مہنگائی کی دہشت و وحشت

تحریر عبدالستار سپرا

الیکشن کی گہما گہمی کے ساتھ ساتھ ملک کے عوام پر مہنگائی کا بوجھ بھی بڑھایا جا رہا ہے، پٹرول کی قیمت میں 13 روپے 55پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے، ڈیزل کی قیمت 2 روپے 75پیسے فی لیٹر بڑھادی گئی ہے۔ مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی)مزید مہنگی ہوگئی ہے۔ گھریلو سلنڈر 3040روپے کا ہوگیا ہے۔ بجلی صارفین پر 81ارب 50 کروڑ روپے کا مزید بوجھ ڈالنے کی تیاریاں مکمل ہیں۔ نیپرا نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں مزید 5 روپے 62پیسے اضافہ کرنے کی اصولی منظوری دیدی ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایک سال میں 400فیصد اضافے کے باوجود گیس مزید 41فیصد مہنگی کرنے کی سفارش کی ہے، عوام بے حال ہیں انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کس طرح مہنگائی کا مقابلہ کریں، بے تحاشا ٹیکسز نے پہلے ہی ان کی کمر توڑ رکھی ہے، منافع خور مافیا کھل کر کھیل رہا ہے۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ مہنگائی کے مارے عوام کی چیخ وپکار پر حکمران توجہ دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں،قومی خزانے کے بل بوتے پر حکمرانوں کے اپنے اللے تللے جاری ہیں ،مگر بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی زندگی کو مزید مشکل بنا ڈالا ہے، سوال یہ ہے کہ 8فروری کے دن متوقع انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے بڑے بڑے دعوئوں، دلفریب وعدوں اور چکنی چپڑی باتوں سے عوام کا دل بہل جائے گا؟انتخابات کا لولی پاپ اپنی جگہ،لیکن عوام کی پشت پر مہنگائی کے کوڑے برسانے والے ظالموں نے کیا مرنا نہیں ہے؟
نگران حکومت نے اپنے قیام کے پہلے ہی ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کی پشت پر مہنگائی کا کوڑا برسادیا تھا، اب انتخابات سے قبل جاتے جاتے ایک اور پٹرول بم گرادیا ہے۔ پٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 272روپے 89پیسے اور ڈیزل 278روپے 96پیسے فی لیٹر ہوگیا ہے۔ 24پیسے کمی کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 166روپے 86 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھی ہیں اور پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او)کو امپورٹ پریمیم کی مد میں اضافی ادائیگی کرنا پڑی ہے حالانکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حکومت پہلے ہی پٹرول اور ڈیزل پر 60روپے فی لیٹر لیوی وصول کر رہی ہے۔ بجلی گیس پٹرولیم مصنوعات سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی لانے کے لئے سنجیدہ اقداما ت کی ضرورت ہے،دوسری طرف عالمی منڈی میں خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو جوازبنا کر وفاقی کابینہ نے وزارت صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی سفارش پر جان بچانے والی انتہائی ضروری 146ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی ہے ہے، جن میں انٹی بایوٹک دوائیں اور انسولین بھی شامل ہیں۔ سفارش تو 262دوائوں کی قیمتیں بڑھانے کی تھی مگر کابینہ نے 146دوائیں مہنگی کرنے کی منظوری دی۔
وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کابینہ کے اجلاس میں ہدایت کی کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ادویات کے سمگلروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی تیز کرے، تاکہ مارکیٹ میں دوائوں کی قلت کی شکایات کا ازالہ ہو سکے اور قیمتیں بھی معمول پر رہیں۔ انہوں نے دوائوں کی قیمتوں کے حوالے سے نئی منتخب حکومت کے آنے کے بعد پارلیمنٹ میں قانون سازی پر بھی زور دیا اور کہا کہ ہم بھی ایسی پالیسیاں بنا رہے ہیں، جن سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے گا اور دوا سازی کی صنعت کو فروغ ملے گا۔ ایسے وقت میں جب مہنگائی کا گراف روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اور عام آدمی کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں، جبکہ مختلف امراض کے شکار مریضوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جان بچانے والی انتہائی ضروری دوائوں کی قیمتوں میں اضافہ نہایت تشویش ناک ہے، بدقسمتی سے دوائوں کی قلت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ان دنوں مرگی اور اعصابی درد کی دوائیں میڈیکل سٹوروں پر نایاب ہیں، دوا ساز ادارے اس کی وجہ ڈالر کے مہنگا ہونے کو قرار دے رہے ہیں۔ دوا فروش خود بھی قیمتیں بڑھانے کے لئے دوائوں کی قلت کا ڈرامہ رچاتے ہیں، جس کی وجہ سے مریضوں کے لواحقین مطلوبہ دوا کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں اور بالآخر منہ مانگی قیمت ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ حکومت کو اس صورتحال پر قابو پانے کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے چاہئیں، تاکہ مریضوں کو مناسب قیمتوں پر ادویات کی فراہمی تسلسل سے جاری رہے۔ غریب کے لیے تو دو چیزیں لازم ہیں ، ایک بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کو یقینی بنانا اور دوسری ان کی قیمتیں اس کی دسترس میں ہونا۔ دکھ کی بات یہ کہ اس وقت یہ دونوں چیزیں مفقود ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق خودکشیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے؟ 6کروڑ لوگ اپنی آمدنی سے فاقے دور نہیں کرسکتے، وہ راتوں کو سکون کی نیند نہیں سوسکتے، جہالت، بیماری، بے روزگاری اور غربت کی وجہ سے عوام نفسیاتی مریض بنتے جارہے ہیں ،جس ملک میں 5کروڑ سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوں، جس ملک میں لوگ پیٹ پالنے کے لئے اپنے گردے تک فروخت کررہے ہوں۔جس ملک کے میں غربت کے مارے ماں،باپ معصوم بچے براے فروخت کے اشتہار لگانے پر مجبور ہوں۔جہاں بھوک سے تنگ آے لوگ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کر رہے ہوں، جس ملک میں کروڑوں لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی ایک بوند بھی میسر نہ ہو ، وہاں کے حکمران اگر عوام کی دگرگوں حالت زار کو پس پشت ڈال کر آئی ایم ایف کے دبا ئوپر پالیسیاں بنائیں گے تو پھر عوام اسی طرح مہنگائی کی دہشت و وحشت کا شکار بنے رہیں گے، اڈیالہ جیل کے سزا یافتہ مجرم عمران خان،پی ڈی ایم کے شہباز شریف سے لے کر نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ تک،مہنگائی کو پاکستانی قوم پر مسلط کرنے کے ذمہ دار ہیں،انہیں چاہیے کہ یہ قیامت کے دن اللہ کے حضور جواب دہی کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھیں ۔