یادوں کی خوشبو اور صبر کا استعارہ – شہید بیٹے علی امام اور زمام امام کی برسی پر خراجِ عقیدت

تحریر: محمد زاہد مجید انور
(ضلعی صدر ڈسٹرکٹ انجمن صحافیاں ٹوبہ ٹیک سنگھ، معروف کالم نگار)

18 جون کا دن مخدوم سید طارق محمود الحسن کی زندگی کا وہ اندوہناک باب ہے جس نے ان کے دل میں ایسا زخم چھوڑا جو وقت کے مرہم سے بھی مندمل نہ ہو سکا۔ آج کے دن، ان کے دو نورِ نظر، سید محمد علی امام اور سید زمام امام، اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔ سال 2018 کا وہ لمحہ، جب ایک ٹریفک حادثے میں یہ ننھے پھول اوکاڑہ کے قریب اللہ کو پیارے ہو گئے، آج بھی دلوں کو دہلا دیتا ہے۔ ان کی مسکراہٹیں، باتیں، اور زندگی سے بھرپور آنکھیں، یادوں میں زندہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔کمالیہ کے رہائشیوں کے دل آج بھی غمگین ہو جاتے ہیں جب وہ اس سانحہ کو یاد کرتے ہیں۔ یہ حادثہ نہ صرف ایک خاندان کے لیے بلکہ پورے علاقے کے لیے ناقابلِ فراموش دکھ بن کر ابھرا۔ ہر وہ آنکھ اشکبار ہوئی جو ان فرشتوں جیسے بچوں سے محبت رکھتی تھی۔ مگر جس انداز سے مخدوم سید طارق محمود الحسن نے اس دکھ کو صبر اور رضا کے جذبے سے گلے لگایا، وہ صبر و استقامت کی عظیم مثال ہے۔مخدوم سید طارق محمود الحسن نے اس سانحہ کو صرف ایک ذاتی المیہ نہ سمجھا بلکہ اسے انسانی خدمت کا ذریعہ بنایا۔ انہوں نے “علی زمام ٹرسٹ” کے قیام کے ذریعے ان بچوں کی یاد کو ایک عظیم مقصد سے جوڑ دیا۔ آج یہ ٹرسٹ یتیم اور نادار بچوں کے لیے امید کی کرن ہے، جو تعلیم، کفالت اور تحفظ جیسے بنیادی حقوق کی فراہمی میں پیش پیش ہے۔خانقاہ معصومیہ، جو پہلے روحانی سکون کا مرکز تھی، آج انسانی خدمت کی علامت بھی بن چکی ہے۔ یہاں ہر سال ان شہید بچوں کی برسی پر محافلِ ذکر، نعت خوانی، تلاوتِ قرآن، اور ختم شریف کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ان تقریبات میں محبت، عقیدت، آنسو اور دعائیں سب کچھ شامل ہوتا ہے۔ یہ یادیں صرف ماضی کی نہیں بلکہ ایک مسلسل تحریک کا استعارہ ہیں۔مخدوم فیملی کا یہ رویہ، کہ ذاتی غم کو عوامی فلاح میں بدل دیا جائے، ہم سب کے لیے ایک سبق ہے۔ اس خاندان کی قربانی اور خدمت معاشرے کے ان تمام افراد کے لیے روشنی کا مینار ہے جو کسی دکھ یا آزمائش کا شکار ہیں۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت مخدوم سید طارق محمود الحسن، ان کے خاندان اور مرحوم بچوں پر اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرمائے، اور ان کے مشن کو مزید کامیابیاں عطا کرے۔ آمین ثم آمین۔