پنجاب کا 5 ہزار ارب روپے سے زائد کا بجٹ: کیا واقعی عام آدمی کو ریلیف ملا؟

تحریر: محمد زاہد مجید انور

پنجاب حکومت نے مالی سال 2024-25 کے لیے 5335 ارب روپے کا بجٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا، جو کہ ملکی و صوبائی معاشی صورتحال کے تناظر میں ایک اہم موقع پر سامنے آیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور کابینہ اراکین کی موجودگی میں بجٹ پیش کیا گیا جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا، جس نے ایوان کا ماحول خاصا گرمائے رکھا۔
بجٹ کی اہم جھلکیاں
بجٹ کی دستاویزات کا جائزہ لیا جائے تو چند اہم نکات نمایاں ہوتے ہیں:
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ
ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 5 فیصد اضافہ
تعلیم کے لیے 811.8 ارب روپے کی خطیر رقم مختص
صحت کے لیے 630.5 ارب روپے
لوکل گورنمنٹ کے لیے 411 ارب روپے
زراعت کے لیے 129.5 ارب روپے
1240 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ
نیا ٹیکس نہ لگانے کا اعلان، ٹیکس شرح میں بھی کوئی اضافہ نہیں
بجٹ کے دعوے اور زمینی حقائق
یہ بات بجا ہے کہ بجٹ میں کسی نئے ٹیکس کا نفاذ نہیں کیا گیا، جو بظاہر خوش آئند ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ بجٹ مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عام شہری کو کوئی ریلیف فراہم کرتا ہے؟ موجودہ حالات میں جب آٹا، چینی، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، محض تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ مہنگائی کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔ایک عام سرکاری ملازم، جس کی ماہانہ تنخواہ 40 ہزار روپے ہے، اسے 4 ہزار روپے اضافہ تو ملا، لیکن صرف بجلی اور راشن کے مہینے کے اخراجات اس سے کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ پنشنرز کے لیے 5 فیصد اضافہ بھی برائے نام ہے، خاص طور پر ایسے افراد کے لیے جن کے لیے دوائیں اور علاج بنیادی ضرورت ہیں۔ترقیاتی بجٹ یا دکھاوے کی ترقی؟1240 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کا اعلان ضرور کیا گیا ہے، لیکن اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کون سے منصوبے کس وقت مکمل ہوں گے، یا ان کے لیے شفافیت کا کیا نظام ہوگا؟ ہر خرچ کی رپورٹ دینے کا وعدہ یقیناً ایک اچھا قدم ہے، لیکن پاکستان میں اس طرح کے وعدے ماضی میں کتنے پورے ہوئے، یہ سب جانتے ہیں۔ٹیکس نیٹ میں وسعت – مگر کیسے؟بجٹ میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کا روڈ میپ تو دیا گیا ہے، مگر یہ بھی واضح نہیں کہ کن طبقات یا سیکٹرز کو اس میں شامل کیا جائے گا۔ اگر نئے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر ہی دباؤ بڑھایا گیا تو نتیجہ پھر وہی نکلے گا: مزید مالی بوجھ، کم اعتماد اپوزیشن کی سیاست اور بجٹ پر اختلاف۔۔۔۔۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیپلز پارٹی سے رابطہ کر کے بجٹ کی مخالفت میں ووٹ نہ دینے کی درخواست کی ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ بجٹ محض ایک حکومتی کارروائی نہیں بلکہ سیاسی رسہ کشی کا میدان بھی بن چکا ہے۔ اس طرح کی سیاست آخر کار بجٹ کی اصل روح کو متاثر کرتی ہے۔حتمی تجزیہ: کیا غریب کو ریلیف ملا؟اس بجٹ میں تعلیم، صحت اور مقامی حکومتوں کے لیے بھاری رقوم ضرور مختص کی گئی ہیں، مگر اس وقت تک ان کے اثرات نہیں دیکھے جا سکتے جب تک زمین پر ان کا عملی نفاذ نہ ہو۔ مہنگائی کے شکار عوام اب صرف اعداد و شمار سے مطمئن نہیں ہوتے، وہ عملی تبدیلی چاہتے ہیں۔اگرچہ بجٹ میں نئے ٹیکس نہیں لگائے گئے، لیکن موجودہ مہنگائی میں کمی کی کوئی ضمانت بھی نہیں دی گئی۔ اصل ریلیف وہی ہوگا جو مارکیٹ میں اشیاء کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں نظر آئے گا۔نتیجہ:پنجاب حکومت کا بجٹ فائلوں میں خوش آئند ضرور لگتا ہے، لیکن جب تک اس کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچتے، یہ صرف کاغذی اعلانات ہی رہیں گے۔ وقت ہی بتائے گا کہ یہ بجٹ عام شہری کے لیے خوشخبری لایا یا محض ایک اور وعدہ نکلا۔