاہئے کیونکہ یہ ہماری شرعی ذمہ داری ہے اور خود اپنے آپ کو ہلاکت سے بچانے کا ذریعہ بھی۔ارشادِ باری تعالی ہے( ا ور سمجھاتے رہئے کیونکہ سمجھانا ایمان والوں کو فائدہ پہنچاتا ہے)۔
والسلام دعاوں کا طلبگار غلام مصطفیٰ جی ایم
نوٹ کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں( ادارہ)










