طریقہ بدلیں ,بزنس بڑھائیں
تحریر:محمد عزیر گل
*شریعہ اینڈ بزنس*
ہمارے ہاں ایسے بہت سارے چھوٹے چھوٹے کاروبار ہیں ، جس میں ہم آج بھی وہی طریقہ تجارت اپنائے ہوئے ہیں ، جو آج سے 50 سال پرانا ہے ، جس طرح سے بڑوں نے کا کو شروع کیا اور جس طرح سے ہم دیکھا ، اسی طرح سے اس کو لے کر چلنے لگے ، اس میں کسی قسم کی ایسی تبدیلی نہیں کی ، جو وقت کی ضرورت بھی ہے ، آپ کو دوسروں سے ممتاز بھی کرتی ہے اور آپ کے گاہک کو بھی آپ کی طرف متوجہ کرتی ہے ، حقیقت یہ کہ کسی بھی بزنس میں وقت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا جائے تو آپ کا سو سال پرانا بزنس بھی ترقی کرتا رہتا ہے ، لیکن آج ہم اپنے بازار کے کچھ ایسے کاروبار پر بات کریں گے ، جن میں تبدیلی ضروری ہے ، جو وقت کی ضرورت ہے ۔
*کریانہ*
ہمارے ہاں بازار میں کریانہ کا ایک ہی تصور پایا جاتا ہے ، جس میں آپ کو روز مرہ کی ضروریات زندگی کی اکثر اشیاء میسر ہوتی ہیں ، لیکن اس کریانہ میں اشیاء کو رکھنے کی ترتیب اور لوگوں کو دینے کے طریقے کو بدلنے کی ضرورت ہے ، اب لوگ مارٹ میں جانا پسند کرتے ہیں ، جہاں پر آپ کو ہر چیز ایک خوبصورت پیکنگ میں دستیاب ہوتی ہے ، ہر چیز ایک متعین جگہ پر رکھی ہوتی ہے ، آپ اپنی ضرورت کے مطابق خریداری کرتے ہیں ، اور بہت مرتبہ بھولی ہوئی چیز اچھے ڈسپلے میں رکھی ہوئی یاد آجاتی ہے ، اگر چہ اس تبدیلی میں ابتدائی طور پر ایک بڑی رقم درکار ہے ، لیکن اس تبدیلی کے ساتھ آپ کے کاروبار میں ترقی کی رفتار بہت تیز ہوجاسکتی ہے ۔
*سبزی فروش*
سبزی فروش اپنے علاقے کی منڈی سے سبزی خرید کر بازار میں مختلف طریقوں سے فروخت کرتے ہیں ، کوئی ٹھیلے پر تو کوئی رکشہ پر مختلف گلیوں میں گھوم کر سبزی فروخت کرتے ہیں ، لیکن ان افراد کے ریٹ میں کافی فرق ہوتا ہے اور ان کی سبزیاں بھی بہت محدود ہوتی ہیں ، ان کی سبزی اگر باسی ہو جائے یا خراب تو یہ اس کو دھوکے سے اپنے گاہک کو فروخت کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے ان کی آمدن زیادہ نہیں ہوتی ، اس لیے ان کو چاہیے کہ سبزیوں کو دھو کر صاف رکھے ، اس کو ایک خوب صورت ترتیب سے رکھے ، جس سے ہر سبزی نمایاں نظر آئے ، یہ اپنے ریٹ کو مناسب رکھیں ، سبزیوں میں جو خراب ہو ، اس کو فروخت نہ کریں ، موسم کے لحاظ سے سبزیوں کی مکمل اقسام رکھیں ، اور سبزی دیتے ہوئے ، مرچیں ، دھنیا اور اگر ٹماٹر سستے ہوں تو اپنی طرف سے دیں ، جس سے آمدن میں بہت اضافہ ہو سکتا ہے ۔
*گوشت کا پھٹا*
ہمارے ہاں سب سے زیادہ گندگی گوشت کی دوکان پر ہوتی ہے ، وہ پر مکھیاں منمنا رہی ہوتی ہیں ، خون ٹپک رہا ہوتا ہے ، مختلف اعضاء بکھرے پڑے ہوتے ہیں ، ان سے سے بدبو آرہی ہوتی ہے ، لیکن اس کے باوجود ہم وہاں سے خرید رہے ہوتے ہیں ، اگر یہاں پر یہ لوگ خود کو صفائی کے حوالے سے بہتر کر لیں ، مرغی کو ذبح کرتے وقت تکبیر اونچی آواز سے پڑھے ، ذبح سب کے سامنے کیا جائے ، جہاں پر گوشت رکھا جاتا ہے ، اس کو شیشے کے فریم میں صاف کر کے رکھا جائے ، اور جانور کی آلائیشوں کو الگ کسی ایسی جگہ منتقل کردیں جہاں سے بدبو وغیرہ نہ آئے ، یہ کام مرغی کا گوشت فروخت کرنے والے کو بہت زیادہ ترقی دے سکتا ہے ۔
بڑے جانور یعنی گائے ، یا بکرے کا گوشت خریدتے وقت یہ خوف لگا رہتا ہے کہ آیا یہ جانور صحت مند تھا یا نہیں ، کہیں بکرے یا برے جانور کے نام پر کچھ اور تو نہیں کھلایا جارہا ، اس لیے ایسے جانور کے گوشت کر فروخت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے پاس ذبح کرنے سے پہلے جانوروں کو دوکان میں زندہ پیش کریں اور لوگوں کو پتہ ہو کہ یہ جانور ذبح ہونے والے ہیں ، جس سے لوگوں کا اعتماد پڑھے گا ، جس سے کاروبار میں بہت زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے ۔
ایسے اور بھی بہت سے ایسے کاروبار ہیں جن میں بہتری کی بہت زیادہ ضرورت ہے ، جس میں سموسے پکوڑے ، چھوٹے ہوٹل اور ڈسپینری وغیرہ اس لیے اپنے کاروبار میں وقت کے لحاظ سے تبدیلی کرتے رہیں ، اس کے کاروبار میں اضافہ ہوتا رہے ، اس کی عمر میں بڑھتی رہے گی ،یقینا یہ ہر تاجر کی خواہش ہوتی ہے ۔
#uzairgull
#muhammaduzairgull
#عزیرگل
#محمدعزیرگل
#عزیرگل_شورکوٹی
#sharia&business










