اسرائیل، فلسطین تنازعہ اور عالمی بے حسی
تحریر: سلمان احمد قریشی
اسرائیل، فلسطین تنازع دنیا کے طویل تنازعات میں سے ایک ہے۔1897ء کی پہلی صیہونی کانگریس اور 1917 کے اعلامیہ سمیت فلسطین میں یہودیوں کے وطن کے دعووں کے عوامی اعلانات نے خطے میں ابتدائی تناؤ پیدا کیا۔ابتدائی تنازع کو حل کرنے کی کوششوں کا اختتام 1947ء کے اقوام متحدہ کے تقسیم کے منصوبہ برائے فلسطین اور 1947-1949ء کی فلسطین جنگ میں ہوا، جس سے وسیع تر عرب اسرائیل تنازع کا آغازہوا۔ 1967 میں ایک اور جنگ میں اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس اور غربِ اردن کے ساتھ ساتھ شام میں گولان کی پہاڑیوں، غزہ کی پٹی اور مصر میں آبنائے سینا پر بھی قبضہ کر لیا۔اسرائیل پورے بیت المقدس کو اپنا دارالخلافہ مانتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی بیت المقدس کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت مانتے ہیں۔ امریکہ ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو اسرائیلی دعوے کو تسلیم کرتا ہے۔گذشتہ52 سالوں میں اسرائیل نے یہاں آبادیاں بنا لی ہیں جہاں چھ لاکھ یہودی رہتے ہیں۔غزہ میں فلسطینی عسکریت پسند گروہ حماس برسراقتدار ہے جس نے اسرائیل سے کئی مرتبہ جنگ کی ہے۔ اسرائیل اور مصر سختی سے غزہ کی سرحدوں کی نگرانی کرتے ہیں تاکہ حماس تک ہتھیار نہ پہنچیں۔
گذشتہ 27 سالوں میں امن مذاکرات وقتاً فوقتاً ہوتے رہے ہیں مگر معاملات حل نہیں ہوسکے۔ 1967ء کی 6 روزہ جنگ میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی فوجی قبضے کے بعد موجودہ اسرائیل فلسطین تنازعہ عالمی امن کے لیے ایک بڑے خطرہ کے طور پر موجود ہے۔امن عمل کے ایک حصے کے طور پر تنازعہ کو حل کرنے کے لیے مختلف کوششیں کی گئی ہیں۔امریکہ اور مغربی طاقتوں نے اسرائیل کے سرپرست کے طور پر فلسطینی مسلمانوں پر ظلم اور بربریت کو ختم نہیں ہونے دیا۔
1993-1995ء کے اوسلو معاہدے کے ساتھ دو ریاستی حل کی طرف پیش رفت ہوئی، لیکن پرامن حل نہیں نکل سکا۔ دنیا بھر میں تاریخی، ثقافتی اور مذہبی دلچسپی کے مقامات سے مالا مال خطے میں تنازعات کی کشیدگی، تاریخی حقا ئق، سلامتی کے مسائل اور انسانی حقوق سے متعلق موضوعات متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں کا موضوع رہا ہے۔2014ء میں الفتح اور حماس دونوں پر مشتمل فلسطینی اتحاد کی حکومت تشکیل دی گئی۔ امن مذاکرات کا دور جولائی 2013ء میں شروع ہوا اور 2014ء میں معطل ہو گیا۔مئی 2021ء میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اسرائیل-فلسطین کا بحران مظاہروں کے ساتھ شروع ہوا جو غزہ سے راکٹ حملوں اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں بڑھ گیا۔اب اکتوبر 2023میں حماس نے اچانک اسرائیل پر راکٹ فائر کیے اور ایک بھرپور حملہ ہوا۔اسرائیل نے فضائی حملے شروع کردئیے۔ اس کشیدگی اور حملوں سے دونوں اطراف انسانی جانوں کے ضیاع کی اطلاعات ہیں۔ خون بہہ رہا ہے۔ عالمی امن کو قائم رکھنے کی ذمہ دار اقوام متحدہ امریکہ کی اسرائیل کی سرپرستی کی وجہ سے مکمل ناکام ہے۔ضرورت اس امر کی تھی کہ امن تلاش کیا جاتا اس کے برخلاف امریکہ ایران کو ملوث کرنے کا خواہش مند ہے۔9اکتوبر 2023کو امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل پر حماس کے اچانک حملے کی منصوبہ بندی میں ایران نے مدد کی۔حماس اور لبنان کی حزب اللہ کے سینئر ارکان کے حوالے سے وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی سیکیورٹی حکام نے اسرائیل پر حماس کے اچانک حملے کی منصوبہ بندی میں مدد کی۔اخبار کے مطابق لبنانی دارالحکومت بیروت میں ہونے والے اجلاس میں ایران نے طوفان الاقصیٰ آپریشن کے لیے گرین سگنل دیا۔
