ٹیلن نیوز کیوں بند ہوا؟
گل نوخیز اختر
’ٹیلن نیوز‘ بند ہوگیا ہے اور ساتھ ہی بھانت بھانت کے لوگ جھوٹ کی یلغار کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں گویا وہ اندر سے خبر نکال لائے ہیں۔ اس لیے ضروری سمجھا کہ ایک ایک چیز بتادی جائے۔ میں ٹیلن نیوز میں ڈائریکٹر پروگرامز کی ذمہ دار پوسٹ پر رہا ہوں لہذا پوری ذمہ داری سے وہ بتانے جارہا ہوں جو سچ ہے۔
آج سے چھ سال پہلے جب میں نے ٹیلن نیوز کو ایک یوٹیو ب چینل کی حیثیت سے جوائن کیا تو چیئرمین سلیم بریار صاحب پیمرا سے اس کا سیٹلائٹ لائسنس لے چکے تھے۔ ان کی بڑی خواہش تھی کہ ٹیلن نیوز کو سیٹلائٹ چینل کے طور پر لانچ کیا جائے۔ میں نے بطور چینل ہیڈ اِس ادارے میں شمولیت کی۔ اس وقت ہمارے پاس لگ بھگ بائیس لوگوں کا سٹاف تھا اور ایک سٹوڈیو تھا۔چوہدری صاحب کی خواہش تھی کہ ہم سیٹلائٹ پر جانے سے پہلے سٹاف کو پوری طرح سے ٹرینڈ کریں۔اکثر لوگ پوچھتے تھے کہ ”ٹیلن“ کا مطلب کیا ہے۔ مجھے بھی نہیں پتا تھا، لیکن پھر پتا چلا کہ عقاب کے پنجے کو ٹیلن کہتے ہیں۔ سلیم بریار صاحب سیالکوٹ کے نامور بزنس مین ہیں اور پاکستان کے ٹاپ ایکسپورٹرز میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی فیکٹری ’ٹیلن سپورٹس‘ کے نام سے کام کر رہی ہے لہذا اُن کی خواہش تھی کہ چینل کا نام بھی ’ٹیلن نیوز‘ رکھا جائے۔جو لوگ چوہدری سلیم بریار کو جانتے ہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ سلیم بریار صاحب نہایت خدا ترس، بندہ پرور، شریف النفس اور لوگوں کے کام آنے والے بندے ہیں۔میں نے ٹیلن نیوز میں لگ بھگ چھ سال گذارے ہیں اورحلفاً کہہ سکتا ہوں کہ چوہدری سلیم بریار کی ذات میں اللہ تعالیٰ نے صرف محبتیں بھری ہیں۔
شروع کے دوسال میں نے ٹیم کو مختلف حوالوں سے ٹرینڈ کیا۔ خبریں پڑھنے کا انداز، لہجہ، آواز، دروبست، کانٹینٹ وغیرہ۔ اس حوالے سے روزانہ سیشن ہوتے تھے۔ میں نے بھرپور کوشش کی کہ چینل کا ماحول فرینڈلی اور گھر والا رہے۔ یہ وہ وقت تھا جب سٹاف آفس ٹائم ختم ہونے کے بعد بھی گھر نہیں جانا چاہتا تھا کہ آفس میں زیادہ خوشی محسوس ہوتی تھی۔ یہاں ہم نے سٹاف کے لوگوں کی سالگرہ منائیں، جن لڑکیوں کی شادی ہوتی تھی اُنہیں ادارے کی جانب سے پچاس ہزار کی سلامی پیش کی جاتی تھی۔ پورے سٹاف کے لیے دو وقت کا بہترین اور صاف ستھرا کھانا ملتا تھا، چائے کافی دستیاب تھی۔ہر ہفتے ’ایمپلائی آف دا ویک‘ کا اعلان ہوتا تھا اور پورے سٹاف ایک منٹ کے لیے پورے جوش سے تالیاں بجاتا تھا۔ہم نے مختلف پروگرامز شروع کرائے جن کا مقصد سیٹلائٹ پر جانے سے پہلے مختلف حوالوں سے سٹاف کی ٹریننگ تھا۔دو سال بعد برگیڈیئر طاہر نے ہمیں بطور سی ای او جوائن کیا۔اُنہوں نے ٹیلن کے سول ورک میں بہت وقت دیا اور مختلف شعبہ جات اور سٹوڈیوز کو اپنی نگرانی میں تعمیر کرایا۔اس دوران کراچی اور اسلام آباد بیورو آفسز بھی وجود میں آچکے تھے۔مزید دو سال بعد برگیڈیئر صاحب کی جگہ ندیم رضا نے سی ای او کی سیٹ سنبھالی لیکن تقریباً چھ ماہ بعد ہی کچھ اختلافات کی بنا پر استعفیٰ دے گئے۔ اس دوران ٹیکنیکلی آن ایئر ہونے کے لیے کسی حد تک ایک شکل دھار چکا تھا لیکن ابھی بھی بہت کمی تھی۔ یہی وہ دن تھے جب میڈیا ٹائیکون یوسف بیگ مرزا نے ٹیلن نیوز میں قدم رکھا۔