تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال احمد پور سیال اور ڈاکٹر ممتاز احمد ندیم
تحریر علی امجد چوہدری

اگر ان دنوں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال احمد پور سیال جانے کا اتفاق ہو تو اس کے مرکزی گیٹ سے ایسا لگتا ہے کہ آپ کسی بازار میں پہنچ گئے ہیں آنے جانے والوں کی تعداد ناقابل یقین حد تک زیادہ ہوتی ہے او پی ڈیز پر بھی ہجوم کم نہیں ہوتا یہ ہجوم آپریشن ٹھیٹرز کے باہر بھی تقریبا اتنا ہی ہوتا ہے ڈینٹل ڈیپارٹمنٹ پیڈز گائنی میں بھی عوام ہی عوام ہوتی ہے اگر آپ چند سال قبل یہاں آئے ہوں تو آپ کے لیئے یہ ہجوم ناقابل یقین ہوگا یہ ہسپتال تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا درجہ حاصل کرنے کے باوجود سنسان ہوا کرتا تھا یہاں ڈاکٹر احمد علی کے روم کے علاوہ تقریبآ ہو کا عالم ہوا کرتا تھا مگر ڈاکٹر حفیظ اللہ خالد اور ٹیم کی بھرپور محنت نے عوام کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال احمد پور سیال کی طرف متوجہ کیا رانا شہباز احمد خان کی خصوصی گرانٹس سے ہسپتال میں کافی ترقیاتی منصوبوں پر کام ہو ڈاکٹرز کی بڑی تعداد نے ہسپتال کو ترجیح دی ڈاکٹر حفیظ اللہ خالد کے بعد ڈاکٹر ممتاز حسین ندیم نے اس سلسلے کو کم کرنے کی بجائے مزید آگے بڑھایا اس وقت یہاں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سے زیادہ سرجریز ہو رہی ہیں اوپی ڈیز میں عوام کا ہجوم بے تحاشا ہے رانا شہباز احمد خان کی گرانٹس سے پیڈذ اور نرسری کے بڑے وارڈز مکمل ہو چکے ہیں جلد یہ وارڈز کام کرنا شروع کر دیں گے آج ایم ایس ڈاکٹر ممتاز حسین ندیم سے ڈاکٹر اقبال ندیم ملانہ گولڈ میڈلسٹ اور عرفان سربانہ کے ہمراہ ملاقات کے دوران ڈاکٹر صاحب آئی وارڈ کے حوالے سے بہت فکر مند دکھائی دیئے یہ چاہتے ہیں کہ پیڈز اور گائنی بھی جلد اپنی نئی عمارت میں کام شروع کریں یہ ہسپتال پر بڑھتے ہوئے عوامی اعتماد پر نازاں ہونے کی بجائے اس کی بہتری کے لیئے مزید فکر مند تھے اور ان کی فکرمندی کو دیکھتے ہوئے ہم مزید optimistic تھے کی ڈاکٹر ممتاز حسین ندیم اور ان کی ٹیم کے ہیروز ڈاکٹر رانا عباس صاحب ڈاکٹر آصف علی ابرار ڈاکٹر قاسم سیال فقیر ڈاکٹر عرفان ذاہد ڈاکٹر منور ڈاکٹر سجاد سمیت تمام ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس اس ہسپتال پر عوام کے اعتماد کو اتنا زیادہ کر دیں گے کہ لوگ نشتر اور الائیڈ کے نام کو بھی بھول جائیں گے
علی امجد چوہدری