اٹھارہ ہزاری تا احمد پور سیال سڑک
— دھول میں لپٹا ہوا وعدہ
تحریر:ملک سیف اللہ صدیقی کھوکھر//

تحصیل رپورٹر
روزنامہ اسلام//جنرل سیکرٹری تحصیل پریس کلب احمد پور سیال 03014324625📱 )
تحصیل احمد پور سیال… وہ خطہ جہاں لفظ بولتے تھے، خواب سانس لیتے تھے، اور غیرت راستوں پر چلتی تھی۔ آج وہی تحصیل احمد پور سیال ایک زخمی وجود کی مانند ہے، جو بولنا تو چاہتا ہے مگر آواز حلق میں گھٹتی جا رہی ہے۔ جہاں ہر ترقیاتی منصوبہ، ہر حکومتی دعویٰ اور ہر سیاسی وعدہ، دھول میں لپٹی ایک قبر کی مانند دکھائی دیتا ہے۔

اٹھارہ ہزاری تا احمد پور سیال روڈ—یہ صرف ایک سڑک نہیں، تحصیل احمد پور سیال کے عوام کے صبر، برداشت اور بے بسی کا آئینہ ہے۔ یہ وہ زخم ہے جو ہر حکومت، ہر امیدوار، ہر نعرہ اور ہر تصویر کے بعد اور بھی گہرا ہوا ہے۔
دس برس—پورے دس سال—یہ عوام صرف سن رہی تھی۔
“یہ سڑک بنے گی، کارپٹ ہوگی، ماڈل ہوگی، مثالی ہوگی!”

مگر جب یہ “بن گئی” تو وہ مٹی، وہ گرد، وہ کھڈے اور وہ بے رحم خاموشی ملی جسے ترقی کہنا، قوم سے مذاق ہے۔

سوال یہ نہیں رہا کہ یہ سڑک کارپٹ کیوں نہیں—
سوال اب یہ ہے کہ کیا ہم انسان بھی ہیں یا صرف ووٹ دینے والے سائے؟

یہ سڑک تین بار “افتتاح” کا مزہ دیکھ چکی ہے۔
نہ کوئی سرکاری حکم، نہ فنڈز کی شفافیت، نہ تعمیر کی نیت—
بس سیاسی امیدوار، انتخابی موسم، اور “فوٹو سیشن”۔
ہر امیدوار، ہر نئی جماعت، ہر نیا وعدہ، بس جھنگ کی سڑکوں پر جوتوں کی چاپ کی طرح آتی ہے، ہنگامہ کرتی ہے، اور گزر جاتی ہے۔
پیچھے رہ جاتی ہے دھول، زخم، تھکن اور بے آواز جنازے۔

جنہوں نے صرف انتخابی بینرز پر مسکرانے کے لیے یہ سڑک دیکھی،
کیا وہ جانتے ہیں کہ اس سڑک پر کتنے ایمبولینس وقت پر نہیں پہنچ سکے؟
کتنے طلبا وقت پر اسکول نہیں جا سکے؟
کتنی سانسیں اس گرد میں گھٹ گئیں، کتنے چہرے ہمیشہ کے لیے مٹی میں دفن ہو گئے؟
مگر افسوس، یہ درد نہ تو کسی تقریر کا حصہ بنا، نہ کسی اسمبلی میں سوال بنا۔

یہ سڑک، جھنگ کے عوام پر روا رکھی جانے والی سیاسی ناانصافی کا مظہر ہے۔
اور ان امیدواروں کی بے حسی کا اشتہار ہے، جنہوں نے جھوٹے افتتاح کی روش اختیار کی، صرف اس لیے کہ تصویر اچھی آئے اور نعرہ مؤثر ہو۔

آج احمدپورسیال سوال کر رہا ہے:
کیا ہم صرف تصویری فریم کے لیے جیتے ہیں؟
کیا ہمارے نصیب میں صرف ربن کاٹنے والے ہیں؟
کیا ترقی محض ایک ہنگامی اسٹیج ہے جس پر عوام کا کوئی کردار نہیں؟

اگر آج تحصیل احمد پور سیال پھر خاموش رہا تو کل یہ آواز کہیں نہ سنی جائے گی۔یہ تحریر فقط ایک شکایت نہیں، ایک شہادت ہے۔
کہ تحصیل احمد پور سیال کے باسیوں نے صبر کیا، اذیت جھیلی، خاک کھائی،اور بدلے میں صرف سستی سیاست، مٹی کی سڑک، اور جھوٹے وعدے پائے۔