گستاخانہ کتب کی ضبطی’ چوہدری پرویزالٰہی کا حکم

(مینارہ نور ) کالم نگار نوید مسعود ہاشمی

خاتم النبیینۖ اور صحابہ کرام کے ”حقوق” کے تحفظ کے لئے آواز اٹھانے پر سپیکر چوہدری پرویز الٰہی’ صوبائی وزیر حافظ عمار یاسر سمیت پوری پنجاب اسمبلی مبارکباد کی مستحق ہے’ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کہا۔۔۔ کہ عقیدہ ختم نبوتۖ’ رسول کریمۖ اور صحابہ کرام کے بارے میں گستاخانہ مواد پر مشتمل کتب مارکیٹ سے فوری طور پر ضبط کی جائیں۔۔۔ انہوں نے کہا کہ انبیاء کرام’ اہل بیت اور صحابہ کرام کے خلاف مواد سے نہ صرف ہمارے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔۔۔ بلکہ یہ ہمارے ایمان پر کاری ضرب ہے’ اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے متعلقہ محکمے کو حکم دیا کہ تینوں گستاخانہ کتابوں کو ضبط اور فروخت پر فوری پابندی عائد کی جائے’ ایوان کو یہ بتایا جائے کہ پاک سرزمین پر یہ کتابیں کیسے شائع ہوئیں؟ مارکیٹ میں کیسے آئیں؟
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز’ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت’ رانا مشہود’ حسن مرتضیٰ اور مولانا محمد معاویہ اعظم نے بھی اپنی اپنی تقریروں میں۔۔۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ اس قسم کا قابل اعتراض مواد مارکیٹ میں آیا کیسے؟ گستاخانہ مواد پر مشتمل متنازعہ کتابیں مارکیٹ میں آئیں۔ کہاں سے؟ یہ چیتھڑا نما کتابیں شائع کس پریس پر ہوئیں؟ ان گستاخانہ کتابوں کے ملعون مصنفیں کون ہیں؟ اگر وہ پاکستانی ہیں اور زندہ بھی ہیں تو پھر ان ملعونوں کو اب تک گرفتار کیوں نہ کیا جاسکا؟
یہ سوالات صرف اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے ہی نہیں بلکہ پاکستان کے 22کروڑ عوام کے بھی ہیں’ عوام کا سوال یہ بھی ہے کہ وہ متعلقہ محکمے کہ جن کی ذمہ داری اس قسم کی متنازعہ کتابوں کو شائع ہونے اور مارکیٹ میں پھیلنے سے روکنا ہے۔۔۔ وہ کہاں سوئے رہتے ہیں؟ عوام کے پیسے پر پلنے والے ان ”سفید ہاتھیوں” نے گستاخانہ کتابوں کو چھپنے اور مارکیٹ میں پھیلنے سے بروقت روکنے کے لئے کیا کردار ادا کیا؟
آقا و مولیٰۖ اور صحابہ کرام کے خلاف گستاخی کرنا بدترین اور قبیح ترین جرم ہے…یہود و ہنود’ مجوس اور نصاریٰ اسلامی نظریاتی مملکت پاکستان میں ڈالر دے کر جان بوجھ کر۔۔۔ اس قسم کے قبیح جرائم کا ارتکاب کروانے کے بعد پھر ”مجرموں” کی طرفداری شروع کر دیتے ہیں۔۔۔ یہ خاکسار اس سے قبل بھی اپنے کالموں میں صحابہ کرام’ ازواج مطہرات کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ہونے والی گستاخیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ اور چیف جسٹس گلزار احمد کی خدمت میں گزارش پیش کر چکا ہے کہ وہ اس طرف ذاتی توجہ دے کر گستاخ ملعونوں کے خلاف ملکی اداروں کو متحرک کریں۔۔۔ کیونکہ انبیاء کرام’ حضرت محمد کریمۖ’ صحابہ کرام یا اہل بیت عظام کے خلاف گستاخی کرنا’ ”دہشت گردی” سے بھی بڑا جرم ہے… کل کے لونڈے’ لپاڑے اٹھ کے اگر تحقیق اور ریسرچ کے نام پر اسلام کی مقدس ترین شخصیات کے خلاف بھونکیں گے۔۔۔ تو اس سے معاشرے میں فتنہ و فساد پھیلے گا۔
