قائد صحافت کیسا ہونا چاہیے؟
میرا لیڈر ملک ظفرافضال حیدر

تحریر طاہرعباس سینئر نائب صدر تحصیل پریس کلب رجسٹرڈ کبیروالا

03038558512
2023ء اپنی ہنگامہ خیزی کے ساتھ گزر گیا، ہر نئے سال کے آغاز پر پریس کلب کے سربراہ روایتی پیغامات میں مثبت صحافت اور صحافتی مسائل کی بات کرتے ہیں لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ دنیا نت نئے تنازعات کا شکار ہوتی چلی جاتی ہے جو ’صحافتی مسائل‘ سربراہ کی پالیسیوں کی بدولت جنم لیتے ہیں۔ ہر صحافی پریس کلب کا بڑا عہدہ لینے کا خواہشمند ہوتا ہے لیکن وہ یہ نہیں سوچتا کہ وہ اس عہدہ کے قابل ہے یا نہیں۔ “صحافت کے بحران نے صحافیوں کا بیڑہ غرق کردیا ہے” یہ الفاظ کسی رپورٹر، پریس کلب کے ممبر ایسے شخص کے نہیں ہیں جن کےلیے اب خبر لکھنا مشکل ہو گیا ہے، یہ الفاظ تحصیل پریس کلب رجسٹرڈ کبیروالا کے بانی و چیئرمین ملک ظفرافضال حیدر کے ہیں جو روزنامہ جاگتی خبر ملتان کے چیف ایڈیٹر ہیں۔
آئیے ایک نظر لیڈر پر دوڑاتےہیں کہ لیڈر کیسا ہونا چاہیے؟
لیڈر وہ ہوتا ہے جو ایسے فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو جو اس کے پریس کلب پر مثبت اثرات ڈالتے ہیں۔ ایک قائد ہمیشہ اپنے وژن اور خیالات کی ابلاغ کرتا ہے۔ اپنے آئیڈیاز کو چھپا کر رکھنے والا شخص کبھی بھی لیڈر نہیں بن سکتا کیونکہ نئے اور اچھوتے خیالات کے باعث ٹیم کا ہر شخص انفرادی طور پر بہترین کام کر سکتا ہے اور یہ سب مل کر ہی ایک بہترین ٹیم بناتے ہیں۔ لیڈر وہ نہیں ہوتا جو پالشیوں، مالشیوں اور چغل خوروں کی باتوں پہ توجہ دے بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنے کام کے متعلق حقائق سے باخبر رہے اور اسے پتہ ہو کہ کون سے کارکن کو کون سا عہدہ دینا ہے۔ لیڈر وہ نہیں ہوتا جو منہ پہ کچھ ہو اور پیٹھ پیچھے کچھ۔ نظم و ضبط یعنی ڈسپلن، مثبت سوچ، مثبت عمل، بصیرت، اپنے آپ پر اعتماد، علم، انصاف پسندی، راست بازی، جانچ اور پرکھ، وفاداری، بے غرضی، ہمت و حوصلہ، بھروسہ مندی، قوتِ فیصلہ و برداشت، جوش و ولولہ اور اصول و ضوابط کسی بھی لیڈر کی پہچان ہوتے ہیں چاہے وہ لیڈر گھر کا سربراہ ہو یا کسی شعبہ صحافت، ادارے یا ملک و قوم کا ہو۔ لیڈر اپنی ٹیم کی مطلوبہ چیزوں کی فوری فراہمی آسان بناتا ہے تاکہ انہیں کام کرنے میں کسی مشکل کا سامنا نہ ہو۔ اگر آپ لیڈر ہیں تو اچھی طرح، خوب سوچ سمجھ کر خود سے سوال کیجئے۔ ”کیا میں بھی ایسا ہی کرتا ہوں؟‘‘ اگر جواب نفی میں ملے تو آپ کو علم ہو جائے گا کہ آپ کی کمزوریاں کہاں پوشیدہ ہیں اور کہاں بہتری کی ضرورت ہے اوراگر آپ عام رپورٹر یا پریس کلب کے ممبر ہیں تو سوچئے گا کہ کیا میرے لیڈر میں یہ سب خوبیاں موجود ہیں یا میں ایویں ای عبدللہ دیوانہ ہوں۔