آغا حکیم سید اختر حسن رضوی اعلی اللہ مقامہ اور زہد و تقوی کی منزل

تحریر: حبیب منظر مہدی


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قبلہ اغا حکیم سید اختر حسن رضوی، سید ابوالحسن رضوی مرحوم کے بڑے بیٹے تھے جو اپنے بھائیوں آغا سید اکبر حسن رضوی اور علامہ آغا سید ضمیر الحسن رضوی نجفی اعلی اللہ مقامہ سمیت اپنے خاندان کے ساتھ ہندوستان میں ضلع اعظم گڑھ (یوپی) کے موضع شاہجیر پور میں رہائش پذیر رہے

خانوادہء رضوی سادات ایک علمی ادبی دینی حریت پسند گھرانہ ہے جس کے بزرگوں نے 1857 کی جنگ آزادی میں بھرپور کردار ادا کیا

اسکے بعد انگریزوں نے مسلمانوں کے خلاف نہ رکنے والا انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا
خطرات کو بھانپتے ہوئے راجہ محمود آباد سید بادشاہ نے رضوی خاندان کو بطور مہمان خاص اپنے پاس ایک عرصے کیلئے دعوت دی اور شرف میزبانی حاصل کیا

اسی دوران قبلہ آغا حکیم سید اختر حسن رضوی اور اغا سید اکبر حسن رضوی بمبئی منتقل ہو گئے
آغا سید اختر حسن رضوی نے بمبئی سے طب کی تعلیم میں گولڈ میڈل کیساتھ ڈگری حاصل کی اور بمبئی شہر میں اپنا مطب کھول کر اِنسانیت کی خدمت شروع کر دی

جبکہ قبلہ علامہ آغا سید ضمیر الحسن رضوی اعلی دینی تعلیم کے حصول کے لیے بزریعہ بحری جہاز عراق روانہ ہو گئے
1935 میں انہوں نے نجف اشرف( عراق) سے مراجعت فرمائی اور پاکستان تشریف لائے
باب العلوم ملتان میں بطور طور پرنسپل ذمہ داریاں سنبھال کر تبلیغ دین کا کام شروع کر دیا
کچھ عرصہ بعد احمدپورسیال منتقل ہو گئے

تقسیم برصغیر پاک و ہند کے بعد سید ابوالحسن رضوی رح اور سید شبیر حسین رضوی رح کے خاندان کے تمام افراد ہجرت کر کے پاکستان آ گئے
اور احمدپورسیال میں مستقل سکونت اختیار کی

چونکہ سید شبیر حسین رضوی مرحوم کے صاحب زادے ہندوستان میں 8 محرم الحرام کو جلوس شبیہ علم پاک برآمد کرتے تھے
دوران ہجرت رضوی خاندان علم پاک کا 36 فٹ لمبا بانس ، مشک، پنجہ سمیت علم پاک کے تمام تبرکات ہندوستان سے اپنے ساتھ لائے
احمدپورسیال میں خانوادہء رضوی سادات نے عزاداری کو نئی جہت دی

8 محرم الحرام کے جلوس علم پاک کے بانی و منتظم سید ناصر رضا رضوی اور سید علمدار حسین رضوی نے ہندوستان کی طرح ( پاکستان) کے شہر احمدپورسیال میں بھی حضرت غازی عباس علمدار علیہ السلام کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے جلوس شبیہ علم پاک کی عظیم روایت کا آغاز کیا

بانیان کے گھر محلہ جامع مسجد قاضیاں والی کی تنگ گلیوں میں ہونیکی وجہ سے 36 فٹ بلند و بالا علم پاک کی برآمدگی وہاں سے نہیں ہو سکتی تھی
اس لیے جلوس علم پاک کی برآمدگی کیلئے قبلہ آغا حکیم سید اختر حسن رضوی اعلی اللہ مقامہ کے گھر کا انتخاب کیا گیا جہاں سے قیام پاکستان سے لیکر آج تک جلوس شبیہ علم پاک کی برآمدگی کی عظیم الشان روایت جاری ہے جسکے بانی و منتظم سید ناصر رضا رضوی مرحوم ، سید علمدار حسین رضوی مرحوم کے پسران سید کلیم اختر رضوی ، سید نعیم اختر رضوی ، سید منظور احسن رضوی ، سید کاظم رضا رضوی ، سید عروج اختر رضوی اور تمام خانوادہء رضوی سادات خاندان ہے رضوی خاندان کے تمام افراد بشمول سید قائم مہدی رضوی ، سید قیصر مہدی رضوی ، سید صدف مہدی رضوی ، سید نجف مہدی رضوی مرکزی جلوس کی قیادت کرتے ہیں
رضوی خاندان عقیدت و احترام سے یہ مذہبی فریضہ نبھاتا ہے

رضوی خاندان کے بزرگان دین زہد و تقویٰ میں کمال مقام رکھتے تھے

بیان کیا جاتا ہے کہ
ایک دفعہ کسی صاحب حیثیت نے خمس کی مد میں اناج سے لدے اونٹ قبلہ آغا حکیم سید اختر ختر حسن رضوی اعلی اللہ مقامہ کی خدمت میں بھیجے
تو آپ نے انہیں ٹھہرنے کا کہا
اور گھر تشریف لے گئے
اہلیہ محترمہ سے پوچھا
کیا گھر میں رات کے لیے کھانے کا سامان موجود ہے ؟
جواب ملا : جی ہاں !

