خاندانی لوگ کون ہوتے ہیں؟
تحریر: محمد زاہد مجید انور
معاشرے میں ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں، کچھ لوگ دکھاوے کی چادر اوڑھے، دوسروں سے حسد اور منافقت جیسے مہلک امراض میں مبتلا ہوتے ہیں، اور کچھ وہ ہوتے ہیں جنہیں ہم “خاندانی لوگ” کہتے ہیں۔ خاندانی ہونا صرف کسی بڑے خاندان سے تعلق رکھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ کردار، تہذیب، اخلاق اور اصولوں کا مجموعہ ہے۔خاندانی لوگ نہ کسی سے حسد کرتے ہیں، نہ دل میں بغض رکھتے ہیں اور نہ منافقت جیسے عمل کے قریب جاتے ہیں۔ ان کے دل صاف، نیت سچی اور بات کھری ہوتی ہے۔ وہ کسی کی خوشی کو دیکھ کر جلتے نہیں، بلکہ دوسروں کی کامیابیوں پر دل سے خوش ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کی پرورش ایسی فضا میں ہوئی ہوتی ہے جہاں سچائی، خیر خواہی، ظرف، برداشت اور عزت دینا سکھایا جاتا ہے۔منافقت وہ بیماری ہے جو رشتوں کو کھوکھلا اور سماج کو زہریلا بنا دیتی ہے۔ جو لوگ بظاہر مسکرا کر ملتے ہیں مگر پیٹھ پیچھے زہر اگلتے ہیں، وہ درحقیقت کم ظرف ہوتے ہیں۔ ان میں وہ حوصلہ نہیں ہوتا جو خاندانی لوگوں میں ہوتا ہے — کہ وہ آپ سے براہِ راست اختلاف کریں، آپ کے منہ پر سچ بولیں، مگر عزت کے دائرے میں رہ کر۔خاندانی افراد کی ایک بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ بات چیت میں کھلے دل والے اور بااصول ہوتے ہیں۔ اگر ان کو کسی کی بات بری لگے تو وہ پیٹھ پیچھے بات کرنے کی بجائے، براہِ راست شائستگی سے اظہار کرتے ہیں۔ یہی کھرا پن ان کے کردار کی طاقت اور ان کے خاندان کی تربیت کی عکاسی کرتا ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب خود سے سوال کریں: کیا ہم خاندانی ہونے کے اصل معیار پر پورے اترتے ہیں؟ کیا ہم دوسروں کے لیے خیر خواہ ہیں یا حسد کا شکار؟ کیا ہم سچ بولنے کا حوصلہ رکھتے ہیں یا پیٹھ پیچھے باتوں کے عادی ہیں یاد رکھیں، خاندانی ہونا نسب سے نہیں، طرزِ عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔










