ڈھڈیال نیوز کے 18 سال۔
تحریر ۔۔حاجی غلام شبیر منہاس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
23 مارچ 2006ء کے دن جب ریاض بٹ صاحب نے اس آن لائن اخبار کا اجرا کیا ہو گا تو عین ممکن ہے اس وقت ان کے گماں بھی یہ بات نہ ہو کہ ایک دن “ڈھڈیال نیوز” ملکی سرحدوں کو عبور کرتا دنیا میں اتنا پڑھا جایئگا کہ اس کے قاریئن کی تعداد لاکھوں میں ہو جائے گی۔مگر آج 18سال بعد بلاشبہ چکوال نہیں بلکہ پاکستان کے بیرونی دنیا میں پڑھے جانے والے ٹاپ کے اخبارات میں سے ایک ڈھڈیال نیوز ہے۔ جو چوبیس گھنٹے لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ ہوتا رہتا ہے۔
ہمارا مزاج ہے کہ کامیابیوں سے ہماری اکثر رشتہ داری نکل آیا کرتی ہے۔جب کسی شعبہ کے کسی فرد کا ستارہ اپنے عروج پہ ہو تو ہم سب اسکی بلایئں لیتے ہیں۔ ایسا ہونا بھی چاہیئے۔ مگر اس شعبہ کو اتنی بلندی دینے کے عوض اس صاحب ادارہ پہ کیا گرزتی ہے ان بھول بھلیوں میں کم ہی لوگ پڑھتے ہیں۔ ریاض بٹ صاحب کی بھی ایسی ہی کہانی ہے۔ کہ جنہوں نے بے سروسامانی کے عالم میں شہر سے دور ایک گاوں سے اٹھ کر نزدیکی قصبہ سے اس حق گوئی کا آغاز کیا اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ یہ خاموش محنت، دیانت، سچائی، جہد مسلسل، روایتی ہلا گلا سے کوسوں دور، فوٹو سیشن سے الرجک، ملنسار، خوش مزاج، خدمت خلق سے گہرا شفف اور اپنے کام سے کام رکھنے والے اس دور کے وہ رول ماڈل ہیں جس کی مثالیں اگر ناپید نہیں تو اب خال خال ضرور رہ گئی ہیں۔
علاقائی خبروں میں گاوں اور ڈھوکوں تک سے لے کر قومی و بین الاقوامی کالم نگاروں تک، موسم سے لے کر نمازوں کے اوقات تک، صحت کی بات سے لے کر حکمت و بصیرت تک، کرنسی کے ریٹس سے لے کر سبزیوں اور چکن کے بھاو تک اگر کسی ایک پلیٹ فارم پہ آپکو میسر ہیں تو وہ ڈھڈیال نیوز ہی ہے۔
اللہ جب کسی کے کام سے خوش ہوتے ہیں تو اس پہ اپنی بے شمار نعمتوں کیساتھ ایک احسان یہ بھی کرتے ہیں کہ اسکو اسی کے ہم مزاج اور مزاج آشنا لوگ دے دیتے ہیں یوں ایک ایسی ناقابل فراموش ٹیم تشکیل پا جاتی ہے جو اس شعبہ کو ناقابل تسخیر بنا دیا کرتی ہے۔ بٹ صاحب کو بھی اللہ تعالی نے سعید صاحب سے لے کر خرم شہزاد صاحب تک ایسے ہی ہیروں سے نوازا ہے جن کا ماٹو وہی ہے جو بٹ صاحب کا ہے یعنی خاموش محنت، لگن اور جہد مسلسل۔ اور اسی ٹیم کی شبانہ روز محنت و کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج ڈھڈیال نیوز دنیا بھر میں چکوال کی موثر آواز، سچائی کا پیغام اور علاقہ کی شناخت بن چکی ہے۔ جو سچ کے اس کٹھن سفر پہ پوری مستقل مزاجی سے گامزن ہے جس پہ دور حاضر میں چلتے ہوئے بڑے بڑوں کے پتے پانی ہو جایا کرتے ہیں۔
ڈھڈیال نیوز کے اس اٹھارہ سالہ صحافتی و تحقیقی سفر کو خراج تحسین کیساتھ بٹ صاحب اور سعید صاحب کی پوری ٹیم کیلئے ان گنت دعایئں۔ اللہ تعالی آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔ اور ان گھٹاٹوپ اندھیروں میں سچائی کے چراغ یوں ہی روشن کرتے رہیں۔ آمین