میرے نزدیک فرقہ واریت بدترین جرم ہے اور فرقہ واریت پھیلانے والے ملک و قوم کے خوفناک دشمن… انبیاء کرام’ آقا و مولیٰۖ’ صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار کے خلاف کتابیں لکھنے والے ہوں’ تقریریں کرنے والے ہوں’ سوشل میڈیا پر وڈیو کلپ وائرل کرنے والے ہوں یا پمفلٹ اور اسٹیکرز چھاپنے والے یہ سب کے سب یہودی ایجنٹ اور حد درجے کے۔۔۔ پلید اور خبیث مجرم ہیں۔۔۔ ایسے مجرموں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنا آئینی اداروں کی ذمہ د اری ہے۔۔۔ ہم تو اس رشدی ملعون اور ملعونہ تسلیمہ نسرین کو بھی ”انسانیت” کے لئے زہر قرار دیتے ہیں۔۔۔ کہ جو گوروں کے دیس میں پناہ گزیں ہیں..۔ چہ جائیکہ کوئی ملعون ہماری پاک سرزمین کو استعمال کرکے اسلام کی مقدس شخصیات پر تبرا بازی کرے؟ ہرگز نہیں’ ہرگز نہیں’ پاکستانی قوم یہ کبھی ہونے نہیں دے گی۔
یہ خاکسار بار’ بار اپنے کالموں میں ان امور کی نشاندہی اس لئے کرتا ہے… کیونکہ میری دانست میں فرقہ واریت اور فرقہ وارانہ قتل و قتال کی… اصل جڑ یہی گستاخانہ لٹریچر ہے… کہ جو اسلام دشمن عناصر کی طرف سے ملک کے صرف شہروں میں ہی نہیں…بلکہ دور دراز کے گائوں دیہاتوں تک پھیلایا جارہا ہے… لیکن متعلقہ ادارے مجرمانہ غفلت کی وجہ سے ان ملعون عناصر کے خلاف کارروائی سے گریزاں رہتے ہیں۔
صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار کے خلاف یہی وہ متنازعہ کتابیں اور لٹریچر ہے… کہ جو پاکستانی قوم کے اتحاد کا دشمن ہے… اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے منہ میں گھی شکر… کہ انہوں نے انبیاء کرام حضورۖ اور صحابہ کرام کے خلاف …گستاخانہ مواد پر مشتمل 3کتابوں کی ضبطی کا آرڈرجاری کیا…. اللہ کرے کہ اب ان کے اس حکم پر مکمل عملدرآمد بھی یقینی ہوسکے؟ میری ان سے گزارش ہوگی کہ وہ اس حوالے سے کوئی ایسا جاندار اور مضبوط کردار ادا کر جائیں… کہ جو آنے والی نسلوں کے لئے یادگار ہو’ یہود و نصاریٰ اور ان کے مسلمانوں کی صفوں میں گھسے ہوئے ایجنٹوں کی طرف سے … پاکستان کو گستاخانہ لٹریچر’ تبرا بازیوں اور ہفوات کا گڑھ بنانے کی کوششیں عروج پر پہنچ چکی ہیں… صورتحال اس حد تک خراب ہوچکی ہے… کہ جس کو وضو کے مسائل اور غسل کے فرائض کا علم نہیں ہے وہ حضرت سیدنا امیر معاویہ’ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کے آپسی تعلقات… پرمتنازعہ گفتگو کرنا علم کی معراج سمجھتا ہے’ پاک سرزمین کو ہر قسم کی فرقہ واریت’ ہر قسم کی گستاخیوں’ تبراء بازیوں اور ہفوات سے پاک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ… گستاخ مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر انہیں کڑی سزائیں دی جائیں۔
(وما توفیقی الاباللہ)

کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ادارہ