تھانہ گڑھ مہاراجہ سے جڑی 2 کہانیاں اور ذیشان پاتوانہ
تحریر علی امجد چوہدری


یہ شاید 2017 کی بات ہے ہماری صحافتی زندگی کی ابتداء تھی اور دن رات کام کا جنون تھا ان دنوں برادر مزمل کلیار ایس ایچ او تھانہ گڑھ مہاراجہ تھے اس وقت میری پوری توجہ مقامی صحافت پر ہوا کرتی تھی چھوٹے بڑے ایشوز کوور کیا کرتے تھے دوستوں کی ایک بہترین ٹیم ساتھ ہوا کرتی تھی یہ وہ وقت تھا جب ہم نے رات کو محنت کی اور پہلی بار ٹیلوں پر پانی برابر پہنچا ٹی ایچ کیو کا گیٹ ایک مظلوم کی داد رسی کے لیئے بند ہوا ایک غریب کا گھر گرانے پر انتظامیہ کے خلاف کھڑے ہو گئے اور گھر تعمیر ہوا (احساس کمتری کے مارے دو تین افراد کو وہ وقت یاد نہیں ہوگا یقیناَ ) ان دنوں تھانہ گڑھ مہاراجہ میں ایک خاتون پر نجی ٹارچر سیل میں تشدد کی اطلاع ملی ہم اس کی آواز بنے یہ اس وقت جھنگ کی سب سے تہلکہ خیز خبر تھی فوری نوٹس ہوا انکوائریز ہوئیں انہیں انکوائریز کے دوران جو حقائق ہمیں اپنے زرائع سے ملے اس کے مطابق احمد پور سیال سے تعلق رکھنے والی یہ خاتون بلاواسطہ کچھ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھی حقائق بھی سامنے آئے اور ہمیں اپنے ہی الفاظ پر ندامت بھی ہوئی یہ کوئی ایک ایسا واقعہ نہیں تھا بلکہ اس کے بعد بھی کئی مواقع پر بظاہر مظلوم دکھائی دینے والے مظلوم نہ نکلے تھانہ رنگ پور میں ایک پولیس افسر کے خلاف ایک احتجاج کو کوور کیا اور ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ یہ سب سے بڑے مظلوم ہیں مگر چند دنوں کے بعد انگشاف ہوا کہ کہانی یکسر مختلف تھی اب اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام مظلوم بننے والے مظلوم نہیں ہوتے تاہم مظلوموں کے نقاب میں چھپے کچھ پیشہ ور افراد نے حقیقی مظلوموں کو بھی مشتبہ کر دیا ہے اب آتے ہیں تھانہ گڑھ مہاراجہ سے جڑی ایک اور داستان کی طرف یہاں ایس ایچ او تھانہ گڑھ مہاراجہ زیشان حیدر پاتوانہ نے کچھ افراد کو مبینہ طور پر تیل چوری کے مقدمہ میں اٹھایا ان پر تشدد کیا اور پھر صرف پچاس ہزار کا مطالبہ کیا یہاں میرے لیئے تھوڑا سا اس معاملے کو سمجھنا مشکل ہورہا ہے کہ تیل چوری کا مقدمہ پاکستان میں سنگین ترین مقدمات میں شمار ہوتا ہے ان مقدمات میں ہم نے انتہائی بااثر شخصیات کو گرفتار ہوتے دیکھا ہے جن کے براہ راست تعلقات ایسٹبلشمنٹ سے بھی تھے اور مقننہ میں بیٹھے افراد سے بھی مگر یہ گرفتار بھی ہوئے اور انہیں جیل بھی ہوئی تھانہ میں بہت ساری ایسی ایف آئی آرز ہوتی ہیں جس میں ملزمان نامعلوم ہوتے ہیں یہ چھوٹے سے بڑے مقدمات پر مشتعمل ہوتی ہیں جن کی بنیاد پر افراد کو زیر حراست بھی رکھا جا سکتا ہے اور زدکوب بھی کیا جا سکتا ہے اور لاکھوں بٹورے بھی جا سکتے ہیں یہاں تیل چوری کے مقدمہ میں صرف پچاس ہزار کا مطالبہ سمجھ سے بالاتر ہے جو دوست بھی ان افراد کی آواز اٹھا رہے ہیں احسن اقدام ہے تاہم صرف افراد کے الفاظ پر یقین کرکے ایس ایچ او کو ٹارگٹ کرنا شاید درست نہ ہو کیونکہ پولیس جب کسی اہم مقدمے پر کام کر رہی ہو تو بہت سارے مشتبہ افراد گرفتار کرنا ضروری ہوتے ہیں اور یہ کس مقصد کے لیئے گرفتار ہوتے ہیں پولیس اس ڈر سے کہ تفشیش پر اثر نہ پڑے اسے disclose بھی نہیں کرتی مجموعی طور پر زیشان حیدر پاتوانہ کی کاکردگی کافی حد تک satisfactory رہی ہے اب صحافت سے متعلقہ دوستوں کو ایس ایچ او صاحب سے sitting کرکے تصویر کے دوسرے پہلو کو بھی دیکھنا چاہیئے کیونکہ ایسا نہ کرنے سے شاید انہیں بھی وہی ندامت نہ ہو جس کا سامنا ہم نے برادر مزمل کلیار کے سامنے کیا
علی امجد چوہدری










