ملتان سے اردو اخبار “جاگتی خبر” کی اشاعت دوبارہ شروع۔

تحریر۔طاہر عباس

منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ جاگتی خبر، جنرل سیکرٹری تحصیل پریس کلب رجسٹرڈ کبیروالا*
03038558512
جس اردو صحافت کی تاریخ اتنی شاندار رہی ہو جس اردو کے صحافی کو تاریخ میں توپ کے سامنے کھڑا کر کے صرف اس لیے اڑا دیا گیا ہو کہ وہ انگریزی حکومت کے سامنے جھکا نہیں تھا، آج اسی اردو صحافت کے چند صحافیوں کی حالت یہ ہے کہ وہ تھوڑے سے پیسوں کے لالچ میں کسی خاص جماعت یا رہنما کے صحافی بن کر رہ گئے ہیں۔ ہمیں سوچنا ہو گا کہ پچھلے دس بیس سالوں میں اردو صحافت نے اس ملک کو کیا دیا ہے؟ اور اردو صحافت کے گرتے معیار کے لیے کون ذمہ دار ہے؟ غور و فکر اس پر بھی ہونا چاہیے کہ اردو سے محبت کرنے والوں نے خود اردو صحافیوں کو کس نظر سے دیکھا ہے۔ میں نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ اردو میں اچھے صحافی نہیں ہیں۔ اردو صحافت کے پاس نہ تو قارئین کی کمی ہے اور نہ ہی اردو کے قدردانوں کی۔ اس کی ایک قابل فخر تاریخ رہی ہے۔ چیلنج صرف اس صحافت کو عوام سے جوڑنے کا ہے۔ اس کے مواد کو پرکشش بنانے کا ہے۔ اس کی کاغذی دیواروں پر نئے زمانے کی نئی معلومات، سوالات اور چیلنجز سے نمٹنے اور اس کو وسعت دینے کا ہے۔ انٹرنیٹ کے دور میں اردو کو ہر گھر میں پہنچانا مزید آسان ہو چکا ہے۔ پھر بھی اگر ایسا نہیں ہو رہا تو اس کی وجہ تلاش کرنا ہوگا۔ ان رکاوٹوں کی نشان دہی کرنی ہوگی جو اس کے مقاصد کو سبوتاژ کر رہی ہیں۔ میری ذاتی رائے میں اس کڑی میں سب سے بڑی رکاوٹ خود اردو صحافی اور مدیران ہیں جنہوں نے اردو صحافت کی اس شاندار دنیا کو اپنے ذاتی ایجنڈوں کا یرغمال بنا رکھا ہے۔ وہ نہ تو کسی قسم کا تجربہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے تجربے کو جگہ دینے کے لیے۔ اس تصویر کو وقت رہتے بدلنے کی ضرورت ہے۔ یقیناً یہ صرف اردو صحافت ہی نہیں، بلکہ پوری صحافتی دنیا کو ایک نئی زندگی دینے کے مترادف ہو گا۔