میں اُس بورڈ میٹنگ میں شامل تھا جب بیگ صاحب نے واشگاف انداز میں بتایا کہ سیٹلائٹ چینل چلانا نرا نقصان کا سودا ہے کیونکہ یہ بہت پیسہ مانگتا ہے۔سلیم بریار صاحب نے اس کے باوجود چینل لانچ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔معاملات طے ہوئے اور وائی بی ایم نے چینل کی کمان سنبھالی۔ اُن کے کام کرنے کا انداز بہت تیز اور طوفانی ہے۔ محض دو ماہ کے عرصے میں انہوں نے دن رات میٹینگز کیں، ایک ایک ڈپارٹمنٹ پر توجہ دی اور تیسرے مہینے ہم آن ایئر جانے کے لیے تیار تھے۔وہ خوبصورت لمحات میں کبھی نہیں بھول سکتا جب ہماری شبانہ روز محنت کا نتیجہ سامنے آیا اورٹیلن نیوز ٹی وی سکرین پر نمودار ہوا۔ہم سب نیوز روم میں دم بخود اور خوشی سے سرشار یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ٹیلن نیوز کی بلڈنگ میں عید کا سماں تھا۔ پورا چینل دلہن کی طرح سجایا گیا، شاندار پکوان تیار کیے گئے اور لائیو ٹرانسمشن شروع ہوگئی۔
یہ سلسلہ روز بروز بہتر سے بہتر ہوتا چلا گیا۔ کوئی شک نہیں کہ یوسف بیگ مرزا نے ٹیلن نیوز کو یوں ڈیزائن کیا کہ حیرت انگیز طور پر ہم ریٹنگ میں ٹاپ ٹین چینلز میں آگئے۔پورے ملک میں ہماری ٹرانسمنشنز دیکھی جارہی تھیں۔ سب کچھ بہترین چل رہا تھا لیکن اسی دوران مالکان کو تین احساس دامن گیر ہوئے۔پہلا یہ کہ کروڑوں جارہے تھے اور لاکھوں آرہے تھے۔یاد رہے کہ یہ کروڑوں روپے جو چینل پر لگ رہے تھے ان میں سٹاف کی تنخواہیں، بجلی کا بل، کھانے کا خرچہ، سیٹلائٹ کا خرچہ، کیبل والوں کا بھتہ، پٹرول کا خرچہ اور اسی طرح کے دیگر اخراجات شامل تھے۔ یہ وہ اخراجات ہیں جو بہرصورت آنے ہی آنے ہوتے ہیں۔سیٹلائٹ چینل کوئی چھوٹا کام نہیں ہوتا۔چینل کا میکنزم یہ تھا کہ ہر خرچہ پہلے بجٹ کی صورت ڈپارٹمنٹ ہیڈ سے منظور ہوتا، پھر ایم ڈی کے پاس جاتا، پھر فنانس مینجر کے پاس اور پھر چوہدری سلیم بریارصاحب کے پاس۔ کوئی ضروری چیز درکار ہوتی تو پروکیورمنٹ ڈپارٹمنٹ کے پاس بجٹ جاتا جو کیش کی بجائے وہ چیز خرید کر متعلقہ ڈپارٹمنٹ کے حوالے کر دیتی۔مالکان کو دوسرا احساس یہ ہوا کہ جن لوگوں کے خلاف خبر لگتی ہے وہ شکایت کرنے لگے ہیں اور یوں تعلقات بلاوجہ خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔تیسرا احساس یہ تھا کہ کیا لوگوں کے خلاف باتیں کرکے ہی چینل چلتا ہے؟۔ اب یہ ایک خالصتاً نیوز سینس کا معاملہ تھا۔ بدقسمتی سے ایسا ہی ہوتاہے۔ ہر چینل ایک لائن لیتا ہے اور پھر اُسی ایڈیٹوریل پالیس پر چینل چلایا جاتا ہے۔ آپ اسے ٹھیک کہیں یا غلط لیکن نیوز چینل عوامی مزاج کی رنگ بازیوں سے ہٹ جائیں تو ریٹنگ نہیں آتی، ریٹنگ نہ آئے تو اشتہار نہیں ملتے اور اشتہار نہ ملیں تو چینل نہیں چلتا۔سو پہلے یہ طے پایا کہ اخراجات کم کرنے کے لیے سٹاف اور بھاری معاوضے والے اینکرز کو کم کیا جائے۔بیگ صاحب چونکہ بھاری معاوضے والے اینکرز کو رکھنے کی ڈیل میں شامل نہیں تھے لہذا انہوں نے پورا زور لگایا کہ کسی کو نہ نکالا جائے لیکن بات بگڑتی جارہی تھی۔ یہ ایک انتہائی مشکل فیصلہ تھا لیکن کرنا پڑا۔ ٹیلن نیوز نے ہمیشہ تنخواہ ٹائم پر دی اور بغیر نوٹس نکالے جانے والوں کو ہمیشہ ایک ماہ کی ایکسٹرا تنخواہ بھی دی۔