*مقامِ امام حسینؓ اور فکرِ کربلا*
تحریر عبدالستار سپرا
آج سے صدیوں پہلے کی بات ہے کہ چشم فلک نے میدان کربلا میں توحید، بندگی، عشق حقیقی اور وفا کا وہ عملی مظاہرہ دیکھا جو نہ پہلے کبھی دیکھنے میں آیا اور نہ قیامت تک سننے میں آئے گا۔ واقعہ کربلا اپنے اندر جہاں کرب وبلا، ظلم و ستم کی داستان رکھتا ہے وہیں انسانیت کو بالعموم اور اہل اسلام کو بالخصوص مقام و فکر امام حسین علیہ السلام پہچاننے کی دعوت دیتا ہے۔
فرمان نبی مکرمﷺ ہے کہ
” حُسینؓ مِنی وٙ انا مِن الحُسین“
یہ کہنے کو تو ایک چھوٹا سا کلمہ ہے مگر اپنے اندر بے پناہ مفہومیت رکھتا ہے۔ جس نے پیغمبر آخرالزماںﷺ پر ایمان رکھا، آپ کی تکریم ، اتباع، اور محبت میں زندگی گزاری، اس پر لازم ہے کہ وہ امام حسینؓ کی تکریم کرے ، اتباع و حب حسینؓ کا عملی مظاہرہ کرے۔
سوال اٹھتا ہے کہ حسینؓ مدینہ سے کوفہ کی جانب عازم سفر ہوئے تو آخر ان کا مقصد کیا تھا جبکہ آپؓ کو بنی ہاشم و ملت کے دیگر اکابرین نے بہت روکا کہ حالات موافق نہیں ہیں، اہل کوفہ نے نہ تو پہلے آپؓ کے والد گرامی امیر المومنین حضرت علیؓ سے وفا کی اور نہ ہی ان سے اب کسی وفا کی امید ہے ۔ بہتر ہے کہ آپ حاکم وقت کے خلاف قیام نہ کریں، مگر آپؓ نے اپنے مقصد اعلی کو پیش نظر رکھا اور تمام تر خطرات و تحفظات کو پس پشت رکھتے ہوئے میدان کربلا کی جانب کوچ کیا۔ جناب حسینؓ کا مقصد بنو امیہ کے ظالمانہ اور مطلق العنان نظام حکومت کا خاتمہ اور ان رکاوٹوں اور دیواروں کو توڑنا تھا جو حقیقی نظام الہی کے قیام کی راہ میں حائل تھیں۔
کربلا حق وباطل کے درمیان ایک پیمانہ ہے، کربلا کڑی آزمائشوں میں مقام عفت کا نام ہے، کربلا کا حرف ” لا“ اپنے اندر بذات خود ایک عنوان ہے، کربلا کے تپتے میدان میں عملی سعی کی تمام تر تحریک ”لا الہ“ پرقیام تھا جسے آج ہم نے ایک رسم بنا کے رکھ دیا ہے۔ لا الہ پر قیام اور طاغوتی طاقتوں، ان کی تہذیب اور حکومت کو ”لا“ کہنا ہی فکر حسینؓ ہے او ر جیسے ہر انکار کی قیمت چکانا پڑتی ہے ایسے ہی سید الشہداءؓ نے اپنے ”لا“ کی قیمت میدان کربلا میں لشکر یزید کے ساتھ لڑتے ہوئے اپنے 72 ساتھیوں کے ہمراہ رب ذوالجلا ل کی بارگاہ میں مقام شہادت پر فائز ہو کر چکائی اور ساتھی بھی ایسے کہ جنہیں امامؓ نے شب عاشور خیمے میں اکٹھا کیا اور چراغ بجھا کر انہیں کہا کہ آپ یہاں سے چلے جائیں، میں آپ کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں، کل آپ میں سے کوئی زندہ نہیں بچے گا، سب مارے جائیں گے یہاں تک کہ جان نثاران حسینؓ کو ان کے مقتل کی جگہ بھی بتا دی گئی مگر انہوں نے آپؓ کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کیا اور عرض کی کہ مولا، اگر ہمارے جسم ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں اور پھر سے ہمیں زندہ کیا جائے تو ہم پھر بھی آپؓ کے ساتھ قربان ہونے کو تیار ہوں گے۔ چشم فلک نے پھردیکھا کہ ہر جانثار نے ”لا الہ“ کے قیام کی خاطر ننھے علی اصغرؓ سے عمر رسیدہ حبیب ابن مظاہرؓ تک صبر و استقامت اوربہادری وشجاعت کی ایسی لازوال داستان رقم کی جو تا قیامت زندہ رہے گی۔
عزم حسینؓ کو پانے کے لئے ہمیں غم حسینؓ کے ساتھ ساتھ کتاب اللہ اور اہل بیتؓ کے پیغام و سیرت کو اپنی زندگیوں میں شامل کرنا ہو گا، استبدادی نظام کے خاتمہ کے لئے عملی جدوجہد کرنا ہو گی، فرقہ بندیوں کو چھوڑ کر اتحاد ملت کو تشکیل دینا ہو گا، ان بندشوں کو شروعات میں تبدیل کرنا ہو گا، امامت و ولایت کا نظام قائم کرنا ہو گا تا کہ صحیح طور پر مبنی بر قرآن و سنت نظام ملت کا قیام عمل میں لایا جا سکے اور روز حشر شفیع معظم محمد ﷺ و اہل بیت اطہارؓ کی شفاعت کے حقدار ٹھہریں۔
مفکر پاکستان، شاعر مشرق، حکیم الامت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال مفہوم امامت کا درس ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
تو نے پوچھی امامت کی حقیقت مجھ سے
حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے
ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
موت کے آیئنہ میں دکھا کر رخ دوست
زندگی تیرے لئے اوربھی دشوار کرے
*🌹التماسِ دعا🌹*
*یااللہﷻ*
موت کی تلخی،قبر کی سختی
حشر کی شرمندگی،جہنم کی گرمی سے ہماری حفاظت فرما !!
معزز قارئین کیا آپ نے آج درود پاک پڑھنے کی سعادت حاصل کی
نہیں تو اب پڑھ لیں اللہ پاکﷻ آپ کے دل کو منور فرمائے
یقیناً درود پاک ذہنی سکون اور نامۀ اعمال میں نیکیوں کے اضافے کا باعث بنتا ہے۔
۔. . . . . . *پڑھیئے*
*صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم










