*کاروبار تباہ کیوں ہوتے ہیں?*
تحریر :*محمد عزیر گل*
حاجی فیاض نے ایک دیہات میں کوکا کولا کی کی سپلائی شروع کی ، اس کام کا آغاز ایک چھوٹی سی دوکان سے کیا ، جس میں ایک شخص معاون تھا ، وقت کے ساتھ ساتھ اس نے مکمل علاقے میں سپلائی دینے کا فیصلہ کیا اور یوں اس کی ڈیمانڈ بڑھنے لگی ، بہت جلد ہی ترقی ہونے لگی ، حاجی فیاض نے اپنے بھانجوں ، بھتیجوں اور اکلوتے بیٹے کو بھی شامل کرلیا ، تمام معاملات اپنی نگرانی میں کرواتا ، اگر ورکر کسی دوسرے کام میں مصروف ہوتے تو وہ خود سپلایئ کے چلا جاتا ، اپنے بیٹے سے سپلائی کا کام کرواتا تاکہ وہ تمام چیزوں سے واقف ہوجائے ، سب کچھ اچھا تھا کہ اچانک حاجی فیاض کی وفات ہوگئی اور ایک وسیع کاروبار بیٹے کے سپرد ہوگیا ، بیٹا کاروبار کے تمام پہلوں سے اچھی طرح سے واقف تھا وہ تمام معاملات جانتا تھا ،اس نے ابتدا میں کاروبار کو بہت ترقی دی ، اپنی تمام تر توجہ اسی پر رکھی ، اپنے تمام پاٹنرز کو ایک متعین شرح کے حساب سے نفع دیتا اور تمام معاملات خود دیکھتا ، لیکن حاجی فیاض کے بیٹے کی دوستی اچھی نہیں تھی ، والدکی وفات کے کچھ ہی عرصہ کے بعد وہ دوستی کے معاملات میں اس قدر الجھا کہ کاروبار کی طرف توجہ ہی نہ رہی ، کئی کئی دن تک کمپنی کے معاملات کو نہ دیکھتا ،پارٹنرز نے بہت سمجھایا ، مگر وہ اس موضوع پر بات کرنا ہی پسند نہیں کرتا تھا ، اس کے دوستوں نے اس کو استعمال کرنا شروع کردیا ، اس کے نام پر قرضے لینا ، اس کو سیر و سیاحت پر لے کر جانا اور نشہ جیسی موذی مرض میں مبتلا کرنا ،یہی وجہ کہ کاروبار کا دائرہ کار ختم ہونے لگا ، باوجود ڈیمانڈ کے وہ اپنی نا اہلی کی وجہ سے سپلائی پوری نہ کرسکتے اور کاروبار ختم ہونے تک کی نوبت آگئی ، پارٹنرز نے سرمائے کا مطالبہ کیا یا پھر دوسری صورت میں کمپنی ان کو سپرد کرنی پڑے گی ، باوجود اس کے کہ وہ اس کو سنبھال سکتا تھا اس کو دوبارہ بہتری کی طرف لا سکتا تھا ، اس نے اپنے دوستوں کے مشورہ سے اس کمپنی سے دستبرداری کا اعلان کردیا اور سب کچھ پارٹنرزکے سپرد کردیا۔
کسی بھی کاروربار میں ترقی کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہے ، اس کی ترقی کے لیے نہ صرف سرمایہ اور محنت صرف ہوتی ، بلکہ بعض کاروبار میں وقت کی بھی بہت اہمیت ہوتی ہے ، بہت سارے کاروبار کی کامیابی کے پیچھے کئی نسلیں اور کئی دہائیاں ہوتی ہیں ، وہی کاروبار جس کو کامیاب کرتے کرتے کئی نسلوں نے اپنی زندگی کو کھپا دیا ہوتا ہے ، اس کی کامیابی کا سفر کئی دہائیوں پر محیط ہوتا ہے ، وہ چند سالوں یا مہینوں میں اپنا وجود کھو دیتا ہے ، اس کی کئی وجوہات و اسباب ہوتے ہیں ، اس ،میں درج ذیل یہ ہیں :
1: *عدم توجہ*
کسی بھی کامیاب کاروبار میں سب سے زیادہ اہم چیز مالک کی اس میں توجہ ہوتی ہے ، وہ اس کو جتنا زیادہ وقت دے گا ، اس کے معاملات پر نظر رکھے وہ اتنا ہی زیادہ ترقی کرے گا اور اپنے معاملات اپنے ملازمین کے حوالے کردیے جائیں توا یک ترقی یافتہ بزنس بھی تنزلی کا شکار ہوجاتا ہے ، اس لیے کسی بھی طور پر سستی ، کاہلی ، کام سے جی چرانا اور اہم معاملات میں لاپرواہی برتنے سر گریز کرنا چاہیے ۔
2: *ذمہ داری کا احساس نہ ہونا*
کاروبار میں تنزلی کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ اپنے بزنس میں ذمہ داری کا احساس نہ ہونا ہے اور سنجید گی کا فقدان ہے ، وہ اپنی ذمہ داریوں کو دوسروں کے کندھوں پر ڈال کر انتہائی غیر سنجیدہ قدم اٹھاتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ ایک پھلتا پُھولتا کاروبار ختم ہوجاتا ہے ، اس لیے اپنی ذمہ داری کو خود پورا کریں ، کسی دوسرے شخص پر ایسے معاملات میں اعتماد نہ کریں ، کیونکہ اپنے کاروبار کو مزید بہتری کی طرف لے جانے کے لیے جتنے آپ سنجیدہ اور فکر مند ہوں گے ، کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا ۔
3: *بری عادات اور بری دوستی سے دوری*
بری عادات اور بری دوستی سے ہمیشہ بچنے کی کوشش کریں ، کیونکہ عمومی طور پر یہی مشاہدہ ہے کہ جب کسی ایسے شخص کو اقتدار ، اختیار یا دولت ملتی ہے ، جس سے پہلے زیادہ مانوسیت نہ تھی ، ایسے لوگوں کے ارد گرد بہت سارے ایسے افراد جمع ہو جاتے ہیں ، جو ان کی دیکھنے ، سننے ، بولنے اور سوچنے کی صلاحیتوں کو ختم کردیتے ہیں ، وہ ان کو اس قدر الجھاتے ہیں کہ وہ اپنی اصل مقصد ہی بھول جاتا ہے ، لہذا ایسی صورت حال میں خاندان کے بڑوں بزرگوں کا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے ۔










