پاکستان کے سیاستدان

تحریر:اللہ نوازخان

کیااچھی،مضبوط اور بہترین قیادت پاکستانیوں کو مل سکتی ہے؟ہر لیڈر اس بات کا دعوے دار ہے کہ مجھ سے زیادہ پاکستان کاخیرخواہ کوٸ اورہے ہی نہیں۔کھمبیوں کی طرح روز اگنے والے لیڈر کیا پاکستان کے مفاد میں کچھ کرسکیں گے یا نہیں؟اکثر سیاست دانوں کی بدزبانی اچھا تاثر نہیں چھوڑتی۔کسی لیڈر کا سیاسی جلسہ دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ کوئی فلم چل رہی ہے جس میں سلطان راہی ٹائپ کا کوئی فرد بھڑکیں ماررہا ہے اور مخالفین کوبرباد کرنے کے درپےہے۔کیا سیاستدان کسی ضابطہ اخلاق کے پابند ہیں یا نہیں؟یہ ان کی مجبوری ہے یا کوئی اور وجہ ہے کہ وہ اس قسم کی زبان استعمال کرتے رہتےہیں۔سیاست دانوں کے فلمی انداز کے جلسے نوجوانوں کو کیا سکھا رہے ہوتے ہیں؟سیاستدانوں کی تقاریربھی عجیب ڈراموں سے پر ہوتی ہیں۔ان کی تقاریر کا لب لباب یہ ہوتا ہے کہ وہ اصل جمہوریت پسندسیاستدان ہیں اور وہ ملک کی تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔اگر ماضی میں ان کے پاس کوئی عہدہ رہ چکا ہو تو بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ ان کا دورپاکستان کا بلکہ انسانی تاریخ کا بہترین دورتھا۔وہ اپنے دور کا ترقی یافتہ ممالک سے موازنہ کر کے بتاتے ہیں کہ ہمارا دور مثالی تھا۔حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرف واضح ہوتی ہے کہ ان کادوربدترین دورہوتا ہے،مگر کمال ڈھٹائی سے جھوٹ بولا جاتا ہے۔ان سیاستدانوں کو اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ ہمارا جھوٹ پکڑنے والا کوئی نہیں۔ثابت بھی ہو جائے تو کون ان سے پوچھ سکتا ہے کہ اپ جھوٹ کیوں بول رہے ہیں؟سیاست دانوں کو ضرورضابطہ اخلاق کی پابندی کرنی چاہیے۔ویسے بھی پاکستان میں کسی بھی مسئلے یا بات کو اس طرح الجھالیا جاتا ہے کہ حق اور سچ کا پتہ ہی نہیں چلتا۔بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ ایک فرد کہہ رہا ہوتا ہے کہ ایک دہشت گرد مارا گیا ہے اور دوسرا کہہ رہا ہوتا ہے کہ وہ شہید ہو گیا ہے۔پاکستانیوں کے شہادت کا معیار بھی علیحدہ قسم کا ہے۔سیاستدانوں کی دیکھادیکھی عام عوام بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتی ہے۔عوام بھی اس بات کونظر انداز کر دیتی ہے کہ سچ بولنا ضروری ہے یا نہیں؟سچ کا فقدان ہے مگر سیاستدان تو سچ سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔بعض سیاستدان اپنی زبان کو اتنا دراز کر دیتے ہیں کہ گالیاں نکالنا بھی اپنا حق سمجھ لیتے ہیں۔اب یہ پاکستانی قوم کی سوچ بن گئی ہےکہ جو زیادہ زبان دراز ہو اور زیادہ گالیاں نکالنے والا ہو،وہ ایک اچھا لیڈر سمجھ لیا جاتا ہے۔سیاستدانوں کی اگراچھی طرح باز پرس کی جائے توسیاستدان آئندہ کے لیے کچھ خیال کر سکتے ہیں۔
سیاست یا حکومت کرنا کوئی بری بات نہیں بلکہ یہ پیغمبرانہ پیشہ ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام،حضرت داؤد علیہ السلام اورحضرت سلیمان علیہ السلام بھی حکمران گزرے ہیں اور ان جیسی کئی ہستیاں بھی حکومت کر چکی ہیں،لیکن مجال ہے تاریخ نے ان پرنقطہ چینی کی ہو۔ان کے ادوار مثالی تھے۔سب سے بڑی مثال حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دی جا سکتی ہے کہ وہ نبی ہونے کے باوجود ایک اچھے سیاستدان بھی تھے۔انہوں نے دنیا کو ایک ایسا مثالی معاشرہ دیا جس کی مثال ہی نہیں ملتی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم بطور سیاستدان اچھے اور بہترین توتھےہی، اتنے ہی اخلاقی لحاظ سے بھی اعلی و بے مثال تھے۔حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا بڑے سے بڑا دشمن بھی ان کی اچھائی اور عظمت کا قائل ہے۔پاکستان میں رہنے والے سیاستدان مسلمان ہونے کے باوجود بھی ان کا راستہ اپنانے میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ ان کے الٹ چلتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین نے بھی بہترین دور گزارا۔خلفائے راشدین بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ تھے اور ان کی تربیت کا اثر تھا کہ وہ تاریخ کے بہترین حکمران تسلیم کیے جاتے ہیں۔اسلامی تاریخ کے علاوہ دوسرے مہذب معاشروں کا بھی جائزہ لیا جائے تو اچھی طرح علم ہو جاتا ہے کہ بہترین معاشرے کے لیے کس قسم کا حکمران اچھا ہوتا ہے۔مہذب معاشرہ میں جھوٹ بولنا ایک برائی سمجھتا جاتا ہے،اسلام میں تو اللہ کی ناراضگی کا سبب بنتا ہے اور جھوٹے کو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔پاکستانی سیاستدانوں کو اگر خداکا خوف ہوتاتو جھوٹ بولنے سے گریز کرتے۔خدا کا خوف تو چھوڑیے، عوام کا بھی دباؤ برداشت نہ کر پاتے۔لیکن ان کو اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام ہماراکچھ نہیں بگاڑ سکتی۔اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ اسلامی خلفاء طاقتورترین ہونے کے باوجود بھی عام آدمی کے آگے اپنے آپ کو جواب دہ سمجھتے اوران کواللہ کاخوف بھی ہوتا۔
اب سوال اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان کو اچھے سیاستدان میسرآسکتے ہیں یا نہیں؟ہم یہ نہیں کہنا چاہتے کہ تمام سیاستدان پٹری سے اترےہوۓہیں یا پاکستان سے مخلص نہیں۔ چندسیاستدان پاکستانی عوام کے خیر خواہ بھی ہیں اوروہ کوشش بھی کرتے ہیں کہ پاکستانی عوام ایک بہترین قوم بن سکے۔المیہ یہ ہے کہ ایسے سیاستدانوں کوکھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے۔یہ الزام تراشی کی جاتی ہے کہ پاکستانی سیاستدان دوسری طاقتوں کے زیر اثر رہتے ہیں اور ان کے مفاد کےمطابق فیصلے کرتے ہیں۔اگرسیاست دان دوسری طاقتوں کے زیر کنٹرول نہ رہیں اور اپنی مرضی اور عوام کے مفاد کے مطابق فیصلے کریں تو یقینی طور پرقوم میں بلند مقام حاصل کر سکتے ہیں۔پاکستان میں مایوسی بڑھ رہی ہے اوریہ تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ پاکستان کو کوئی اچھا اور بہتر سیاستدان دستاب نہیں ہو سکتا۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب تک عوامی شعور بیدار نہیں ہوگا اچھا سیاستدان پاکستانیوں کو دستیاب ہی نہیں ہوسکتا۔پاکستانی قوم کو چاہیے کہ شعور کو بیدار کرے اورایسے سیاست دانوں کا انتخاب کرے جوبہترین سیاستدان ثابت ہوں۔پاکستان ایک اور عجیب مسلہ کا شکار بھی ہے اور وہ ہے انتقامی سیاست۔انتقامی سیاست پاکستانی سیاست کوآگے بڑھنے سے روک رہی ہے۔کوئی بھی سیاستدان اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہ انتقام نہ لے۔شاید چند گنے چنے سیاستدان ہوں جو انتقامی سیاست کا شکارنہ ہوں،مگر اکثریت انتقامی سیاست کومد نظررکھتی ہے۔اب تو پاکستانی سیاست اتنی بدنام ہو چکی ہے کہ منافق بندے کو سیاسی کہا جاتا ہے۔