چک ملوک سے ہریانہ تک۔۔
۔تحریر غلام شبیر منہاس
اس کا نام سدھر سنگھ تھا اور وہ متحدہ ہندوستان کے وقتوں میں ضلع چکوال کے قریب قدیمی گاوں چک ملوک کا باسی تھا۔ جو ہندو اور سکھ اس گاوں میں آباد تھے ان کے پورے پورے خاندان بھی قیام پاکستان کے وقت ہندوستان روانہ ہو گئے۔ انہی میں سدھر سنگھ کا خاندان بھی تھا۔ یہ لوگ صدیوں سے نسل در نسل یہاں قیام پذیر رہے جنہیں بٹوارے کیوقت دونوں اطراف کے باسیوں کو اپنے اپنے آباواجداد کے علاقے چھوڑنا پڑے۔ مگر ان میں سے اکثر اب بھی رابطے میں ہیں اور جو صاحب حیثیت ہیں وہ اپنی اولادوں کو دونوں ممالک کے وہ گاوں دکھانے لاتے ہیں جہاں سے انہیں ہجرت کرنا پڑی۔
اس سدھر سنگھ کا ایک بیٹا ہوا کرتا تھا جو قیام پاکستان کے وقت بارہ سے چودہ سال کے درمیان میں تھا۔ اس بچے کو وہ سارے حالات زندگی ازبر رہے، اپنے بچپن کے ابتدائی سال گزارنے والا علاقہ اور لوگوں کو وہ کبھی بھی فراموش نہ کر پایا۔ جب تک اسکا باپ زندہ رہا یہ دونوں چک ملوک کے بڑوں بزرگوں سے رابطے میں رہے۔ سدھر کے دنیا سے کوچ کر جانے کے بعد یہ ذمہ داری اس کے بیٹے نے اٹھا لی جو خود بھی اس وقت 80 برس کا ہو چکا تھا۔
گاوں کے ایک بزرگ کو اسکی اکثر کال آتی تو بہت دیر تک وہ گلی محلوں پہ بات کرتے رہتے ۔ مگر سدھر کے بیٹے کو اپنے بچپن میں جو سب سے بڑا مسلہ رہا وہ شاید چک ملوک سے چکوال تک کی رابطہ سڑک تھی۔ وہ اسکو یاد کرتا اور اسکی زبوں حالی کا کثرت سے ذکر کرتا۔ کہ کیسے جب ہماری دادی جان بیمار ہویئں تھیں تو ہم انکو ریڑھے پہ ڈال کر چکوال ایک حکیم کے پاس لے کر گئے تھے۔ راستہ کتنا دشوارگزار ہوا کرتا تھا۔ اور سڑک کی ناہمواری کیوجہ سے کیسے جمپ لگتے، دادی کا کلیجہ منہ کو آتا۔ پھر وہ اپنے علاقہ کی مختلف شاہراوں کا بتاتا کہ اب زندگی بہت آسان ہو گئی ہے۔ اور پھر پوچھتا اب وہ سڑک کیسی ہے؟ اس کے سارے سوالات کا تفصیلی جواب دینے والے بابا جی اس کے سڑک سے متعلقہ سوال کو اکثر گول کر جاتے۔ اور اس سے الٹا سوال کر دیتے کہ یہاں تو آپ کے خاندان کا پیشہ تجارت تھا وہاں کیا کر رہے ہیں۔ وہ اپنا پیشہ بتاتا اور پھر پوچھ بیٹھتا بابا جی سڑک کیسی یے اب، اس طرف سے پھر کوئی سوال کر کے گفتگو کا رخ موڑنے کی سعی کی جاتی۔ مگر اسکو پتہ نہیں اس 9 کلومیٹر کی مختصر سی سڑک کیساتھ کیا مسلہ رہا تھا کہ وہ بار بار یہی سوال دہراتا۔ اور ہمارے پاکستانی بابا جی بار بار اسکو گھما پھرا کر کسی اور طرف لے جاتے۔ وہ اکثر ان دو قدرتی پانی کے بہاؤ اور نشیب و فراز والی جگہوں کا بھی لازمی پوچھا کرتا جنہیں ہم لوگ مقامی زبان میں “کسیاں” کہتے ہیں کہ وہاں تو اب بڑے بڑے پل بن چکے ہوں گے۔۔اور پھر اسطرف سے بنا کوئی جواب سنے ان دونوں جگہوں کی پھر سے دشواریاں گنوانے لگتا۔۔
