ماسٹراں۔۔ دا۔رولا ۔۔کی اے۔۔۔۔
چشم کشا حقائق۔۔۔ سٹارنیوزپر

آجکل ہر جگہ ہر وقت ہر بندہ دو سوال کر رہا ہے
1۔ ماسٹراں دا کی رولا اے
2۔ ماسٹراں دا کی بنیا اے
میں آج ان دو سوالات کے جواب دینے کی کوشش کروں گا
سب سے پہلے تو یہ اساتذہ کا مسئلہ نہیں بلکہ دو طاقتور ادارے چھوڑ کر باقی تمام ملازمین کا مسئلہ ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ملازمین کو نوکری دیتے وقت آئین نے جو حقوق دیے تھے اب وہ تمام حقوق ختم کیے جا رہے ہیں
گریڈ ایک کے سویپر سے لے کر گریڈ بیس کے افسر تک ہر بندہ نوکری کے پہلے دن سے لے کر آخری دن تک اپنی اصل تنخواہ سے کٹوتی کرواتا ہے کہ جب ریٹائر ہوں گا تو ریٹائرمنٹ ملے گی، جس سے اپنی بیٹی کی شادی کر لوں گا یا اپنے بوسیدہ مکان کی مرمت کر لوں گا، اب حکومت یہ حق ختم کر رہی ہے
ایک انسان کوئی بزنس کرتا ہے تو وہ بزنس اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹے اور اس کے بعد نسل در نسل منتقل بھی ہوتا جاتا ہے اور پھیلتا بھی جاتا ہے، ایک سرکاری ملازم اپنی آدھی زندگی تعلیم میں اور پھر ساٹھ سال تک کی عمر اپنے محکمہ کو دیتا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد جب بوڑھا ہو جاؤں گا تو گورنمنٹ میرا سہارہ بنے گی، اُنکی پینشن اب ختم ہو رہی ہے
جب سب ملازمین کا مسئلہ ہے تو ٹیچر کیوں احتجاج کر رہے ہیں، باقی محکمے کیوں نہیں، اُسکا جواب یہ ہے کہ ساڑھے سات لاکھ فوج کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ تعداد اساتذہ کی ہے، وہ سب متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے احتجاج کر رہے ہیں
اب سوال یہ کے سکولز کی تالہ بندی کر کے بچوں کا تعلیمی حرج کیوں کیا جا رہا ہے؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جب کسی نشئی کو نشہ پورا کرنے کے لیے پیسے نہیں ملتے تو وہ گھر کی چیزیں بیچنا شروع کر دیتا ہے ایسا ہی معاہدہ سیاسی جماعتوں نے آئی ایم ایف سے کیا ہے کہ قومی اثاثہ جات اور ادارے بیچ کر ڈالر اُدھار لیں گے اور پھر لوٹ کر بیرون ملک بھاگ جائیں گے.
سرکاری سکولوں میں صرف سفید پوش لوگوں کے بچے پڑھتے ہیں، جن کے پاس ضرورت سے تھوڑی سی بھی زیادہ آمدن ہوتی ہے وہ اپنے بچے مقامی پرائیویٹ اداروں میں لے جاتے ہیں اور اگر حالات اچھے ہوں تو ضلع کے بہترین پرائیویٹ اداروں میں لے جاتے ہیں جہاں کی داخلہ فیس کم از کم تیس ہزار ہوتی ہے، یہ باتیں میں فرضی کہانیاں نہیں بنا رہا میں نے نوکری کی ابتدا ضلع کے دو بہترین اداروں سے کی اور اب 10 سال ہو گئے ہیں سرکاری ملازمت کو.
کچرا حکومت کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ سرکاری اسکولز کو بیچ دو، اُن کے انکار کے بعد ( کہ ہم عوام میں جانے کے قابل نہیں رہیں گے) جاتے جاتے اُن سے یہ قانون پاس کروایا گیا کہ نگران حکومت اپنے فرض الیکشن کروانے کے علاوہ ہر وہ کام کر سکتی ہے جس کی پہلے آئین میں اجازت نہیں تھی. نگران حکومت اپنے ٹاسک کو پورا کرتے ہوئے سرکاری اسکولز کو غیر ملکی این جی اوز کو بیچ رہی ہے، جو اپنی مرضی کی فیسیں لیں گی اور اپنی مرضی کا سلیبس پڑھائیں گی ، جہاں ایک طرف روح ایمانی کا خاتمہ اور دوسری طرف سفید پوش لوگوں کے لیے تعلیم دلوانا نہ ممکن ہو جائے گا، اس طرح کی بھیڑ بکریوں اور ان پڑھ طبقے کو بیوقوف بنانا آسان ہوگا جیسا کہ پچھلے چھہتر سال سے ہو رہا ہے
تو پھر احتجاج کس کو کرنا چاہیے؟ کیا تعلیم صرف ملازمین نے اپنے بچوں کو دلوانی ہے؟
اگر تو باقی عوام بھیڑ بکریاں ہیں تو پھر واقعی ماسٹراں دا رولا اے