سیاست میں حالات کیسے بدلتے ھیں #این اے 110 اور نواب بابر خان سیال

تحریر علی امجد چوہدری

شاید 2002تھا جنرل مشرف اقتدار پر براجمان تھے نیا بلدیاتی نظام متعارف کروایا گیا اور اسی نظام کے تحت یہ بلدیاتی انتخابات منعقد ہو رہے تھے جھنگ کی نظامت کے لیئے تین بڑے امیدوار میدان میں تھے صاحبزادہ سلطان حمید صاحب قیصر احمد شیخ اور سیدہ صغری امام مدمقابل تھے صاحبزادہ سلطان حمید صاحب ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں قدم رکھ رہے تھے حالات صاحبزادہ گروپ کے لیئے کسی بھی طرح موزوں نہیں تھے اس انتخاب میں ناظم اور کونسلر کا ووٹ برابر تھا پولنگ ہوئی سیدہ صغری امام کے شاید سات سو سے کچھ زائد ووٹ تھے صاحبزادہ سلطان حمید صاحب کے ووٹ پانچ سو سے کچھ اوپر تھے اور قیصر احمد شیخ تین سو سے کچھ زائد ووٹ لے سکے نئی اصطلاحات کے مطابق پچاس فیصد ووٹ ضروری تھے کوئی بھی امیدوار کل ووٹس کا پچاس فیصد نہ لے سکا قانون کے مطابق پہلے دو امیدوار ان میں مقابلہ ہونا تھا قیصر احمد شیخ دوڑ سے باہر ہو گئے انہوں نے کسی کی حمایت کا اعلان نہیں کیا ان کا ووٹ آزاد ہوگیا یہ ووٹ سطان حمید کی طرف جھکاؤ کر گیا اور وہ ہارا ہوا الیکشن جیت گئے ایک بار سابق وزیر خارجہ مرحوم صاحبزادہ نذیر سلطان سے ون ٹو ون ملاقات میں یہی سوال ان کے سامنے رکھا کہ کیا آپ کو توقع تھی کہ اتنے واضح فرق کے بعد دوسرے مرحلے میں سلطان حمید جیت جائیں گے تو جھنگ کے زیرک اور دو اندیش سیاستدان نے ایک فقرے میں بات ختم کر دی کہ سلطان حمید بچپن سے خوش قسمت تھے اور ہمیں پہلے مرحلے سے قبل بھی یقین تھا کہ شکست ان کو چھو بھی نہیں سکے گی این اے 110 کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے قسمت کا طاقت کا میچ چل رہا ہے اور ماضی کے واقعات بتاتے ہیں کہ قسمت سب پر بھاری ہوتی ہے اور معاملہ یہاں نواب بابر خان سیال کا بھی کچھ ایسا ہی لگ رہا ہے کیونکہ قسمت کے یہ بھی بڑے دھنی ہیں شکست ان کے بھی کبھی قریب سے نہیں گزری اور شاید سلطان حمید والی کہانی ایک بار پھر دہرا دی جائے
علی امجد چوہدری