ہمارے یہ رابطہ کار بزرگ بھی 95 میں وفات پا گئے اور دوسری طرف سے بھی رابطوں میں کمی آ گئی، ممکن ہے سدھر سنگھ کا بوڑھا بیٹا بھی چل بسا ہو۔ مگر ہمارے ان خالص پاکستانی بابا جی نے ایکبار بھی سدھر کو یہ حقیقت نہیں بتائی کہ چک ملوک ( امیر پور منگن) تا چکوال سڑک آج بھی اسی طرح ہے جیسے قیام پاکستان سے قبل ہوا کرتی تھی۔ بلکہ یہ بھی نہیں بتایا کہ اب تو ان دونوں ندیوں یعنی “کسیوں” پہ بنے انگریز کے وہ پل بھی ختم ہو چکے ہیں جو اس وقت ہوا کرتے تھے۔ یہ اپنے ملک سے والہانہ عشق کا ایک انمول نمونہ تھا۔ جس نے کئی برس سدھر سنگھ کے خاندان کو اس رابطہ سڑک کی حقیقت نہیں بتائی جو آج 76 برس بعد بھی اسی طرح اذیتوں کے پھن پھیلائے کھڑی یے۔ کہ کہیں جانے والوں کے دل میں یہ نہ ہو کہ ہم نے وہاں سے ہجرت کر کے اچھا کیا۔ چک ملوک سے چکوال کی اس بدقسمت سڑک کی حقیقت کو ہریانہ والوں سے چھپانے والے بابا جی بھی کئی برس پہلے دنیا چھوڑ گئے۔ مگر وصیت میں یہ بھی بتا گئے کہ سدھر سنگھ کے خاندان سے میں نے سڑک کی صورتحال برسوں چھپائے رکھی۔ ممکن ہے میرے بعد بھی وہ کسی سے پوچھیں تو آپ لوگوں نے اپنی سڑک کا حال انہیں نہیں بتانا کیونکہ یہ ہمارے بڑوں کی قربانیوں پہ سوال ہو گا۔ سو اب موجودہ نسل بھی اس راز کو راز ہی رکھے ہوئے ہے۔ بابا جی کے دنیا سے جانے کے دو دہایئوں بعد بھی جب کبھی سرحد پار سے کال آتی یے تو ہمارے گاوں کے لوگ اس سوال کو گول کر جایا کرتے ہیں۔ دو دن بعد 14 اگست کو ہمارا یوم آزادی یے۔ اور اس سے ایک دن بعد یعنی 15 اگست کو سدھر سنگھ لوگوں کا، عین ممکن ہے کہ وہ 15 اگست کو کال کریں۔ تو اس بار بھی پورے گاوں نے متفقہ فیصلہ کیا یے کہ انکو ہم سڑک بارے کچھ نہیں بتایئں گے۔ بلاشبہ یہ ایک پل صراط یے جسکو روزانہ اس علاقے کے ہزاروں لوگ دو وقت میں عبور کرتے ہیں۔ مگر گھر تو آخر اپنا ہی ہے ناں۔ کبھی تو کسی کو خیال آئے گا ناں کہ یہ پندرہ گاوں جو اس سڑک کے کنارے آباد ہیں یہ بھی پاکستانی ہیں۔ہم ناامید نہیں اور نہ ہمیں ریاست کے سوتیلے پن سے کوئی شکوہ یے۔ ہم انتظار کریں گے۔ اور بڑوں کیطرح ہماری زندگیوں میں بھی یہ معرکہ سر نہ ہو سکا تو ہم اپنی اگلی نسلوں کو بھی بتا جایئں گے کہ وہاں سے کوئی پوچھے تو “سب اچھا یے” کا ورد جاری رکھنا۔ کہیں ایسا نہ کہہ دینا کہ اس وقت تو یہ سڑک کمال تھی اب کبھی آ کر دیکھیں۔۔۔۔










