عنوان حقیقت
تحریر عبدالستار سپرا
اج کے دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت بہت زیادہ دن بدن بڑھ رہی ہے۔ اور صحافت کے تقاضے میں بھی ایک نئی جدت پیدا ہو رہی ہے۔ عوامی مسئلے مسائل کو نئی جدت کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے سوشل میڈیا پر جس کی بہت زیادہ انفرادی طور متعارف کیا جا رہا ہے۔
معاشرے کی برائیوں کو اوجگا کرنے میں صحافت نے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جس کی بدولت سے معاشرے میں کوئی بھی ناانصافی اور مظلوم پر ظلم کے خلاف صحافت نے صحیح معنوں میں اپنی آواز بلند کی ے ۔
صحافت حق اور سچ کی بات پر بے ڈر ڈٹ جانےکا نام ہے۔ اور ان تمام معاشرے کی بے انصافیوں کے سامنے ڈٹ جانے کا نام ہی دراصل صحافت ھے۔ اس پیشے سے وابستہ لوگ اس مقدس پیشے کی تکمیل کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی اس کٹھن راہ میں پیش کر چکے ہیں۔
ہر شعبہ جات میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ تو ایک حقیقت ہے شر اور خیر کا ٹاکرا جاری و ساری رہے گا۔ کیونکہ حق کی راہ کٹھن و دشوار گزار راہگیروں سے گزرتی ہے
یہی تو حقیقت میں حق کی فتح ہوتی ہے۔ صحافت بھی اسی کا دوسرا نام ہی تو نام ہے ۔ قلمکار صرف مظلوم کی داستان رقم نہیں کرتا وہ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا اس جابر اور ظالم کے اگے بند باندھتا ہے۔
حق اور باطل کی جنگ ابد سے جاری ہے تا قیامت تک جاری رہے گی۔
یہ سر پھروں کا مقتل ہے یہاں وہی اتا ہے جو شوق شہادت جس کے اپنے اندر بیدار ہو۔ یہاں پر سب رکھ رکھا کی بندشیں ٹوٹ جاتی ہیں کیونکہ یہاں پر انا الحق کا نعرہ فضا میں بلند ہوتا ہے۔
عصر حاظر میں حق بات لکھنا پل صراط سے گزرنے کی مانند ہے. صحافی حضرات معاشرے کا وہ طبقہ ہیں جو عوام میں شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اسی لئے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیوں، قتل کیے جانے اور اغواہ کیے جانے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے. ماضی قریب میں اس کی زندہ مثال معروف صحافی ارشد شریف کا قتل ہے جس کے قاتلوں کو تاحال پکڑا نہیں جا سکا. اقوام متحدہ نے 2 نومبر کو صحافت سے وابسطہ افراد کے مسائل اور تدارک کا عالمی دن قرار دیا ہے تا کہ عوام کے سامنے اس طبقہ کو درپیش مسائل رکھے جا سکیں. افسوس صد افسوس پاکستان میں صحافیوں کو کسی قسم کی مراعات حاصل نہیں. حکومت کو چاہئیے کہ صحافت کی بقاء کے لئے غیر جانب داری سے ٹھوس اقدامات اٹھائے.