قبلہ آغا حکیم سید اختر حسن رضوی فورا واپس تشریف لائے ،
اونٹوں کو بٹھا کر بالٹیاں بھر بھر کر پانی پلایا ،
ساتھ آئے آدمیوں کو کھانا کھلایا
اور انہیں کہا کہ بھیا
ہمارے گھر میں رات کا راشن موجود ہے
اس لیے یہ اونٹوں پر لدا خمس کا مال واپس لے جائیں
اور کسی مستحق سید خاندان کو دیدیں

ایک درویش کی اپنے خدا پر اس طرح کی توکل بندگی ء خدا کے سمندر میں غوطہ زن صاحب ایمان انسان کی عظمت کی واضح نشانی ہے

قبلہ آغا حکیم سید آختر حسن رضوی اعلی اللہ مقامہ انسانیت کا درد رکھنے والی عظیم المرتبت شخصیت تھے
حقوقِ اللہ کے ساتھ
حقوقِ العباد کا بہت خیال رکھتے تھے

ایک واقعہ روایت کیا جاتا ہے کہ
آپ کے پڑوس میں ایک بچے کی پیدائش ہوئی تو دوران زچگی ماں کی موت واقع ہو گئی
اور اس گھر میں غربت کی وجہ سے نوبت فاقوں پر تھی یہاں تک کہ بچے کیلئے دودھ بھی دستیاب نہ تھا

جب قبلہ آغا حکیم سید اختر حسن رضوی اعلی اللہ مقامہ کو یہ خبر ملی،
آپکو بچے کی بہت پریشانی ہوئی

اپنے معتمد خاص کو بلایا
اور اسے کہا کہ بچے کے دودھ کے انتظام کیلئے ایک ترکیب ہے اس پر عمل کرو

معتمد خاص کے استفسار پر
قبلہ نے کہا کہ رات کو نماز تہجد کے وقت میں اپنی گائے کھول دوں گا جو صبح سویرے خود بخود واپس آ جائیگی
اور تم کہنا کہ قبلہ کی گائے نے فلاں کے کھیت سے چارہ کھایا ہے

معتمد خاص نے صبح اس پر عمل کیا تو قبلہ آغا حکیم سید اختر حسن رضوی اعلی اللہ مقامہ نے کہا
کہ چونکہ میری گائے نے مالک کی اجازت کے بغیر کسی کھیت سے چارہ کھایا ہے
اس لیے اب اسکا دودھ میں نہیں پی سکتا
لہزا اب یہ گائے میری نہیں رہی
جسکو دینی ہے اسے دیدو

معتمد خاص نے کہا کہ قبلہ جب آپ نے یہ گائے اپنے پاس نہیں رکھنی
اور کسی کو دینی ہے
تو کیوں نہ یہ گائے انہیں دیدی جائے جن کے گھر میں نومولود بچے کیلئے دودھ کی اشد ضرورت ہے !!!
اور
پھر ایسا ہی ہوا کہ گائے نومولود بچے کے دودھ کے لیے انکے دروازے پر پہنچا دی گئی

اسطرح قبلہ آغا حکیم سید اختر حسن رضوی اعلی اللہ مقامہ نے بچے کے دودھ کا انتظام اس رازداری سے کیا کہ کسی کو اسکی خبر بھی نہ ہو ،
بچے کے گھر والوں کی عزت نفس بھی ہمیشہ کیلئے محفوظ رہے اور نہ انہیں کل کو کوئی احسان جتلا سکے
سنتے آئے ہیں کہ
نیکی کر دریا میں ڈال،

کسی کی مدد ایسے کرو
کہ ایک ہاتھ سے دو
تو دوسرے ہاتھ کو پتہ نہ چلے ،

قبلہ آغا حکیم سید اختر حسن رضوی اعلی اللہ مقامہ نے اپنی زندگی میں اسکا عملی مظاہرہ ایسے کر کے دکھایا کہ انکی زندگی میں قبلہ کے اہلخانہ بھی اس سے بے خبر رہے اور قبلہ کی وفات کے کافی عرصے بعد معتمد خاص نے ایک موقع پر قبلہ آغا حکیم سید اختر حسن رضوی اعلی اللہ مقامہ کے لواحقین پر اس قصے کی حقیقت یوں آشکار کی کہ
قبلہ آغا حکیم سید اختر حسن رضوی اعلی اللہ مقامہ حقوقِ العباد کی ادائیگی کرتے ہوئے بچے کے دودھ کے انتظام کیلئے یہ طریقہ اختیار کیا

علامہ آغا سید ضمیر الحسن رضوی نجفی اعلی اللہ مقامہ کی زندگی بھی خوف خدا وندی، زہد و تقویٰ کا عملی نمونہ تھی

