فلسطین اوراسراٸیل جنگ

تحریراللہ نوازخان

فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل کے اندرآپریشن الاقصی فلڈکاآغاز کیا،جس میں سینکڑوں صیہونی ہلاک اور گرفتار کر لیے گئے ہیں۔حماس نے پانچ ہزار راکٹ اسرائیل پر فائر کیے ہیں،جبکہ اسرائیل کا دعوی ہے کہ صرف 25 سو راکٹ داغےگئے ہیں۔اطلاعات ہیں کہ ہلاک اسرائیلیوں کی تعداد 1106 ہے اور 2741 اسرائیلی زخمی ہو چکے ہیں۔اب بھی جنگ جاری ہے جس میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔حماس نے اسرائیل کے F_16 طیاروں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے اور زمینی حملے بھی جاری ہیں۔حماس کا کہنا ہے کہ ہم طویل جنگ کے لیے بھی تیار ہیں۔اسرائیل بھی فلسطینیوں پر حملےکر رہا ہے۔سینکڑوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور کئی زخمی ہیں۔غزہ کی پٹی کا محاصرہ بھی ہو چکا ہے۔غزہ کے مظلوموں کے لیے پانی اور بجلی منقطع کر دی گئی ہے،حالات کی خرابی کی وجہ سے خوراک اور گیس کا ذخیرہ بھی ختم ہو چکا ہے۔جس کی وجہ سے غزہ کے رہنے والے فلسطینی شدید اذیت کا شکار ہیں۔حماس نے اس بات پر آمادگی ظاہر کر دی ہے کہ جنگی مذاکرات ہوں۔فلسطین کی تنظیم حماس نے تنگ آکراسرائیل پر حملہ کیا ہے،کیونکہ 1948 سے لے کراب تک مظلوم فلسطینی بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔عالمی طاقتوں نےامت مسلمہ کی پیٹھ میں خنجر گھونپ کرفلسطین کو اسرائیل کے حوالے کر دیا ہے۔فلسطینی چھوٹے سے علاقے میں محدود ہیں اور وہاں بھی ان کی زندگی سخت شکنجے میں پھنسی ہوئی ہے۔پنجہ یہود ان کوزندہ درگور کیے ہوۓ ہے۔فلسطینیوں کی اپنی زمین ان پر تنگ کر دی گئی ہے۔حزب اللہ نے بھی حماس کی کچھ امداد کی ہے اور ایران بھی فلسطینیوں کی مدد کر رہا ہے۔اس کے علاوہ کسی مسلم ممالک نے فی الحال فلسطینیوں کی کوئی مدد نہیں کی۔کافی عرصہ سےیہودی، فلسطینی مظلوم عوام پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔1948 میں ناجائز ریاست اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا اور 1967میں اسرائیل نے فلسطینیوں کے بہت سے علاقوں پر مزید قبضہ کر لیا تھا۔اسرائیل کی امداد عالمی طاقتیں کر رہی ہیں،امریکہ ان میں سرفہرست ہے۔اب بھی امریکہ نے جنگی امداد بھیجی ہے،اس امداد میں جنگی ساز و سامان،لڑاکاطیارے،ہتھیار اورگولہ وبارودشامل ہیں۔امریکی وزیر دفاع لائڈآسٹن نے کہاہے کہ امریکی فضائیہ بھی علاقے میں اپنی طاقت بڑھائے گی اور اسرائیل کے لیے مزید ساز و سامان بھیجے گی۔غیر مسلم طاقتیں کھلم کھلااسرائیل کا ساتھ دے رہی ہیں۔فلسطینی مالی لحاظ سے بھی کمزور ہیں اور ان کے پاس اسلحہ و بارود کی بھی کمی ہے،اس کے علاوہ ان کے پاس لڑاکاآرمی بھی کم ہے،جس کی وجہ سےوہ کمزور پوزیشن پر ہیں۔حالات بتا رہے ہیں کہ فلسطینوں پر مزید ظلم کا بازار گرم ہوگا۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان کو سزا دی جائے گی جو مدتوں یاد رہے گی۔یہ امت مسلمہ کے لیے بھی آزمائش کا سبب بن رہی ہے کہ کون ان کی مدد کو پہنچتا ہے۔لیکن ایک بات کایقین ہے کہ اللہ تعالی کی مدد ضرور ان کو پہنچے گی۔تعداد کم ہونے اور اسلحہ و بارودکی کمی کے باوجود بھی انشاءاللہ ایک نہ ایک دن وہ کامیاب ٹھہریں گے۔کم از کم وہ لڑ تو رہے ہیں،ان کو یہ افسوس تو نہیں رہے گاکہ ہم نے کوئی کوشش ہی نہیں کی۔