تو ہوا یوں کہ اخراجات کم تو ہوگئے لیکن بہت کم نہیں ہوسکے، اسی دوران سٹاف کو چینل کی طرف سے دیا جانے والا کھانا بند کرکے بھی اخراجات کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کچھ عرصے بعد پھر اسی معاملے نے سر اٹھا لیا۔ لیکن معاملات ہاتھ سے نکلتے چلے گئے۔ مجبوراً پھر ڈاؤن سائزنگ کرنا پڑی۔ سلیم بریار صاحب رکھ رکھاؤ والے انسان ہیں، انہیں لگنے لگا کہ سیٹلائٹ چینل لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کا باعث ہوتے ہیں۔ چونکہ پہلے اُنہیں ایسا کوئی تجربہ نہیں تھا اس لیے اُن کی نفیس طبیعت پر یہ گراں گذرنے لگا اور وہ خود بھی بیمار ہوگئے۔بالآخر یہ طے ہوا کہ چینل بند کر دیا جائے۔ یہ فیصلہ آج سے تین ماہ قبل ہوا تھا لیکن بیگ صاحب اس کے حق میں نہیں تھے۔اُنہیں سٹاف کے ایک ایک فرد سے لگاؤ تھا۔چینل بھرپور مقبولیت حاصل کر رہا تھا لیکن حالات پلٹا کھاتے جارہے تھے۔ بالآخر یہ طے ہوا کہ چینل بند کردیا جائے۔یہ ارادہ سلیم بریارصاحب نے جس دل سے کیا اُسے میں ہی جانتا ہوں۔پچھلے تین ماہ سے اُن کی بھرپور کوشش رہی کہ چینل کسی کو فروخت کر دیا جائے تاکہ سٹاف کی نوکریاں لگی رہیں۔بہت سی پارٹیوں سے بات چیت ہوئی لیکن کہیں بھی ڈن نہ ہوسکا۔چینل کے اختتام کا مرحلہ آن پہنچا۔ یہ سب اچانک نہیں ہوا۔ یہاں تک پہنچنے کی کہانی بہت دردناک ہے، خود چوہدری سلیم بریارصاحب اسے بند کرنے کا اظہار کرتے اور پھر خود ہی رُک جاتے۔ میری روز اُن سے بات ہوتی تھی۔اُن کی تکلیف اُن کے لہجے سے عیاں تھی۔میں نے اُنہیں شدید ڈپریشن میں دیکھا ہے۔میرا شو ختم ہونے کے بعد وہ مجھے اپنے آفس میں بلا لیتے اور رات دو دو بجے تک ڈسکشنز کرتے رہے۔
بہرحال……13 مارچ کو ٹیلن نیوز بند ہوگیا۔ تمام ڈپارٹمنٹس بند کردیے گئے……نیوز روم کی بتیاں گل ہوگئیں، سکرین آؤٹ ہوگئی۔ تمام سٹاف کو آج 14 مارچ کو پندرہ دن کی تنخواہ اور ایک ماہ کی ایکسٹرا تنخواہ ٹرانسفر ہوجائے گی۔ایک خوبصورت دور اختتام پذیر ہوا۔ لیکن اس میں کسی کا کوئی قصور نہیں۔ سب دُکھی ہیں۔تمام ٹیم نے بہترین کام کیا، بیگ صاحب نے سب کو محبتوں سے نوازا اور چوہدری سلیم بریار کا تو جواب نہیں، ایسا سادہ، مخلص، نرم دل اور دھیمے مزاج کا بندہ لاکھوں میں ایک ہوتاہے۔الحمدللہ ٹیلن نیوز کے ذمے کسی کے واجبات نہیں۔
میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ سیٹلائٹ چینلز کے یہ آخری دو سال ہیں۔ پھر شائد دو تین چینل ہی نظر آئیں گے کیونکہ اس وقت مارکیٹ میں موجود بیس سے زائد چینل فروخت یا بند ہونے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔اگلا دور ڈیجیٹل میڈیا کا ہے۔بڑی بڑی کمپنیاں اس میں آنے والی ہیں۔ میڈیا ورکرز سے میری درخواست ہے کہ خود کو ڈیجیٹل پر شفٹ کریں۔ وہاں بھی لگ بھگ سیٹلائٹ چینل والا سٹاف ہی درکار ہوتاہے۔ سیٹلائٹ چینلز تو پچاس سے بھی کم ہیں لیکن ڈیجیٹل میڈیا پر یہ سینکڑوں کی تعداد میں ہیں۔ مزید بھی آرہے ہیں اور اچھے لیول کے آرہے ہیں۔ سب کو روزگار ملے گا لیکن صرف تنخواہ پر نہ اکتفا کریں۔اپنے طور پر بھی کوئی کام سوچیں اور یاد رکھیں کام وہ کرنا ہے جوسوشل میڈیا پر بھی قابل قول ہو۔صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور بہتری کی طرف جائے گی۔ انشاء اللہ










