نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کا ایک قدیم ادارہ ہے۔ اس کا شمار جنوبی ایشیاء کی بہترین آرٹ اور ڈیزائن یونیورسٹیوں میں کیا جاتا ہے۔
لاہور (چیف رپورٹر شاہدرشید)نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کا ایک قدیم ادارہ ہے۔ اس کا شمار جنوبی ایشیاء کی بہترین آرٹ اور ڈیزائن یونیورسٹیوں میں کیا جاتا ہے۔ اس کا قیام 1875ء میں میو اسکول آف آرٹس کے نام سے ہوا جس کے پہلے پرنسپل جان لاکووڈ کپلنگ تھے۔1958 میں حکومتِ پاکستان نے میو اسکول آف آرٹس کا نام بدل کر نیشنل کالج آف آرٹس رکھا جس کے پہلے پرنسپل پروفیسر مارک رٹر اسپونین برگ تھے۔یہ لاہور کی معروف شاہراہ مال روڈ پر لاہور عجائب گھر کے ساتھ واقع ہے
اس ادارے نے ملک کے بہت بڑے بڑے ناموں کو جنم دیا۔ چاہے وہ نیئر علی دادا ہوں، نیرہ نور ہوں یا دور جدید کے علی ظفر اور میشا شفیع ہوں۔
این سی اے نے ہر شعبے میں مایہ ناز نام پیدا کیے۔ یہی وجہ ہے کہ این سی اے آج اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔
اس ادارے نے اپنے تعلیمی معیار پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا اور اپنی روایات کو ہمیشہ برقرار رکھا۔‘
’یہی وجہ ہے کہ ملک بھر سے آرٹ کو سمجھنے والے بہترین دماغ جو ہیں یہاں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں، وہی اپنی جگہ بناتے ہیں۔ تخلیقی کام ہی ارتقا کے عمل کو سہارا دیتا ہے یہی وجہ ہے ملک کے حالات چاہے کچھ بھی رہے ہیں اس ادارے نے آرٹ کے ذریعے اپنی ایک مخصوص جدوجہد کو قائم رکھا۔‘ مجھے فخر ہے میں نیشنل کالج آف آرٹس کا حصہ ہوں