فلسطین سے مسلمان محبت کرتے ہیں،کیونکہ فلسطین سے مذہبی وابستگی ہے۔فلسطین پیغمبروں کی زمین بھی ہے اور وہاں قبلہ اول بھی موجود ہے۔مسجد اقصی وہاں موجود ہونے کی وجہ سے متبرک علاقہ کہا جاتا ہے۔مذہبی لحاظ سے مسلمان فلسطین کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔کہا جا سکتا ہے کہ فلسطین صرف عرب مسلمانوں کانہیں بلکہ تمام امت مسلمہ کا ہے۔کچھ احباب کہتے ہیں کہ فلسطین کاعلاقہ صرف چندعربوں کا ہے اور وہاں معمولی سی جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ان کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ فلسطین صرف چند عربوں کا نہیں بلکہ تمام امت مسلمہ کاہے۔پوری امت مسلمہ فلسطین کی مدد کے لیے اٹھ کھڑی ہو۔پاکستان کو بھی چاہیے کہ مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی دل کھول کر مدد کرے۔مدد صرف رقم کی نہ ہو،بلکہ اسلحہ کے ساتھ افرادی مدد بھی شامل ہو۔پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اور کلمہ کی بنیاد پر وجود میں آیا ہے لہذا اس کا حق بنتا ہے کہ مظلوم مسلمانوں کی مدد کرے،مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے حالات خود ہی بگڑے ہوئے ہیں۔لیکن پاکستان کے حالات اس نہج پر نہیں پہنچے کہ خدانخواستہ کہا جائے کہ فلسطین سے بھی بدتر ہیں،پاکستانی قوم فلسطینیوں کی مدد کے لیے تیار ہے۔پاکستان پر امریکہ سمیت کئی ممالک کاپریشرآ سکتا ہے جس کی وجہ سے فلسطینیوں کی امداد سے قاصر ہوگا،مگر پاکستان کواس پریشرکو برداشت کرنا ہوگا اور فلسطینیوں کی ہر قسم کی امداد بھیجنی ہوگی۔اسلامی ممالک خصوصا عرب اسلامی ممالک فلسطین کی ہر قسم کی مدد کریں۔یہ مدد مسلمان ہونے کے ناطے بھی ضروری ہے اور ان کےدفاع کے لیے بھی ضروری ہے،کیونکہ اسرائیل جس طرح دعوی کرتا ہے کہ گریٹر اسرائیل بنایا جائے گا،آہستہ آہستہ وہ دوسرے ممالک کی طرف بھی بڑھے گا،اس وقت اس کو روکنا ناممکن ہو جائے گا۔امت مسلمہ اگر اب بھی اتحاد کر کے اسرائیلیوں کےقبضہ سے فلسطین کوآزاد کروا لے تو ان کا مستقبل محفوظ ہو سکتا ہے۔امت مسلمہ کی خاموشی قابل افسوس ہے،حالانکہ دنیا کے کئی ممالک اعلانیہ طورپرصہینیوں کی مدد کر رہے ہیں۔
فلسطین کو صرف محل وقوع کے حساب سے نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اس کو اسلامی نقطہ نظرسے دیکھنا چاہیے۔حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حدیث ہے”مومنوں کی مثال تو ایک جسم کی طرح ہے کہ اگر ایک عضو(حصہ)کوتکلیف پہنچے تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے“(بخاری شریف)ہمیں فلسطینی مسلمانوں کی مدد کرنی چاہیے.وہاں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے۔وہاں مظلوم مسلمان مرد،عورتیں اور بچے شہید ہو رہے ہیں۔ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہو رہے ہیں۔ان کو علاج معالجے اور خوراک کی بھی ضرورت ہے۔اگر ہم اسلحہ اور افرادی قوت نہیں دے سکتے تو کم از کم ان کوخوراک اور ادویات تو دیں۔اس وقت وہ ہم سے بدتر صورتحال میں ہیں۔ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ سعودی عرب یا کوئی دوسرا ملک ان کی امداد نہیں کر رہا بلکہ یہ ہم پر فرض ہے کہ ہم ان کی ہر قسم کی مدد کریں۔فلسطین پراسرائیل کا ناجائز قبضہ جب تک ختم نہیں ہوتا ہمیں ان کی ہر قسم کی مدد کے لیے تیار رہنا چاہیے۔اس بات کا علم ہے کہ فلسطینی آسانی سے جنگ نہیں جیت سکتے مگر آسانی سے شکست بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں،یہ جذبہ جب تک ان میں زندہ ہے وہ شکست نہیں کھا سکتے۔فلسطینی مسلمانوں کا حوصلہ بلند ہے اور بلند رہے گا۔بلند حوصلہ ایک نہ ایک دن فلسطینی مسلمانوں کوآزادی کا سورج دکھا ہی دے گا۔