یہ واقعہ مشہور ہے کہ
علامہ آغا سید ضمیر الحسن رضوی نجفی اعلی اللہ مقامہ کی گھوڑی کھل گئی

گھوڑی کو پکڑنے کیلئے قبلہ نے اپنی قیمض کے دامن کو اسطرح اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا
گویا گھوڑی کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا
جیسے اپنے دامن میں گھوڑی کو کھلانے کے لیے دانے لیے کھڑے ہوں
جبکہ قبلہ کا دامن تو خالی تھا
یہ طریقہ تو محض گھوڑی کو پکڑنے کیلئے اختیار کیا
مالک کے اشارے پہ گھوڑی چلی آئی اور اسے پکڑ لیا

خیر!
گھوڑی پکڑنے کے بعد علامہ آغا سید ضمیر الحسن رضوی نجفی اعلی اللہ مقامہ فرش خاکی پر بیٹھ گئے اور چہرے پر اضطراب و غم کے آثار نمایاں تھے

رنجیدہ چہرہ دیکھتے ہوئے بڑے بھائی قبلہ آغا حکیم سید اختر حسن رضوی اعلی اللہ مقامہ نے علامہ آغا سید ضمیر الحسن رضوی نجفی اعلی اللہ مقامہ سے اس عالم کی وجہ دریافت کی
جسپر علامہ آغا سید ضمیر الحسن رضوی نجفی اعلی اللہ مقامہ نے بتایا کہ چونکہ دانوں کا دکھاوا کر کے میں نے گھوڑی پکڑی ہے جو کہ دھوکے کے زمرے میں آتا ہے
اس لیے آج سے میں مسجد میں باجماعت واجب نمازوں کی امامت کے قابل نہیں رہا

اور اسکے بعد علامہ آغا سید ضمیر الحسن رضوی نجفی اعلی اللہ مقامہ نے اپنی زندگی میں آخر دم تک نماز کی امامت کبھی نہ کروائی

خانوادہء رضوی سادات کے بزرگان دین عالم باعمل کے اعلی درجے پر فائز تھے

یہ وہ عظیم شخصیات گزری ہیں جنہوں نے اپنے عمل سے ،
اپنے کردار سے ، گفتار سے دین کی تبلیغ کی
اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دی

قبلہ آغا حکیم سید اختر حسن رضوی اعلی اللہ مقامہ بطور طبیب بلا معاوضہ لوگوں کا علاج کرتے تھے اور احمدپورسیال کے معروف حکیم سعی محمد خان سیال رح کے ہم عصر تھے
جب کبھی حکیم سعی محمد خان سیال رح کو طبعاً کوئی عارضا درپیش ہوتا تو اپنے یا کسی خاص علاج کیلئے قبلہ آغا حکیم سید اختر حسن رضوی اعلی اللہ مقامہ کو اپنے پاس بلا لیا کرتے اور باہمی مشاورت سے علاج تجویز کیا کرتے

قبلہ اغا حکیم سید اختر حسن رضوی اعلی اللہ مقامہ نے برادر عزیز علامہ آغا سید ضمیر الحسن رضوی نجفی اعلی اللہ مقامہ سے ملکرملت جعفریہ کے مقامی زعماء سے مشاورت کی

اور 1952 میں جگہ خرید کر مدرسہ جامعۃ الغدیر احمدپورسیال کی بنیاد رکھی

1962 میں مدرسہ کی تعمیر و تکمیل کا خواب شرمندہء تعبیر ہوا

1967 میں حوزہ علمیہ نجف اشرف ( عراق ) سے فرزند مجتہد آقائے محسن طباء طبائی نے اپنے دست مبارک سے مدرسہ جامعۃ الغدیر کا افتتاح کیا

مدرسہ جامعۃ الغدیر ٹرسٹ احمدپورسیال کا قیام قبلہ آغا حکیم سید اختر حسن رضوی اعلی اللہ مقامہ اور علامہ آغا سید ضمیر الحسن رضوی نجفی اعلی اللہ مقامہ کا ایک عظیم دینی کارنامہ ہے جہاں سے فارغ التحصیل علماء کرام و ذاکرین عظام اندرون و بیرون ملک محراب و منبر سے دین کی خدمت اور عزاداری سید الشہداء ع کی آبیاری کر رہے ہیں

قبلہ آغا حکیم سید اختر حسن رضوی اعلی اللہ مقامہ نے زہد و تقویٰ کی پاکیزہ چادر میں اپنے گوہر نایاب فرزند علامہ آغا سید نسیم عباس رضوی نور اللہ مرقدہ کو اس طرح پروان چڑھایا کہ آج چار سو عالم علامہ آغا سید نسیم عباس رضوی نور اللہ مرقدہ کے بیان کردہ افکار محمد و آل محمد علیہم السلام کی کرنوں سے منور اور گلدستہء فضائل سے مہک رہا ہے
# حبیب منظر نمائندہ روزنامہ جنگ جیو نیوز
صدر تحصیل پریس کلب احمدپورسیال 03027691808