واضح رہے کہ حماس کا یہ حملہ 1973 کی یوم کپور جنگ کے بعد سے اسرائیل کی سرحدوں کے اندر سب سے بڑا حملہ ہے۔ امریکہ سمیت یورپی ممالک اور بھارت اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونگے۔ظلم اور ناانصافی کی انتہا ایران کو براہ راست ملوث کرنے کی کوشش کی گئی۔ چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ چین کو فلسطین اسرائیل کشیدگی میں حالیہ شدت اور تشدد میں اضافے پر گہری تشویش ہے۔ چین تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے فوری طور پر فائر بندی کریں۔شہریوں کی حفاظت کریں اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکیں۔ چینی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازع کا بار بار رونما ہونا اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ امن عمل کا طویل مدتی تعطل ناقابل برداشت ہے۔ تنازع کے حل کا بنیادی راستہ دو ریاستی فارمولے پر عمل درآمد اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں مضمر ہے۔ بین الاقوامی برادری کو فلسطین کے مسئلے پر مزید زور دیتے ہوئے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کی جلد بحالی کو آگے بڑھانا ہوگا اور دیرپا امن کے حصول کا راستہ تلاش کرنا ہو گا۔ چین اس مقصد کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔روس نے بھی پر امن حل پر زور دیا۔او آئی سی اور اقوام متحدہ کسی عملی حل کی طرف بڑھ نہیں سکتے جب تک امریکہ جانبدار کردار ترک نہیں کرتا۔خطہ میں مزید خون ریزی ہوگی۔مظلوم فلسطینی مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ امن کے ٹھیکیدار انصاف کرنا نہیں چاہتے۔ اسرائیل کی سرپرستی کا مطلب امن کی بجائے ظالم کو موقع دینا ہے۔جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں بلکہ جنگ خود ایک مسئلہ ہے۔ اس کی تمام تر ذمہ داری امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک پر عائد ہوتی ہے۔ عالمی طاقتیں اپنے مفاد کے لیے مظلوم فلسطینیوں کے خون پر سیاست کرنے میں مصروف ہیں۔ ظلم جتنا مرضی کرلیں اسرائیل بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔
گزشتہ سات دہائیوں میں اقوام عالم اس مسئلہ کو کوئی منصفانہ اور پرامن حل تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ متعدد عرب ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے اور اس کے ساتھ سفارتی و تجارتی مراسم استوار کیے ہیں لیکن فلسطین کا مسئلہ بھی جوں کا توں رہا ہے۔ حتی کہ کوئی عرب ملک اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے مقبوضہ علاقوں میں یہودی آبادکاری کا سلسلہ بند کرنے کا وعدہ لینے میں بھی ناکام رہا ہے۔ امریکہ کی سرپرستی میں فلسطینیوں کا قتل عام جاری رہا۔ فلسطین کا سوال اہم عالمی مشاورت میں بھی ثانوی حیثیت اختیار کرچکا تھا۔ البتہ حماس کے حملہ سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور اگر دنیا کی بڑی طاقتیں اس معاملہ پر مسلسل خاموش رہیں اور اسرائیل کی سرپرستی کرتے ہوئے محض طفل تسلی کے لیے فلسطین کا ذکر کیا جاتا رہا تو فلسطینی باشندوں کے دلوں میں لگی آگ دنیا کے امن کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔عالمی امن کی کنجی امریکہ کے پاس ہے۔ یہ امریکی قیادت پر منحصر ہے کہ وہ امن کو قائم کرنا چاہتی ہے یا اپنے ذاتی مفاد کے لیے عالمی امن کو قربان کرنے کی پالیسی پر گامزن رہتی ہے۔اب بھی بات چیت کے ذریعے دو ملکی حل نہ نکالا گیا تو امریکہ کے لیے دنیا بھر میں نفرت میں اضافہ ہوگا اور کوئی بھی تباہی سے بچ نہیں سکے گا۔










